کلبھوشن یادیو کو بھارت کے حوالے کیا جائے گا یا نہیں، حکومت پاکستان نے حتمی فیصلہ سنا دیا

کلبھوشن کو کسی صورت بھارت کے حوالے نہیں کیا جائے گا، کشن گنگا ڈیم کی تعمیرسندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے، پاکستان نہیں چاہتا کہ آبی تنازعات کسی خطرناک نہج تک پہنچ جائیں،کپواڑہ میں 4 کشمیریوں اور کنٹرول لائن پر پاکستانی شہریوں کو شہید کیا، بھارتی جیلوں میں 54 پاکستانی سزا کی مدت پوری کر چکے رہا نہیں کیا جا رہا،پاکستان ان کی رہائی ک امنتظر ہے، امریکی اسکول میں فائرنگ سے سبیکا شیخ کے جاں بحق ہونے پرافسردہ ہیں، ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرفیصل کی ہفتہ وار بریفنگ

جمعہ مئی 19:33

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعہ مئی ء) ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرفیصل نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ کلبھوشن یادیو کیس میں جولائی میں جواب جمع کرایا جائے گا، اسے بھارت کے حوالے قطعا نہیں کیا جائے گا، گنگا ڈیم کی تعمیرسندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے، پاکستان نہیں چاہتا ہے کہ آبی تنازعات کسی خطرناک نہج تک پہنچ جائیں،کپواڑہ میں 4 کشمیریوں اور کنٹرول لائن پر پاکستانی شہریوں کو شہید کیا، بھارتی جیلوں میں 54 پاکستانی سزا کی مدت پوری کر چکے رہا نہیں کیا جا رہا،پاکستان بھارتی جیلوں میں قید 54 پاکستانیوں کی رہائی ک امنتظر ہے، امریکی اسکول میں فائرنگ سے سبیکا شیخ کے جاں بحق ہونے پرافسردہ ہیں۔

جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرفیصل نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں معصوم شہریوں کو شہید کیا جا رہا ہے، شوپیاں میں بھارتی فوج نے افطار کے بعد کشمیریوں پر فائرکھول دیا، بھارت ناصرف کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کررہا ہے بلکہ لائن آف کنٹرول پر بھی تواتر کے ساتھ اشتعال انگیزی کررہا ہے، بھارت عالمی قوانین کی بھی پاسداری نہیں کررہا۔

(جاری ہے)

ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ کشن گنگا ڈیم کی تعمیرسندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور یہ خلاف ورزی بھارت کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے، پاکستان نہیں چاہتا ہے کہ آبی تنازعات کسی خطرناک نہج تک پہنچ جائیں، پاکستان کی جانب سے اشتر اوصاف کی قیادت میں وفد نے کشن گنگا ہائیڈرو پاور پروجیکٹ، رتیلے اور بگہلیار ڈیم کے معاملات پر عالمی بنک کے سربراہ سے ملاقات کی اور سندھ طاس معاہدے کے تناظر میں آبی تنازعات کو حل کرانے کی ضرورت پر زور دیا، اس سے قبل بھی پاکستان کی جانب سے کشن گنگا ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پر کئی برس سے معاملے کو موثر انداز میں اٹھایا جاتا رہا ہے۔

عالمی عدالت انصاف میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے متعلق مقدمے کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ کلبھوشن یادیو کیس میں جولائی میں جواب جمع کرایا جائے گا لیکن اسے بھارت کے حوالے قطعا نہیں کیا جائے گا۔

Your Thoughts and Comments