کراچی کے مسائل کا حل انتظامی اصلاحات میں ہے، مصطفی کمال

کراچی کی درست مردم شماری، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور بہتر انتظامی نظام ناگزیر ہے، وفاقی وزیر صحت

ہفتہ 22 اگست 2026 20:15

�راچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 اگست2026ء) وفاقی وزیر صحت اور ایم کیوایم پاکستان کے سینئررہنما سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والا شہر ہے، مگر موجودہ نظام کراچی کے عوام کے لیے تکلیف دہ ثابت ہو رہا ہے۔ کراچی کی درست مردم شماری، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور بہتر انتظامی نظام ناگزیر ہے۔

وہ آباد ہاؤس میں آباد کے چیئرمین محمد حسن بخشی، عہدیداران اور ممبران سے ملاقات کے بعدمنعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر سینئر ایم کیو ایم رہنما انیس قائم خانی بھی موجود تھے۔سید مصطفی کمال نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد اختیارات صوبوں کو منتقل کیے گئے، تاہم کراچی کو اس کے جائز حقوق اور وسائل نہیں مل سکے۔

(جاری ہے)

انہوں نے دعویٰ کیا کہ این ایف سی اور دیگر مدات میں کراچی کے حصے کی رقم شہر کے انفرااسٹرکچر پر خرچ ہونی چاہیے تھی۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کو 50 فیصد سے زائد ریونیو فراہم کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود شہر میں پینے کے پانی سمیت بنیادی سہولیات کا فقدان ہے اور نجی ٹینکرز شہر کو پانی فراہم کر رہے ہیں۔ کورنگی اور سائٹ جیسے بڑے صنعتی علاقے کراچی میں موجود ہیں، اس لیے شہر کے انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانا ملکی معیشت کے لیے بھی ضروری ہے۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ہمیں کراچی کی صحیح گنتی چاہیے۔

موجودہ مردم شماری کے اعداد و شمار کو ہم تسلیم نہیں کرتے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کراچی کی آبادی کو ماضی میں کم ظاہر کیا گیا اور بعد میں ہونے والی مردم شماری میں کراچی کی آبادی دو کروڑ سے زائد شمار کی گئی۔مصطفی کمال نے کہا کہ دنیا چاند پر پہنچ رہی ہے جبکہ کراچی میں بچے گٹروں میں گر کر جان سے جا رہے ہیں اور کتے کے کاٹنے سے اموات ہو رہی ہیں۔

سندھ حکومت کی جانب سے کراچی پر اربوں روپے خرچ کرنے کے دعووں کے باوجود شہر کا شمار دنیا کے بدترین شہروں میں ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپنے صوبوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے تو پاکستان میں بھی انتظامی بنیادوں پر مزید صوبوں یا انتظامی یونٹس کی بات کیوں نہیں کی جا سکتی۔ صوبوں کے قیام کا طریقہ کار آئین میں موجود ہے، اس لیے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی بات کرنا کوئی کفر نہیں۔

سید مصطفی کمال نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی واضح کیا تھا کہ جب صوبوں کی بات ہوگی تو ہم اس کی حمایت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی یونٹس کی بات پہلے کی جاتی تو اسے بیرونی ایجنڈا قرار دے دیا جاتا، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ ملک اور عوام کے مفاد میں سنجیدگی سے بات کی جائے۔وفاقی وزیر صحت نے صحت کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہیلتھ کارڈ کے لیے انہوں نے کئی کوششیں کیں لیکن کامیاب نہیں ہو سکے۔

وزیراعظم سے بھی درخواست کی گئی تو جواب ملا کہ یہ صوبوں کا کام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں صحت کے شعبے پر بھاری رقم خرچ ہونے کے باوجود سندھ کے اسپتالوں کی صورتحال سے عوام کی بڑی تعداد مطمئن نہیں۔انہوں نے کہا کہ محدود رقم میں بھی ملک کے عوام کو بہتر ہیلتھ کیئر سروس فراہم کی جا سکتی ہے۔ سندھ کے عوام کو ہیلتھ کارڈ کی سہولت ملنی چاہیے تاکہ انہیں معیاری علاج کی سہولیات میسر آسکیں۔

مصطفی کمال نے کہا کہ موجودہ ایم کیو ایم ماضی کی ایم کیو ایم نہیں، آج نوجوان ہمارے نظریے سے جڑ رہے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم فرشتے ہو گئے ہیں، غلطیاں ہر جگہ ہوتی ہیں، تاہم ماضی کے تلخ تجربات سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے پاس اس وقت قومی اسمبلی میں 22 نشستیں ہیں۔ اگر ہم دہشت گردی کی پیداوار ہوتے تو ماضی میں ملک کی بڑی سیاسی قیادت ہمارے مرکز نائن زیرو کیوں آتی رہی انہوں نے کہا کہ صوبوں کے معاملے پر شرجیل میمن کی جانب سے ایم کیو ایم کو دہشت گردی کی پیداوار قرار دینے کی کوئی منطق نہیں۔

اس موقع پر آباد کے چیئرمین محمد حسن بخشی نے وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کراچی کے بیٹے کی حیثیت سے آباد ہاؤس آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں۔محمد حسن بخشی نے کہا کہ آباد 1979 میں قائم ہوئی اور ملک بھر کے بلڈرز کی نمائندہ تنظیم ہے۔ تعمیراتی صنعت پاکستان کی دوسری بڑی صنعت ہے، اگر تعمیراتی صنعت چلے گی تو ملک میں ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ آباد فائلوں کے کاروبار کی حمایت نہیں کرتی۔ موجودہ حالات میں برداشت کی کمی نظر آ رہی ہے، ہمیں ایسے دور سے گزرنا ہے جہاں ایک دوسرے کی رائے کو اہمیت دینا ضروری ہے۔حسن بخشی نے کہا کہ تعمیراتی شعبے میں آباد تقریباً 5 ارب ڈالر کا کام کر رہی ہے اور شہر میں بلند عمارتیں تعمیر ہو رہی ہیں۔ حکومت کو تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے مستقل پالیسی بنانی چاہیے تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔

انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کے لوگوں کو سیاسی جماعتوں میں شمولیت کا موقع ملنا چاہیے۔ آباد اس حوالے سے ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں سے بات کرے گی۔ ہماری خواہش ہے کہ بزنس کمیونٹی ایوانوں میں جا کر قانون سازی کے ذریعے عوام کی خدمت کرے۔چیئرمین آباد نے کہا کہ سیاست ایک امانت ہے اور اسے دیانت داری کے ساتھ کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں ٹیکنوکریٹ کی نشستیں پہلے سے موجود ہیں، تاہم بزنس کمیونٹی چاہتی ہے کہ وہ عوامی حمایت کے ساتھ انتخابات جیت کر ایوانوں میں پہنچے اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر ملک کی ترقی میں کردار ادا کرے۔انہوں نے سندھ کے عوام کے لیے ہیلتھ کارڈ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سابق حکومت کے دور میں ہیلتھ کارڈ ایک اچھا اقدام تھا، حکومتیں آتی جاتی اور پالیسیاں تبدیل ہوتی رہتی ہیں، تاہم صحت کی سہولت عوام کا بنیادی حق ہے۔ سندھ کے لوگوں کو ہیلتھ کارڈ کی سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔