Live Updates

پٹرول ،ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور برآمدی شعبے کو شدید دبائو میں مبتلا کر دیا ،خواجہ محمدحسین

بدھ 23 ستمبر 2026 20:40

ملتان(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 ستمبر2026ء) چیئرمین ملتان ڈرائی پورٹ ٹرسٹ و سابق صدر ملتان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری خواجہ محمد حسین نے کہا ہے کہ فروری 2026میں ایران تنازع شروع ہونے کے بعد عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم پاکستان میں پٹرول اور بالخصوص ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور برآمدی شعبے کو شدید دبائو میں مبتلا کر دیا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت موجودہ 100 روپے فی لیٹر ریلیف اسکیم کو گڈز ٹرانسپورٹ، ٹریکٹرز اور ٹیوب ویلز میں استعمال ہونے والے ڈیزل تک بھی توسیع دے اور اس مقصد کے لیے پٹرولیم لیوی پول سے فنڈز فراہم کیے جائیں۔خواجہ محمد حسین نے کہا کہ فروری 2026 میں ایران تنازع کے آغاز کے بعد پاکستان میں پٹرول کی قیمت میں تقریبا 48 فیصد جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 50فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ اسی عرصے کے دوران عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی قیمت میں تقریباً 38فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سب سے زیادہ دبا ڈیزل استعمال کرنے والے شعبوں پر پڑا ہے، حالانکہ ڈیزل ملک میں فریٹ ٹرانسپورٹ، زراعت اور صنعتی سرگرمیوں کی بنیاد ہے، اس لیے ان شعبوں کو فوری اور براہ راست ریلیف دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جنگ سے قبل برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 72ڈالر فی بیرل تھی جو اپریل میں 120 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی اور اب بھی تقریباً 100ڈالر فی بیرل کے قریب ہے۔

پاکستان میں اسی عرصے کے دوران پٹرول کی قیمت تقریبا 266 روپے سے بڑھ کر 394 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت 280 روپے سے بڑھ کر 422 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ٹیکسز اور لیوی کا بھاری حصہ بھی شامل ہے، جس کے باعث صارفین اور کاروباری شعبے پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔خواجہ محمد حسین نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے موٹر سائیکلوں اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے 100 روپے فی لیٹر ریلیف کا اعلان خوش آئند ہے، تاہم ڈیزل استعمال کرنے والے گڈز ٹرانسپورٹرز، کسانوں، ٹریکٹرز اور ٹیوب ویلز کو بھی اسی نوعیت کا ریلیف فراہم کیا جانا چاہیے، کیونکہ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ براہ راست اشیائے ضروریہ، زرعی پیداوار، فریٹ چارجز اور صنعتی لاگت میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت موجودہ 100 روپے فی لیٹر ریلیف اسکیم کا دائرہ کار گڈز ٹرانسپورٹ، ٹریکٹرز اور ٹیوب ویلز تک بڑھائے اور اس کی فنڈنگ پٹرولیم لیوی پول سے کی جائے تاکہ قومی معیشت کے پیداواری شعبوں کو فوری سہارا مل سکے۔خواجہ محمد حسین نے مزید مطالبہ کیا کہ ایکسپورٹ انڈسٹری خصوصا چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کے لیے خطے کے مطابق بجلی اور گیس کے مسابقتی ٹیرف فوری طور پر نوٹیفائی کیے جائیں، جبکہ اس سلسلے میں بھارت اور بنگلہ دیش کو علاقائی بینچ مارک کے طور پر مدنظر رکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستانی صنعت کو توانائی کے مسابقتی نرخ اور ڈیزل پر بروقت ریلیف فراہم کیا جائے تو صنعت اپنی پیداواری صلاحیت برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ برآمدات میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی صورتحال مختلف رہی ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں جنگ کے بعد پٹرول کی قیمت میں تقریبا 48 فیصد اور ڈیزل میں 50 فیصد اضافہ ہوا، امریکہ میں پٹرول 50 فیصد اور ڈیزل 61 فیصد، سری لنکا میں پٹرول 41 فیصد اور ڈیزل 36 فیصد، بنگلہ دیش میں پٹرول 38 فیصد اور ڈیزل 35 فیصد، برطانیہ میں پٹرول 30 فیصد اور ڈیزل 38 فیصد جبکہ یورپی یونین میں پٹرول 29 فیصد اور ڈیزل 40 فیصد تک مہنگا ہوا۔

بھارت میں پٹرول کی قیمت میں تقریبا 8 فیصد اور ڈیزل میں 9 فیصد اضافہ ہوا۔خواجہ محمد حسین نے کہا کہ بھارت میں پٹرولیم قیمتوں میں نسبتا کم اضافے کے حوالے سے وہاں کی حکومتی مالی گنجائش، روس اور ایران سے خام تیل کی دستیابی اور ریفائنریوں کی اضافی صلاحیت جیسے عوامل کا ذکر کیا جاتا ہے، تاہم پاکستان کے حالات مختلف ہیں۔ اس لیے پاکستان کو اپنے محدود وسائل کو ایسے شعبوں کے لیے استعمال کرنا چاہیے جو معیشت کو براہ راست چلا رہے ہیں، جن میں ٹرانسپورٹ، زراعت اور صنعت سرفہرست ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے باعث گھریلو بجٹ شدید دبا کا شکار ہیں۔ صارفین اپنی آمدن کا بڑا حصہ خوراک، بجلی، گیس اور دیگر بنیادی ضروریات پر خرچ کریں گے، جس کے نتیجے میں تیار مصنوعات کی طلب میں کمی کا امکان ہے۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات