شدت پسند حملوں سے کچھ نہیں ہوتا، ایک دن سب نے جانا ہے،چیف جسٹس

لگژری گاڑیوں پر اربوں روپے کاخرچہ ہو رہا ہے ،اخراجات قوم برداشت کرتی ہے،کسی سیاستدان کو ریاست کی طرف سے فراہم کی گئیں بلٹ پروف اور لگژری گاڑیوں پر انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں دی جائیگی،جسٹس میاں ثاقب نثار مولانا فضل الرحمن کو بلٹ پروف گاڑی چاہئے تو وہ اس بارے میں عدالت کو آگاہ کریں،تمام سابق وزراء سے گاڑیاں واپس لی جائیں ، اگر سابق وزرا گاڑیاں واپس نہ کریں تو ہر گاڑی پر ایک لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا ہو گا اور ایک ہفتے کے بعد یہ جرمانہ ڈبل ہو جائے گا، لگژری گاڑیوں کی واپسی سے متعلق مقدمے کی سماعت کے موقع پر ریمارکس

منگل جون 19:56

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ منگل جون ء) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ شدت پسند حملوں سے کچھ نہیں ہوتا، ایک دن سب نے جانا ہے، لگژری گاڑیوں پر اربوں روپے کاخرچہ ہو رہا ہے جس کے اخراجات قوم برداشت کرتی ہے،کسی سیاستدان کو ریاست کی طرف سے فراہم کی گئیں بلٹ پروف اور لگژری گاڑیوں پر انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں دی جائیگی، مولانا فضل الرحمن کو بلٹ پروف گاڑی چاہئے تو وہ اس بارے میں عدالت کو آگاہ کریں،تمام سابق وزراء سے گاڑیاں واپس لی جائیں ، اگر سابق وزرا گاڑیاں واپس نہ کریں تو ہر گاڑی پر ایک لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا ہو گا اور ایک ہفتے کے بعد یہ جرمانہ ڈبل ہو جائے گا۔

منگل کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے سیاست دانوں اور دیگر سرکاری افسران کو لگژری گاڑیوں کی واپسی سے متعلق مقدمے کی سماعت کی ۔

(جاری ہے)

بی بی سی کے مطابق سماعت کے دوران عدالت نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے وکیل کامران مرتضیٰ کو روسٹم پر بلایا اور اٴْن سے استفسار کیا کہ وہ مولانا صاحب سے پوچھ کر بتائیں کہ بلٹ پروف گاڑی کے ساتھ ساتھ ڈبل کیبن گاڑیاں کیوں رکھی ہیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اگر مولانا صاحب کو بلٹ پروف گاڑی مل گئی ہے تو پھر انھیں ڈبل کیبن گاڑیاں رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔عدالتی استفسار پر کامران مرتضیٰ نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمن اور ان کی ہی جماعت کے رہنما اور سینیٹ کے سابق ڈپٹی چیئرمین علامہ غفور حیدری پر شدت پسندوں کے حملے ہو چکے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے تو جانثار ہی بہت ہیں اور اتنی بڑی تعداد میں جانثاروں کی وجہ سے کوئی حملہ آور مولانا فضل الرحمن تک پہنچ ہی نہیں سکتا۔

بی بی سی کے مطابق چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ شدت پسند حملوں سے کچھ نہیں ہوتا، ایک دن سب نے جانا ہے۔انہوں نے کہا کہ لگژری گاڑیوں کے اخراجات قوم برداشت کرتی ہے۔اس موقع پر چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا سابق صدر آصف علی زرداری اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے پاس کتنی لگژری گاڑیاں ہیں اس بارے میں رپورٹ عدالت میں جمع نہیں کروائی گئی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کسی سیاست دان کو ریاست کی طرف سے فراہم کی گئیں بلٹ پروف اور لگژری گاڑیوں پر انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔عدالت کو بتایا گیا کہ تمام سابق وفاقی وزرا اور حکومتی شخصیات سے گاڑیاں واپس لے لی گئی ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمن، علامہ غفور حیدری اور سابق وفاقی وزیر کامران مائیکل سے بلٹ پروف اور لگژری گاڑیاں واپس نہیں لی گئیں جس پر عدالت نے پہلے تو ان افراد کو ذاتی حیثیت میں طلب کرنے کا نوٹس جاری کیا اور پھر بعدازاں چیف جسٹس نے یہ نوٹس واپس لے لیا۔

چیف جسٹس نے کچھ دیر کے بعد مولانا فضل الرحمن کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ٹھیک ہے، اگر مولانا کو بلٹ پروف گاڑی چاہیے تو وہ اس بارے میں عدالت کو آگاہ کریں۔ سماعت کے دوران عدالت نے ایف بی آر کے چیئرمین کی طرف سے لگژری گاڑیوں کی واپسی سے متعلق تفصیلات جمع نہ کروانے پر ان کی سرزنش کی اور حکم دیا کہ ایف بی آر کے افسران کے پاس جتنی بھی لگژری گاڑیاں ہیں وہ واپس لی جائیں۔

عدالت نے قومی احتساب بیورو کو اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لگثری گاڑیوں پر اربوں روپے کا خرچہ ہو رہا ہے۔ اٴْنھوں نے کہا کہ ملک کی18 لاکھ لوگ ٹوٹل ٹیکس ٹیکس ادا کرنے والوں کے پیسوں پر لگڑری گاڑیاں چلتی ہیں۔چیف سیکرٹر ی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب کے سابق صوبائی وزیر کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد صوبائی وزرا کو بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کی گئی تھیں۔

بلوچستان کے ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ بلوچستان میں 49 لگژری گاڑیاں ریکور کر لی ہیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ سابق سات وزراء سے گاڑیوں واپس کیوں نہیں لی گئیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ منگل کی رات تک تمام سابق وزراء سے گاڑیاں واپس لیں اور اگر سابق وزرا گاڑیاں واپس نہ کریں تو ہر گاڑی پر ایک لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا ہو گا اور ایک ہفتے کے بعد یہ جرمانہ ڈبل ہو جائے گا۔

Your Thoughts and Comments