مذاکرات خیبر پختونخوا حکومت کے مرکز کے ساتھ انسداد دہشت گردی تعاون کے طے شدہ ڈرافٹ پر دستخط سے انکار کے باعث ناکام ہوئے، شیری رحمن

مسلسل تبدیلیوں کے باوجود ہماری تمام ٹیموں نے مذاکرات پر توجہ برقرار رکھی، اتوار کی صبح ہونے سے پہلے تک ہم نے مذاکرات ختم نہیں کیے اور دروازے کھلے ، بیان

اتوار 4 اکتوبر 2026 18:45

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 04 اکتوبر2026ء) نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے گزشتہ شب پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کہاہے کہ مذاکرات خیبر پختونخوا حکومت کے مرکز کے ساتھ انسداد دہشت گردی تعاون کے طے شدہ ڈرافٹ پر دستخط سے انکار کے باعث ناکام ہوئے۔ اپنے بیان میں انہوںنے کہاکہ چار ڈرافٹس پر تمام فریقین کے ساتھ اتفاق ہوگیا تھا لیکن پی ٹی آئی کی تبدیلیوں کے باعث مذاکرات رات گئے تک چلتے رہے ، مذاکرات خیبر پختونخوا حکومت کے مرکز کے ساتھ انسداد دہشت گردی تعاون کے طے شدہ ڈرافٹ پر دستخط سے انکار کے باعث ناکام ہوئے۔

انہوںنے کہاکہ ہم نے بار بار کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت اور پی ٹی آئی کی سینئر وفاقی قیادت مذاکرات میں شامل ہو، خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ یا کابینہ کا کوئی نمائندہ مذاکرات میں نہیں آیا۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ اگر خیبر پختونخوا حکومت کے پاس کوئی قابل عمل ڈرافٹ تھا تو اسے خود مذاکرات میں آکر پیش کرنا چاہیے تھا۔ شیری رحمن نے کہاکہ ہمیں بار بار بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا حکومت اور پی ٹی آئی کی سینئر وفاقی قیادت مذاکرات میں شامل ہوگی۔

انہوںنے کہاکہ رات ساڑھے آٹھ بجے تک تقریباً تمام معاملات طے ہوچکے تھے، رات ساڑھے آٹھ بجے کے بعد پشاور حکومت نے نئی شرائط رکھنا شروع کردیں۔ انہوںنے کہاکہ 25 سالہ پارلیمانی زندگی میں ایسا موقع ضائع ہوتے نہیں دیکھا، یہ سیاسی اعتماد، ملک میں استحکام اور سیاسی تقسیم ختم کرنے کا اہم موقع تھا۔ انہوںنے کہاکہ سالوں کی تلخ سیاسی تقسیم کے بعد ملک میں استحکام لانے کا موقع ضائع ہوگیا، دنیا بھر کے مذاکرات میں وقت اور اعتماد اعتماد سازی کے لیے بہت اہم ہوتے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ خیبر پختونخوا حکومت وفاقی حکام کے ساتھ بہتر ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرتی تو اہم آغاز ہوسکتا تھا، اسلام آباد میں موجود پی ٹی آئی کی سینئر قیادت سے رہنمائی لی جاتی تو بھی اہم پیش رفت ہوسکتی تھی۔ شیری رحمن نے کہاکہ یہ کوئی یکطرفہ معاملہ نہیں تھا، ۔ انہوںنے کہاکہ تنا موقع دینے اور پورے عمل کے دوران صبر سے کام لینے پر وزیراعلیٰ شہباز شریف، ایاز صادق اور محسن نقوی کا شکریہ۔

شیری رحمن نے کہاکہ مسلسل تبدیلیوں کے باوجود ہماری تمام ٹیموں نے مذاکرات پر توجہ برقرار رکھی، اتوار کی صبح ہونے سے پہلے تک ہم نے مذاکرات ختم نہیں کیے اور دروازے کھلے رکھے۔شیری رحمان نے کہاکہ ہم اس وقت تک انتظار کرتے رہے جب تک دوسری جانب سے مذاکرات میں واپس آنا بند نہیں کردیا گیا۔ انہوںنے قومی اسمبلی میں دن رات مذاکرات کی کوریج کرنے والے تمام صحافیوں کا خصوصی شکریہ ادا کیا ۔