ٹیکس نظام میں آسانی، کاروباری برادری کو ریلیف حکومت کی ترجیح ہی: بلال اظہر کیانی

ًایف بی آر میں نیا ٹیکس نظام بھی متعارف کرایا جا رہا ہے وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات اور ریلوے ٰ ایف بی آر میں اصلاحات اور کاروباری لاگت کم کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں ، فہیم الرحمن سہگل

ہفتہ 5 ستمبر 2026 19:00

7لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 05 ستمبر2026ء) وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات اور ریلوے بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ حکومت نے کاروباری افراد، برآمد کنندگان، ملازمت پیشہ افراد اور چھوٹے تاجروں کو ریلیف دینے کے لیے ٹیکس نظام میں اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ حکومت ایف بی آر کو زیادہ شفاف، کاروبار دوست اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ادارہ بنانے کے لیے بھی کام کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ برآمد کنندگان اور سالانہ 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے تک آمدن والے کاروباروں پر سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ 50 کروڑ روپے سے زیادہ آمدن والی کمپنیوں کے لیے سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دی گئی ہے۔ برآمد کنندگان کے لیے برآمدی آمدن پر ٹیکس کی کٹوتی بھی 2 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کر دی گئی ہے۔

(جاری ہے)

بلال اظہر کیانی نے کہا کہ ایف بی آر میں نیا ٹیکس نظام بھی متعارف کرایا جا رہا ہے جس میں آڈٹ اور ٹیکس اسیسمنٹ کا نظام مرکزی اور بغیر براہِ راست رابطے کے ہوگا۔ اس کا مقصد افسران کے صوابدیدی اختیارات، ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے اور ملی بھگت کے امکانات کو کم کرنا ہے۔وہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں خطاب کر رہے تھے جہاں لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے ان کا استقبال کیا۔

سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، سابق صدر ایف پی سی سی آئی و لاہور چیمبر میاں انجم نثار، سابق صدر لاہور چیمبر ملک طاہر جاوید، ایف بی آر کمشنر آمنہ کمال، کمشنر ایف بی آر شبانہ عزیز اور ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین عامر علی، سید سلمان علی، احد امین ملک، محسن بشیر، رانا شعبان اختر، ندیم انصاری اور عرفان قریشی بھی موجود تھے۔لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے وزیر مملکت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ لاہور چیمبر میں تقریباً 48 ہزار کاروباری ادارے ممبر ہیں، جن میں تاجر، صنعتکار اور چھوٹے و درمیانے کاروبار شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ موجودہ 2024-26 مدت کے دوران لاہور چیمبر کی ممبرشپ تقریباً 32 ہزار سے بڑھ کر 48 ہزار ہو گئی ہے۔انہوں نے بلال اظہر کیانی کے کاروباری برادری کے ساتھ مسلسل رابطے کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں کچھ مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ ترسیلات زر 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں جبکہ موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ Caa1 سے بڑھا کر B3 کر دی ہے۔

فہیم الرحمن سہگل نے تاہم کہا کہ ٹیکس، کاروبار کرنے کی لاگت اور بجلی کے زیادہ نرخ اب بھی کاروباری برادری کے لیے بڑے مسائل ہیں۔ انہوں نے بجلی کے مہنگے نرخوں، مختلف سرکاری اداروں، ایل ڈی اے، روڈا اور ای پی اے سے متعلق مسائل اور صنعتوں کے خلاف کارروائیوں پر بھی توجہ دلائی۔انہوں نے کہا کہ زرعی زمین تیزی سے ہاؤسنگ اسکیموں میں تبدیل ہو رہی ہے، جسے روکنے کی ضرورت ہے۔

حکومت کو زرعی زمین کا تحفظ اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا چاہیے۔انہوں نے 8 ہزار سے 10 ہزار صنعتوں کی ممکنہ منتقلی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اتنے کم وقت میں بڑی تعداد میں صنعتوں کو منتقل کرنے کے لیے ضروری صنعتی زونز اور بنیادی سہولیات موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ صنعتوں کی منتقلی کے معاملے میں عملی اور کاروباری برادری سے مشاورت پر مبنی طریقہ اختیار کیا جائے اور چھوٹے و درمیانے کاروباروں اور موجودہ صنعتوں کو ریلیف دیا جائے۔

بلال اظہر کیانی نے کہا کہ حکومت سمجھتی ہے کہ نجی شعبے کو پالیسی سازی میں اہم کردار ملنا چاہیے۔ وزیراعظم بھی مسلسل ہدایت کر رہے ہیں کہ چیمبرز اور کاروباری تنظیموں کے ساتھ رابطے مزید مضبوط کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ کی تیاری سے پہلے چیمبرز کے نمائندوں کو براہِ راست اپنی تجاویز پیش کرنے کا موقع دیا گیا تاکہ حکومت کاروباری برادری کے مسائل کو بہتر طور پر سمجھ سکے اور قابلِ عمل تجاویز کو پالیسی کا حصہ بنایا جا سکے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ برآمد کنندگان کو بھی ٹیکس میں ریلیف دیا گیا ہے۔ پہلے برآمدی آمدن پر مجموعی طور پر 2 فیصد کٹوتی ہوتی تھی، جس میں 1 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس اور 1 فیصد کم از کم ٹیکس شامل تھا۔ اب یہ کٹوتی کم کر کے 1.25 فیصد کر دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت برآمد کنندگان اور ایف بی آر کے درمیان معاملات کو مزید آسان اور کاروبار دوست بنانے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔

وزیراعظم کی ہدایت پر کراچی، فیصل آباد، لاہور اور سیالکوٹ جیسے بڑے برآمدی مراکز میں ایف بی آر کے خصوصی سہولت مراکز قائم کیے گئے ہیں جبکہ ملتان، حیدرآباد اور دیگر علاقوں کو بھی اس نظام میں شامل کیا جا رہا ہے۔ ان کمیٹیوں میں برآمد کنندگان کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ ان کے مسائل براہِ راست حل کیے جا سکیں۔ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے بارے میں بلال کیانی نے کہا کہ اس کے بورڈ کی تشکیل نو کر دی گئی ہے۔

ایک برآمد کنندہ کو چیئرمین بنایا گیا ہے جبکہ بڑے برآمد کنندگان اور متعلقہ شعبوں کے نمائندوں کو بھی بورڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد برآمدات سے متعلق فیصلوں میں نجی شعبے کا کردار بڑھانا ہے۔انہوں نے کہا کہ کسٹمز میں فیس لیس سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ درآمد کنندگان اور کسٹمز افسران کے درمیان براہِ راست رابطہ کم ہو اور ملی بھگت کے امکانات ختم کیے جا سکیں۔

اسی طرح نیا ٹیکس آپریٹنگ ماڈل متعارف کرایا جا رہا ہے جس کے تحت ٹیکس آڈٹ اور اسیسمنٹ کا عمل مرکزی سطح پر اور بغیر براہِ راست رابطے کے کیا جائے گا، بجائے اس کے کہ یہ کام براہِ راست آر ٹی او کی سطح پر ہو۔انہوں نے بتایا کہ ٹیکس آڈٹ اور اسیسمنٹ کے احکامات ایک مرکزی نظام کے ذریعے ٹیکس ریٹرنز اور دیگر معلومات کی بنیاد پر جاری کیے جائیں گے۔

اس سے غیر ضروری افسرانہ اختیار، ہراساں کرنے اور ملی بھگت کے امکانات کم ہوں گے۔بلال کیانی نے یقین دلایا کہ نظام پر عمل درآمد کے دوران کاروباری برادری کو درپیش مسائل کے حل کے لیے حکومت چیمبرز سے مسلسل مشاورت جاری رکھے گی۔ملازمت پیشہ افراد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت نے انہیں بھی نمایاں ریلیف دیا ہے۔ تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج اور سپر ٹیکس ختم کیا گیا ہے جبکہ تقریباً تمام آمدنی کے سلیبز میں ٹیکس کی شرح کم کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے واضح ہدایت دی ہے کہ جب بھی حکومت کے پاس مالی گنجائش پیدا ہو تو سب سے پہلے ان طبقات کو ریلیف دیا جائے جن پر ٹیکس کا بوجھ نسبتاً زیادہ ہے۔ چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے بارے میں وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت نے کاروباری برادری سے تفصیلی مشاورت کے بعد ایک آسان ٹیکس اسکیم تیار کی ہے۔ اس سلسلے میں اجمل بلوچ اور کاشف چوہدری سمیت تاجر نمائندوں سے بھی مشاورت کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے سابقہ ٹیکس اسکیموں کی خامیوں کا جائزہ لے کر تاجروں کے ساتھ مل کر ایک آسان اور عملی نظام بنایا ہے۔نئی اسکیم کو جان بوجھ کر آسان رکھا گیا ہے تاکہ عام دکاندار بھی اسے آسانی سے سمجھ سکیں اور اس پر عمل کر سکیں۔ یہ اسکیم ایسے چھوٹے تاجروں کے لیے ہوگی جن کی سالانہ فروخت 20 کروڑ روپے تک ہے۔ یہ اسکیم اختیاری ہوگی اور تاجر چاہیں تو عام ٹیکس نظام کے تحت ریٹرن جمع کروا سکتے ہیں۔

بلال کیانی نے کہا کہ اس اسکیم کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ شامل ہونے والے دکانداروں کا صرف پچھلے سالوں کے فرق کی بنیاد پر معمول کا آڈٹ نہیں کیا جائے گا۔ تاہم اگر ایف بی آر کے نظام یا کسی تیسرے فریق کی معلومات سے کوئی واضح اور غیر معمولی فرق سامنے آئے تو آڈٹ کیا جا سکے گا۔انہوں نے کہا کہ اسکیم میں شامل دکانداروں کو ایف بی آر کی ایک پلیٹ بھی دی جائے گی جو دکان کے باہر لگائی جائے گی۔

اس کا مقصد ایف بی آر کے اہلکاروں کے غیر ضروری دوروں اور پوچھ گچھ کو کم کرنا اور تاجروں کو ہراساں کیے جانے سے تحفظ دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس پلیٹ کے ڈیزائن اور طریقہ کار کو بھی ملک کے مختلف حصوں کے تاجروں اور کاروباری نمائندوں سے مشاورت کے بعد حتمی شکل دی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس اسکیم میں شامل تاجروں کو ودہولڈنگ ایجنٹ بننے کی ضرورت نہیں ہوگی اور نہ ہی ان پر پی او ایس مشین لگانے کی شرط ہوگی۔

بلال کیانی نے امید ظاہر کی کہ یہ اسکیم چھوٹے تاجروں کے لیے حقیقی سہولت کا باعث بنے گی، ٹیکس نیٹ کو وسیع کرے گی، مزید کاروباروں کو دستاویزی معیشت میں لائے گی اور ٹیکس کا بوجھ زیادہ منصفانہ انداز میں تقسیم کرنے میں مدد دے گی۔انہوں نے بتایا کہ اندازاً 6 سے 7 لاکھ ایسے دکاندار، جن کے پاس کمرشل بجلی کے میٹر ہیں، پہلے ہی ٹیکس ریٹرن فائل کر رہے ہیں۔ انہوں نے ٹیکس نیٹ بڑھانے میں کاروباری برادری کے تعاون کو سراہا اور کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ کاروباری ادارے اور چیمبرز نئی اسکیم کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔