سعودی باشندے خوراک ضائع کرنے میں دُنیا بھر میں سرفہرست

90 فیصد سعودی گھرانے بچ جانے والا کھانا ضائع کر دیتے ہیں

Muhammad Irfan محمد عرفان پیر جولائی 11:52

سعودی باشندے خوراک ضائع کرنے میں دُنیا بھر میں سرفہرست
جدہ (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 8جولائی 2019ء ) دُنیا بھر میں اس وقت کئی ارب لوگ غربت کی چکی میں پِس رہے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں دِن میں بمشکل دووقت کا کھانا ہی نصیب ہو پاتا ہے۔ تاہم دُنیا بھر میں ایسے ممالک بھی ہیں جو روزانہ کئی ہزار ٹن کھانا ضائع کر دیتے ہیں۔ ان ممالک میں سعودی عرب پہلے نمبر پر ہے۔ ایک سعودی ہفت روزہ ’سیدتی‘ کے مطابق سعودی عرب میں 90 فیصد گھرانے بچ جانے والا کھانا ضائع کر دیتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق روزانہ 427 ٹن کھانا ضائع ہونے کے بعد کچرے کے ڈبوں میں چلا جاتا ہے۔ اگر اسے رقم میں تبدیل کیا جائے گا تو یہ تقریباً 7 کروڑ ریال کی رقم بنتی ہے۔تقریباً ایک تہائی خوراک سعودی عرب میں ضائع چلی جاتی ہے۔ حالانکہ سعودی عرب میں بھی غریب لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔

(جاری ہے)

اس کے باوجود خوراک کا یہ اسراف سعودی عوام اور سماج کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

سعودی مجلّے ’سیدتی‘ نے یہ اعداد و شمار ایک فلاحی تنظیم ’اکرام‘ کے حوالے سے دیئے ہیں جولوگوں کے گھروں میں بچ جانے والا کھانا اکٹھا کر کے اُنہیں بھوکوں تک پہنچانے کا بندوبست کرتی ہے۔ ’اکرام‘ نے صرف گزشتہ جُون کے مہینے میں مکّہ مکرمہ کے گھروں، میرج ہالوں، ہوٹلوں، ریستورانوں اور سیکیورٹی فورس کے اداروں سے 49 ٹن فاضل کھانا جمع کر کے اُسے 89ہزار سے زائد افراد میں تقسیم کیا۔

فلاحی انجمن ’اکرام‘ کے ایک عہدے دار نے کہا کہ جب سے ہمیں پتا چلا ہے کہ سعودی عوام بے تحاشا خوراک ضائع کر دیتے ہیں، تب سے ہم نے یہ تہیہ کر رکھا ہے کہ ہم فاضل خوراک محفوظ بنا کر اُس سے غریبوں اور ناداروں کا پیٹ بھریں گے۔ اس مقصد کے لیے ہم گھر گھر جاتے ہیں اور مثبت بات یہ ہے کہ لوگوں کی جانب سے ہم سے بھرپور تعاون کیا جا رہا ہے۔ تاہم خوراک کے ضیاع کے لیے قانون سازی کی بھی ضرورت ہے اور کھانا ضائع کرنے والوں پر جرمانوں کا نفاذ کیا جانا بھی لازمی ہے۔

جدہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments