br /> { چار مسودوں پر اتفاق کے باوجود مذاکرات ناکام ہوئے، شیری رحمان

I پی ٹی آئی کی جانب سے مسلسل ترامیم کے باعث بات چیت رات گئے تک جاری رہی، خیبرپختونخوا حکومت کے انسدادِ دہشتگردی تعاون کے مسودے پر دستخط سے انکار نے معاملہ الجھا دیا

اتوار 4 اکتوبر 2026 18:12

۷اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 04 اکتوبر2026ء) پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان گزشتہ شب ہونے والے مذاکرات کے بارے میں اہم تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ چار مختلف مسودوں پر تمام فریقین کے درمیان اتفاق رائے ہوچکا تھا، تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے مسلسل تبدیلیوں کے باعث مذاکرات رات گئے تک جاری رہے اور بالآخر نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکے۔

=شیری رحمان نے اپنے پیغام میں کہا کہ مذاکرات کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے وفاق کے ساتھ انسدادِ دہشتگردی تعاون سے متعلق طے شدہ مسودے پر دستخط سے انکار تھا۔ان کے مطابق مذاکرات کے دوران بارہا کہا گیا کہ خیبرپختونخوا حکومت اور تحریک انصاف کی سینئر وفاقی قیادت کو براہ راست بات چیت میں شریک ہونا چاہیے، تاہم وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا یا صوبائی کابینہ کی جانب سے کوئی نمائندہ مذاکرات میں شریک نہیں ہوا۔

(جاری ہے)

سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ اگر خیبرپختونخوا حکومت کے پاس کوئی قابلِ عمل مسودہ موجود تھا تو اسے مذاکرات کی میز پر آکر خود پیش کرنا چاہیے تھا۔ ان کے بقول انہیں مسلسل یقین دہانی کرائی جاتی رہی کہ صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کی سینئر وفاقی قیادت مذاکراتی عمل میں شامل ہوگی۔انہوں نے بتایا کہ رات ساڑھے آٹھ بجے تک تقریباً تمام معاملات طے پاچکے تھے، تاہم اس کے بعد پشاور کی صوبائی حکومت کی جانب سے نئی شرائط پیش کیے جانے کا سلسلہ شروع ہوگیا، جس کے باعث پہلے سے طے شدہ امور دوبارہ زیر بحث آگئے۔

شیری رحمان کا کہنا تھا کہ اپنی 25 سالہ پارلیمانی زندگی میں انہوں نے ایسا موقع ضائع ہوتے نہیں دیکھا۔ ان کے مطابق یہ سیاسی اعتماد بحال کرنے، ملک میں استحکام پیدا کرنے اور طویل عرصے سے جاری سیاسی تقسیم کم کرنے کا ایک اہم موقع تھا، جو ہاتھ سے نکل گیا۔پیپلز پارٹی کی رہنما نے کہا کہ دنیا بھر میں مذاکرات کے دوران وقت اور باہمی اعتماد کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔

ان کے مطابق اگر خیبرپختونخوا حکومت وفاقی حکام کے ساتھ بہتر ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرتی تو یہ ایک مثبت اور اہم پیش رفت کا آغاز ہوسکتا تھا۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں موجود تحریک انصاف کی سینئر قیادت سے بروقت رہنمائی حاصل کی جاتی تو بھی مذاکرات میں اہم پیش رفت ممکن تھی۔ ان کے بقول یہ پورا معاملہ کسی ایک فریق کی جانب سے نہیں تھا بلکہ مذاکرات میں شامل تمام ٹیموں نے عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔

سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ مسلسل تبدیلیوں کے باوجود مذاکراتی ٹیموں نے اپنی توجہ بات چیت پر مرکوز رکھی اور اتوار کی صبح ہونے سے قبل تک مذاکرات ختم نہیں کیے گئے بلکہ دوسرے فریق کے لیے دروازے کھلے رکھے گئے۔انہوں نے کہا کہ مذاکراتی ٹیم اس وقت تک انتظار کرتی رہی جب تک دوسری جانب سے مذاکرات میں واپس آنے کا عمل رک نہیں گیا۔شیری رحمان نے مذاکراتی عمل کے دوران صبر اور موقع فراہم کرنے پر وزیر اعظم شہباز شریف، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا شکریہ بھی ادا کیا۔

انہوں نے قومی اسمبلی میں مذاکرات کی مسلسل کوریج کرنے والے صحافیوں کا بھی خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دن رات مذاکراتی عمل کو عوام تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیا۔