ْوزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کا بنوں کا دورہ، اسٹریٹ موومنٹ ریلی کی قیادت کی

امن کی بحالی، قانون و انصاف کی بالادستی اور حقیقی آزادی کیلئے جدوجہد جاری ہے، 27 ستمبر کا مارچ فیصلہ کن ہوگا ستمبر تقدیر اور تاریخ بدلنے کا دن ہے، عوام کو اپنے اور آنے والی نسلوں کے لئے نکلنا ہوگا، وزیراعلیٰ کا خطاب

اتوار 16 اگست 2026 20:20

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 اگست2026ء) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں ضلع بنوں کا ایک روزہ دورہ کیا، جہاں انہوں نے اسٹریٹ موومنٹ ریلی کی قیادت کی اور شرکاء سے خطاب کیا۔ اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی صدر جنید اکبر خان، صوبائی وزراء شفیع جان، مینا خان آفریدی، ایم این اے شاہد خٹک اور دیگر صوبائی و مقامی رہنماؤں نے ریلی میں شرکت کی۔

وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے بنوں کے عوام کا گرمی کی شدت کے باوجود بڑی تعداد میں ریلی میں شرکت اور شاندار استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ جوش و جذبہ برقرار رہنا چاہیے۔ 27 ستمبر کو فیصلہ کن مارچ ہوگا اور اس کے لیے بہترین تیاری کرنا ہوگی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اس بار ملک و قوم کی تقدیر اور تاریخ بدلنے کا مرحلہ ہے اور عوام نے اپنی تقدیر خود بدلنے کے لیے کردار ادا کرنا ہے، کیونکہ اس مقصد کے لیے باہر سے کوئی نہیں آئے گا۔

صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں 2022 تک امن قائم تھا، اس کے بعد پیدا ہونے والے حالات سب کے سامنے ہیں۔ موجودہ حکومت اور اسے اقتدار میں لانے والے عناصر صوبے میں امن کی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا گزشتہ دو دہائیوں سے تجربہ گاہ بنا ہوا ہے اور یہاں کے عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھا جاتا ہے، تاہم صوبائی حکومت صوبے اور عوام کے خلاف ہونے والے ہر فیصلے کی مخالفت کرے گی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے امن کے قیام کے لیے ہزاروں جانوں کی قربانیاں دی ہیں، لیکن بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں نے امن کو تباہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امن کا قیام ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے اور صوبائی حکومت اپنی ترجیحات کے مطابق امن کی بحالی کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے۔ محمد سہیل آفریدی نے پولیس فورس کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس امن کی بحالی اور عوام کے تحفظ کے لیے سینہ سپر ہے۔

صوبائی حکومت پولیس فورس کو ہر طرح کی معاونت فراہم کر رہی ہے۔ پولیس کے لیے 191 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے، جبکہ پولیس انفراسٹرکچر کی ترقی، جدید آلات کی فراہمی اور اہلکاروں کی تربیت پر بھی اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ 2018 سے 2022 تک عوامی مفاد میں کیے گئے فیصلوں کے نتیجے میں ملک میں امن اور خوشحالی کی صورتحال بہتر تھی، جبکہ آج صورتحال یہ ہے کہ عدالتیں بھی یرغمال ہیں اور ملک کا مقبول ترین لیڈر ناحق جیل میں ہے۔

عام آدمی اور اس کے حقوق کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ قانون سب کے لیے یکساں اور انصاف سب کے لیے برابر ہو تو 27 ستمبر کو نکلنا ہوگا۔ موجودہ حکمرانوں کو ملک اور عوام کی کوئی فکر نہیں، یہ اپنے مفادات کے تحفظ میں مصروف ہیں۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ جس نے ملک میں امن قائم کیا اور قوم کی عزت نفس بحال کی، وہ عمران احمد خان نیازی ہیں، جو قوم کے مستقبل کے لیے ناحق قید کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپنے قائد کی رہائی، حقوق کے تحفظ اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد کی وہ خود قیادت کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ حقیقی آزادی کی جدوجہد میں عدلیہ اور میڈیا کی آزادی بھی بحال کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص حق اور سچ بولتا ہے، اسے ارشد شریف کی طرح خاموش کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر حق اور سچ بولنے والے تمام صحافیوں کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔

انہوں نے نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ غلامی میں رہنا ہے یا آزاد زندگی گزارنی ہے۔ آزاد زندگی کے لیے عمران خان کے ساتھ کھڑا ہونا اور اپنے مستقبل کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ زندگی اور موت، عزت اور ذلت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، اس لیے کسی سے ڈرنے کے بجائے اپنے حقوق کا دفاع کرنا چاہیے۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے ریلی کے شرکاء ، خصوصاً نوجوانوں، پر زور دیا کہ وہ اپنی منزل پر نظر رکھیں، تیاری جاری رکھیں اور ایمان و یقین کے ساتھ آگے بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس جدوجہد میں اتحاد اور یکجہتی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں اور عوام کا موجودہ جوش و جذبہ اور اتحاد مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔