24 کروڑ آبادی، صرف چار صوبی؛ پاکستان کے انتظامی ڈھانچے پر نئی بحث

روس کی 89 وفاقی اکائیوں کا حوالہ، پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی تجویز ایک بار پھر قومی بحث کا حصہ بن گئی

پیر 17 اگست 2026 14:06

اسلام آباد/کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 اگست2026ء) پاکستان کی آبادی 24 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ ملک بنیادی طور پر چار بڑے صوبوں پر مشتمل ہے، ایسے میں موجودہ انتظامی ڈھانچے، گورننس اور عوام تک ریاستی خدمات کی رسائی کے حوالے سے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی ہے۔روس کی سرکاری شماریاتی ایجنسی کے مطابق روس کی آبادی تقریباً 14 کروڑ 61 لاکھ ہے اور وہاں 89 وفاقی اکائیاں قائم ہیں۔

دوسری جانب پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی 2023 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی 24 کروڑ 15 لاکھ ہے، جس میں پنجاب کی آبادی تقریباً 12 کروڑ 77 لاکھ، سندھ کی 5 کروڑ 57 لاکھ، خیبر پختونخوا کی 4 کروڑ 9 لاکھ اور بلوچستان کی تقریباً ایک کروڑ 49 لاکھ ہے۔

(جاری ہے)

تقابلی جائزے کے مطابق پاکستان کا سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ پنجاب اکیلا روس کی مجموعی آبادی کے قریب پہنچ چکا ہے، تاہم اس کے باوجود اتنی بڑی آبادی ایک ہی صوبائی انتظامیہ کے تحت چلائی جارہی ہے۔

ماہرین کے مطابق صرف آبادی کو بنیاد بنا کر انتظامی اکائیوں کا تعین نہیں کیا جاسکتا، تاہم آبادی، رقبے، انتظامی فاصلے اور عوامی ضروریات میں مسلسل اضافے کے باعث موجودہ نظام کا ازسرنو جائزہ ضروری ہوگیا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے موجودہ نظام حکمرانی کو مؤثر بنانے کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کی ضرورت پر زور دیے جانے کے بعد بھی اس معاملے پر سیاسی اور عوامی سطح پر بحث جاری ہے۔

مختلف حلقوں کی جانب سے پاکستان کو 8، 10 یا 12 صوبوں میں تقسیم کرنے سمیت موجودہ ڈویڑنوں کو صوبائی حیثیت دینے کی تجاویز بھی سامنے آتی رہی ہیں۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کا قیام محض سیاسی، لسانی یا علاقائی بنیادوں پر نہیں ہونا چاہیے بلکہ آبادی، جغرافیہ، انتظامی فاصلے، معاشی استعداد، تاریخی و ثقافتی شناخت، وسائل اور عوامی رضامندی کو بنیادی معیار بنایا جانا چاہیے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان جیسے وسیع رقبے کے صوبے کے لیے انتظامی فاصلے اہم مسئلہ ہیں، جبکہ گنجان آباد علاقوں میں آبادی کا دباؤ انتظامی تقسیم کی ضرورت پیدا کرسکتا ہے۔ اس لیے پورے ملک کے لیے ایک ہی فارمولا نافذ کرنے کے بجائے ہر خطے کی مخصوص ضروریات کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ماہرین نے تجویز دی ہے کہ حکومت نئے صوبوں کے معاملے پر فوری سیاسی فیصلے کے بجائے پارلیمانی سطح پر قومی کمیشن قائم کرے، جس میں آئینی ماہرین، معاشی ماہرین، جغرافیہ دان، مردم شماری کے ماہرین، بلدیاتی نظام کے ماہرین اور تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے نمائندے شامل ہوں۔

اس کمیشن کے ذریعے 8، 10 اور 12 صوبوں سمیت مختلف انتظامی ماڈلز کا جائزہ لے کر ان کے مالی، انتظامی اور آئینی اثرات کا تعین کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ ڈویڑنوں کو صوبوں میں تبدیل کرنے کی تجاویز کا بھی باقاعدہ مطالعہ ضروری قرار دیا جارہا ہے۔ماہرین کے مطابق نئے صوبوں کے قیام کا مقصد نئی وزارتیں، اسمبلیاں، گورنر ہاؤسز اور سرکاری اخراجات میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ ریاستی انتظام کو عوام کے قریب لانا ہونا چاہیے۔

نئے انتظامی یونٹس کے ساتھ بااختیار بلدیاتی نظام بھی ضروری ہے تاکہ پانی، صفائی، بنیادی صحت، پرائمری تعلیم، مقامی سڑکوں اور دیگر شہری سہولتوں کے فیصلے نچلی سطح پر کیے جاسکیں۔نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے وسائل کی تقسیم بھی ایک اہم معاملہ ہوگا۔ پانی، گیس، معدنیات، صوبائی محصولات، سرکاری ملازمین، اثاثوں اور قرضوں کی تقسیم کے ساتھ قومی مالیاتی نظام میں نئے انتظامی یونٹس کے حصے کا تعین بھی پہلے سے کرنا ہوگا۔

تجزیہ کاروں نے کہا کہ نئے مالیاتی فارمولے میں صرف آبادی کے بجائے غربت، پسماندگی، رقبہ، محصولات، بنیادی سہولتوں کی کمی اور سرحدی ضروریات جیسے عوامل کو بھی شامل کیا جانا چاہیے تاکہ پسماندہ علاقوں کو مناسب وسائل فراہم کیے جاسکیں۔گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی مخصوص آئینی و انتظامی حیثیت کو بھی اس بحث میں مدنظر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا جارہا ہے۔

ماہرین کے مطابق ان علاقوں کو عام صوبائی تقسیم کا حصہ بنانے کے بجائے ان کی موجودہ حیثیت، جغرافیائی اہمیت اور مخصوص ضروریات کے مطابق انتظامی و مالی نظام مزید مؤثر بنایا جانا چاہیے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ نئے صوبوں کی بحث کو لسانی، نسلی یا سیاسی تنازع بنانے سے گریز کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق اصل مقصد کسی صوبے کی طاقت کم کرنا نہیں بلکہ حکومت کو زیادہ مؤثر، شفاف اور عوام کے قریب لانا ہونا چاہیے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق کہ پاکستان کو روس کی طرز پر 89 وفاقی اکائیوں کی ضرورت نہیں، تاہم 24 کروڑ سے زائد آبادی رکھنے والے ملک کے لیے یہ سوال اہم ہے کہ موجودہ چار بڑے صوبے مستقبل کی بڑھتی ہوئی آبادی اور پیچیدہ انتظامی ضروریات کو مؤثر انداز میں سنبھالنے کے لیے کافی ہیں یا نہیں۔ان کے مطابق نئے صوبوں کی کامیابی کا پیمانہ ان کی تعداد نہیں بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ عام شہری کو تعلیم، صحت، روزگار، پولیس، انصاف، صاف پانی اور دیگر بنیادی سرکاری سہولتیں پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیزی، شفافیت اور آسانی سے دستیاب ہوتی ہیں یا نہیں۔

اگر انتظامی اصلاحات عوامی سہولت، وسائل کی منصفانہ تقسیم، بااختیار بلدیاتی نظام اور بہتر گورننس کا ذریعہ بنیں تو نئے صوبے وفاق کو کمزور کرنے کے بجائے ریاستی نظام کو مزید مؤثر اور مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔