سعودی خواتین اب کرین بھی آپریٹ کرنے لگی ہیں

سارہ سعید اور بدور عبدالحمید دمام کے شاہ عبدالعزیز پورٹ پر ریموٹ کنٹرول سے کرین چلا رہی ہیں

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعرات اگست 13:38

سعودی خواتین اب کرین بھی آپریٹ کرنے لگی ہیں
دمام (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 8 اگست2019ء) سعودی عرب میں خواتین کے حوالے سے گزشتہ کچھ سالوں سے تبدیلی کی لہر چل پڑی ہے۔ درجنوں ایسے شعبے جن میں خواتین کی شمولیت تو دُور کی بات ہے، اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ان شعبوں میں خواتین آج پورے اعتماد کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھانے لگی ہیں۔ دمام میں دو سعودی خواتین نے ایسے شعبے میں قدم رکھ دیا ہے جو پوری طرح مردوں کے کے مخصوص تھا۔

سعودی اخبار الیوم کے مطابق دمام کی رہائشی سعودی خواتین سارہ سعید اور بدور عبدالحمید ریموٹ کنٹرول کرین آپریٹر بن گئی ہیں۔ دونوں خواتین نے نہ صرف کرین آپریٹ کرنے کے لیے اجازت نامے حاصل کر لیے ہیں بلکہ دمام کے شاہ عبدالعزیز پورٹ پر باقاعدہ کرین آپریٹر کے طور پر ملازمت بھی کرنے لگی ہیں۔

(جاری ہے)

دونوں خواتین نے کرین آپریٹر بننے کے لیے 100گھنٹے کا ٹریننگ کورس مکمل کر کے امتحان بھی پاس کیا ہے ۔

سارہ اور بدور کو بڑے بڑے کرینوں کو آپریٹ کرنے کا یہ سنہری موقع بندرگاہوں کو خدمات فراہم کرنے والی انٹرنیشنل کمپنی آئی پی ایس نے فراہم کیا۔ جس سے انہوں نے بھرپور فائدہ اُٹھا کر مردوں کی اجارہ داری والے اس شعبے میں دھماکے دار انٹری دے کر ثابت کر دیا ہے کہ سعودی خواتین زندگی کے کسی بھی شعبے میں مردوں سے پیچھے نہیں رہیں۔ سارہ نے بتایا کہ دیو ہیکل کرینوں کو ریموٹ سے چلانے کی ٹریننگ بہت طویل اور مشکل تھی۔ مگر ہماری لگن اور ثابت قدمی نے اسے آسان تر بنا دیا۔اور ہم دونوں لڑکیاں اس شعبے میں قدم رکھنے والی اولین سعودی خواتین کی حیثیت سے اپنا نام تاریخ میں درج کروا چکی ہیں جس پر ہم جتنا فخر کریں، کم ہے۔

الدمام میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments