چین کی ترقی کا راز قومی و نسلی اتحاد ہے، پاکستان سے تجربات شیئر کرنے کو تیار ہیں،چینی سفیر

اتحاد طاقت ہے، مل کر کام کرنے سے ترقی اور خوشحالی ممکن ہے،پاکستان چین کی ترقی اور سماجی استحکام کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتا ہے،چینی شہری پاک چین دوستی اور اقتصادی و ثقافتی روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں،جیانگ زی ڈونگ

جمعرات 24 ستمبر 2026 18:01

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 ستمبر2026ء) چینی سفیر جیانگ زی ڈونگ نے کہا ہے کہ چین کی معاشی خوشحالی اور ترقی میں قومی و نسلی اتحاد نے کلیدی کردار ادا کیا، چین اپنے آہنی برادر ملک پاکستان کے ساتھ اپنے تجربات شیئر کرنے اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون و سیکھنے کے عمل کو مزید فروغ دینے کیلئے تیار ہے۔چینی سفیر نے یہ بات پاکستانی اور چینی الیکٹرانک میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔

انہوں نے چین میں نسلی اتحاد کے فروغ کے اقدامات اور تجربات کے حوالے سے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں مقیم بہت سے چینی شہریوں کا تعلق سنکیانگ سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کو اپنا آہنی دوست سمجھتا ہے اور تمام شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تبادلوں اور باہمی تجربات سے استفادہ کرنے کے عمل کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے۔

(جاری ہے)

سفیر نے صدر شی جن پنگ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چین نے ملک کی تمام نسلی اکائیوں کی متحدہ کوششوں کے ذریعے تاریخی کامیابیاں حاصل کیں اور مستقبل میں بھی اسی اتحاد کے ذریعے ترقی کے نئے ابواب رقم کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ چین کے اقتصادی حالات، ترقی کے مواقع اور چینی قوم کے لیے مضبوط اجتماعی احساس پیدا کرنے کی کوششوں سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔

چین کے اندرون و بیرون ملک شہری بھی مشترکہ طور پر ’’چینی خواب‘‘ کی تکمیل کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔جیانگ زی ڈونگ نے کہا کہ چین کی کامیابیوں سے پاکستان بھی سماجی استحکام اور عوام کی معاشی خوشحالی کے فروغ میں فائدہ اٹھا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کا سنکیانگ چین کی ترقی اور سماجی استحکام کی نمایاں مثال ہے۔ پاکستانی میڈیا نے سنکیانگ کی ترقی کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے جس پر چین ان کا شکر گزار ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ستمبر صدر آصف علی زرداری جبکہ گزشتہ ماہ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے سنکیانگ کا دورہ کیا اور وہاں کی ترقیاتی کامیابیوں اور معاشی سرگرمیوں کو سراہا۔چینی سفیر نے کہا کہ سنکیانگ کا تجربہ ثابت کرتا ہے کہ اتحاد میں طاقت ہے اور باہمی اتحاد کے ذریعے ہی ترقی اور کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ کسی بھی ملک میں خواہ کتنی ہی نسلی اکائیاں یا علاقے ہوں، اگر سب مل کر کام کریں تو ترقی کی رفتار پیدا کی جا سکتی ہے اور عوام کے لیے بہتر زندگی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اور معاشرے کے مختلف طبقات قومی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے اتحاد کی قوت کو بروئے کار لائیں گے۔چینی سفیر نے کہا کہ عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد گزشتہ 77 برسوں کے دوران کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مضبوط قیادت اور چینی عوام کی مسلسل محنت کے نتیجے میں چین نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ایک مضبوط ملک بننے کی جانب تاریخی سفر طے کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2012 میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی 18ویں قومی کانگریس کے بعد صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین نے غربت کے خاتمے، ہمہ جہت خوشحال معاشرے کی تعمیر، تیز رفتار معاشی ترقی اور طویل مدتی سماجی استحکام کے میدان میں اہم کامیابیاں حاصل کیں۔انہوں نے بتایا کہ رواں سال چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے کا اچھا آغاز ہوا ہے،سال کی پہلی ششماہی میں چین کی جی ڈی پی میں سالانہ بنیادوں پر 4.7 فیصد اضافہ ہوا جبکہ اضافی پیداوار میں 3.6 ٹریلین یوآن کا اضافہ ہوا۔

اگست میں آلات سازی کی صنعت کی پیداوار میں 12.1 فیصد جبکہ ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ میں 16.7 فیصد اضافہ ہوا۔ لیتھیم آئن بیٹریوں اور صنعتی روبوٹس کی پیداوار میں بالترتیب 57.2 فیصد اور 34.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ چین کی بیرونی تجارت میں بھی مضبوط اضافہ ہوا۔ اگست میں اشیا کی درآمدات و برآمدات کی مجموعی مالیت میں سالانہ بنیادوں پر 19.8 فیصد اضافہ ہوا، برآمدات 18.6 فیصد جبکہ درآمدات 21.7 فیصد بڑھیں۔

رواں سال کے پہلے آٹھ ماہ میں برآمدات میں 14.6 فیصد اور درآمدات میں 22 فیصد اضافہ ہوا، جس کے باعث چین ایک بڑی عالمی منڈی اور ترقی کے نئے مواقع کا مرکز بن چکا ہے۔سفیر نے کہا کہ اگرچہ بیرونی ماحول کے منفی اثرات اور ملکی طلب و رسد میں عدم توازن جیسے چیلنجز موجود ہیں، تاہم موجودہ معاشی رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ چینی معیشت اعلیٰ معیار، بہتر ڈھانچے اور مضبوط رفتار کے ساتھ آگے بڑھتی رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ چین دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ مشترکہ ترقی کا خواہاں ہے۔ چینی عوام خود بہتر زندگی کے خواہش مند ہونے کے ساتھ ساتھ دیگر اقوام کے عوام کے لیے بھی بہتر زندگی کی خواہش رکھتے ہیں۔چینی سفیر نے کہا کہ چین اپنی جدت کاری کی کامیابیوں کے ذریعے دنیا بالخصوص پاکستان کے لیے مزید ترقیاتی مواقع پیدا کرے گا۔ زراعت، صنعت اور کان کنی کے شعبوں پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) 2.0 کی تعمیر کو تیز کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان نئے دور میں مزید قریبی ہم نصیب کمیونٹی کی تعمیر کے لیے مل کر کام کریں گے۔سفیر کے مطابق 2020 سے 2025 کے دوران چین کے پانچ خودمختار علاقوں کی مجموعی جی ڈی پی 6.01 ٹریلین یوآن سے بڑھ کر 8.66 ٹریلین یوآن ہو گئی جبکہ اوسط سالانہ شرح نمو 5.5 فیصد رہی، جس سے عوام کے معیار زندگی میں نمایاں بہتری آئی۔انہوں نے کہا کہ رواں سال نئے چین کے قیام کی 77ویں اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے قیام کی 105ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔

پاکستان میں چینی شہریوں کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے سفیر نے کہا کہ چینی شہری گزشتہ کئی برسوں سے پاک چین دوستی کے عوامی سفیر کا کردار ادا کر رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی روابط کے فروغ میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چینی کمپنیوں کے ملازمین پاک چین عملی تعاون کی بنیادی قوت ہیں جو سی پیک کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ ٹھوس تعاون کے ذریعے دونوں ممالک کی سدا بہار دوستی کی بنیاد مزید مضبوط کر رہے ہیں۔