Live Updates

مشرق وسطیٰ: بحری راستوں میں رکاوٹوں سے خوراک کا بحران سنگین، گوتیرش

یو این بدھ 26 اگست 2026 05:45

مشرق وسطیٰ: بحری راستوں میں رکاوٹوں سے  خوراک کا بحران سنگین، گوتیرش

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 26 اگست 2026ء) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز، بحیرہ اسود اور آبنائے باب المندب میں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے دنیا کے مختلف حصوں میں جاری بھوک کا بحران مزید سنگین ہو گیا ہے جس پر فوری قابو پانا ہو گا۔

سیکرٹری جنرل نے نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا کہ امریکا، ایران اور اسرائیل، روس اور یوکرین اور یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان جاری مسلح تنازعات میں عالمی سطح پر خوراک کی ترسیل بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

سمندری گزرگاہوں کو ایک دوسرے پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور خوراک، توانائی اور ضروری اشیا کی ترسیل میں رکاوٹ ناقابل قبول ہے۔

Tweet URL

انتونیو گوتیرش نے کہا کہ بحری جہازوں کے لیے ان گزرگاہوں میں آزادانہ اور بلا رکاوٹ سفر کے حقوق اور آزادیوں کا استعمال امن، سلامتی اور مشترکہ خوشحالی کی بنیاد ہے جس کا احترام کیا جانا چاہیے۔

(جاری ہے)

تجارتی نقل و حمل میں خلل

فروری میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے دوران آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری آمدورفت تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ امریکی اور ایرانی افواج اپنی نگرانی میں آبنائے کے الگ الگ حصوں میں تیل بردار جہازوں کو گزرنے میں مدد دے رہی ہیں۔ سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ اس آبنائے میں بحری آمدورفت کم ہو جانے کے باعث تیل کی قیمتوں اور کنٹینر کی ترسیل کے نرخوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں خوراک اور کھاد کی قیمتیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

تاریخی طور پر سمندری راستے سے تیل کی 12 فیصد تجارت باب المندب سے گزرتی رہی ہے جبکہ تقریباً 20 فیصد رسد آبنائے ہرمز سے گزرتی آئی ہے۔

تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاو

موجودہ تنازعات نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ اور اضافے کو جنم دیا ہے۔ بحیرہ اسود میں بھی روسی اور یوکرینی افواج نے حالیہ مہینوں میں بندرگاہوں اور مال بردار بحری جہازوں پر حملے تیز کر دیے ہیں جس سے عالمی سطح پر اناج کی رسد کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

یہ تینوں تنازعات مل کر خوراک کی پیداوار اور اسے ایک سے دوسری جگہ پہنچانے کے اخراجات میں اضافہ کر رہے ہیں۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ یہ بحران عالمی تجارت کی شریانوں کو جکڑ رہے ہیں اور عالمگیر غذائی نظام کو شدید دباؤ میں ڈال رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ خوراک کی قیمتوں میں اضافے، بھوک میں شدت، فصلوں کی پیداوار میں کمی اور مزید انسانی مصائب کی صورت میں برآمد ہو رہا ہے۔

بین الاقوامی قانون کی پاسداری کا مطالبہ

اقوام متحدہ کے کنونشن برائے قانون سمندر(یو این کلوز) کے تحت آبنائے سے متصل ممالک جہازوں کے سفر میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتے تاہم امریکا، ایران اور اسرائیل نے اس معاہدے کی توثیق نہیں کی۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ بحری آمدورفت کے حقوق اور آزادیاں محض نظری اصول نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون کا حصہ ہیں۔

یہ حقوق اور آزادیاں عالمی امن اور سلامتی کے لیے نہایت اہم ہیں۔

انہوں نے اس حوالے سے مارچ میں قائم کی گئی ایک ٹاسک فورس کو مسئلے کے کسی ممکنہ حل کا حصہ قرار دیا۔ یہ ٹاسک فورس آبنائے ہرمز سے انسانی بنیادوں پر محفوظ، منظم اور قابل بھروسہ بحری آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے قائم کی گئی تھی جس کی ابتدائی توجہ کھاد اور اس کے لیے درکار خام مال کی ترسیل پر ہے۔ تاہم، اس کا دائرہ کار دیگر اشیا تک بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔

سیکریٹری جنرل نے اسے ایک عارضی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس وقت تک جاری رہ سکتا ہے جب تک رکن ممالک بحری آمدورفت کی مکمل آزادی بحال نہیں کر دیتے۔ دنیا بھر میں لاکھوں کمزور اور ضرورت مند لوگوں کے تحفظ کے لیے اس آزادی کی بحالی ضروری ہے۔

Live سعودی عرب سے متعلق تازہ ترین معلومات