پی ٹی آئی کا لانگ مارچ؛ حکومتی شخصیت کے بیرسٹرگوہر اور علامہ ناصر سے پس پردہ رابطوں میں اہم پیشرفت

پی ٹی آئی کیلئے ’لائن ڈرا‘ کردی گئی کہ اس سے آگے نہیں جانا، جہاں روکا جائے وہیں پرامن رہنا ہوگا، پی ٹی آئی کو فیس سیونگ چاہیئے، ورکرز کے دباؤ پر لانگ مارچ مئوخر نہیں کرنا چاہتی، صحافی نعیم اشرف بٹ کی خبر

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ 23 ستمبر 2026 19:22

پی ٹی آئی کا لانگ مارچ؛ حکومتی شخصیت کے بیرسٹرگوہر اور علامہ ناصر سے ..
لاہور (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 23 ستمبر 2026ء ) صحافی نعیم اشرف بٹ کی خبر کے مطابق پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے حوالے سے حکومتی شخصیت کے بیرسٹرگوہر اور علامہ ناصر سے پس پردہ رابطوں میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ ایکس پر نعیم اشرف بٹ کی خبر کے مطابق پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر اپوزیشن اور حکومتی شخصیات کے درمیان پس پردہ مذاکرات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، وفاق کی اہم شخصیت کے بیرسٹرگوہر اور علامہ ناصر سے رابطے ہوئے ہیں، دونوں جانب سے لانگ سے متعلق درمیانی راستہ نکالنے پر غور ہوا ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کیلئے ’لائن ڈرا‘ کردی گئی کہ اس سے آگے نہیں جانا، پی ٹی آئی کو بتا دیا گیا کہ لانگ مارچ کو جہاں روکا جائے وہیں پرامن رک جائیں، خصوصاً وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بانی عمران خان کی جانب سے سخت پیغامات ملے ہیں۔

(جاری ہے)

وہ وزیراعلیٰ سے ناخوش ہیں، اور اس کے ساتھ ان پر ورکرز کا بھی دباؤ ہے، ورکرز کے دباؤ کی وجہ سے ان کو فیس سوینگ دی جائے گی، پی ٹی آئی قیادت ورکرز کے دباؤ پر لانگ مارچ مئوخر نہیں کرنا چاہتی۔

اس حوالے سے لانگ مارچ کے دوران دونوں جانب سے دوبارہ مذاکرات بھی ہوں گے، فیصلہ کیا جائے گا کہ لانگ مارچ کا دورانیہ کتنا ہوگا؟ وفاق کی اہم شخصیت کے بیرسٹر گوہر اور علامہ ناصر سے رابطے ہوئے ہیں اس موقع پر وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی بھی آن بورڈ تھے۔
دوسری جانب چئیرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ چاہتے ہیں کہ ہمارا مارچ بھی ہو اور پرامن بھی ہو. اپنے بیان میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ایک حکومتی ٹولہ ہمارے لانگ مارچ کے حوالے سے پروپیگنڈا کر رہا ہے، وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم اداروں پر حملہ آور ہوں گے، یہ حکومتی ٹولہ جو بیانیہ بنا رہا ہے اس کا کوئی بندوبست کرنا ہوگا. پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ہمیں پتا ہے کہ ہم نے کس سے بات کرنی ہے، بات ہونی چاہیے لیکن بدقسمتی سے ابھی بات نہیں ہورہی، سیاسی مسائل کا سیاسی حل نکالنا ہوگا۔