سعودیہ میں کورونا سے وفات پانے والوں کی تدفین کے بارے میں اہم حقائق سامنے آگئے

کورونا سے وفات پانے والے مریضوں کے لواحقین انہیں غسل نہیں دے سکتے اور نہ آخری دیدار کرنے کی اجازت ہے، نماز جنازہ صرف دس افراد تک محدود کر دی گئی ہے

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعرات مئی 15:42

سعودیہ میں کورونا سے وفات پانے والوں کی تدفین کے بارے میں اہم حقائق ..
ریاض(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 21مئی 2020ء) سعودی عرب میں کورونا سے مرنے والوں کی گنتی سینکڑوں میں پہنچ چکی ہے، جن میں مقامی اور تارکین وطن دونوں شامل ہیں۔ کورونا سے مرنے والوں کا غسل، نماز جنازہ اور تدفین عام حالات سے کچھ ہٹ کر انجام دی جا رہی ہے۔ مملکت میں کورونا سے وفات پانے والوں کے لیے صوبائی اور ضلعی سطح پر الگ قبرستان مختص کیے گئے ہیں۔

سعودی وزارت صحت کے جدہ سیکرٹریٹ کے سرکاری ترجمان محمد البقمی نے العربیہ نیوز کو بتایا ہے کہ کورونا سے مرنے والے افراد کے اہل خانہ اپنے مردے کو غسل نہیں دے سکتے اور نہ آخری دیدار کر سکتے ہیں۔ اس کی وجہ معاشرے میں وبا کے پھیلاوٴ کو روکنا ہے۔ کورونا سے وفات پانے والے مُردوں کو ہسپتالوں میں غسل دیا جاتا ہے اور یہ عمل وزارت صحت کے زیر نگرانی انجام دیا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

اس مقصد کے لیے متعدد غسل دینے والے افراد کو تربیت دی گئی ہے جو حفاظتی اقدامات کے مطابق محفوظ طریقے سے غسل کا کام انجام دے سکیں۔اس کے علاوہ ان مُردوں کے غسل کی کارروائی کے دوران لوگوں کے اکٹھا ہونے یا تعزیتی مجلس قائم کرنے کی اجازت نہیں ہے۔متوفی کے لواحقین میں صرف 10 افراد تک کو نماز جنازہ پڑھنے اور تدفین میں شریک ہونے کی اجازت ہے۔

اس دوران مقررہ احتیاطی تدابیر اور احتیاطی اقدامات کے ساتھ سماجی فاصلے کو برقرار رکھنا لازم ہے۔البقمی نے مزید بتایا کہ جدہ میں ذہبان قبرستان کو مختص کیا گیا ہے جہاں معمول کے طریقے کے مطابق تدفین عمل میں لائی جاتی ہے۔ متعلقہ حکام کا میتوں کی نماز جنازہ پڑھانے کے لیے مختص مساجد کے آئمہ کرام کے ساتھ رابطہ رہتا ہے۔ اس کا مقصد آئمہ کرام کو حفاظتی طریقوں اور اقدامات کے بارے میں آگاہ کرنا ہے۔

البقمی کے مطابق ہسپتال میں متوفی کو غسل دینے میں عذر لاحق ہونے کی صورت میں میت کو مقررہ مردے خانے میں غسل دیا جاتا ہے۔ وزارت صحت کی ہدایات کے مطابق ذاتی تحفظ کے لیے طبی ماسک ، دستانے اور ایپرن کا پہننا لازم ہے۔ اس کے علاوہ میت کی منتقلی یا غسل کی کارروائی پوری ہونے کے بعد ہاتھوں کو پانی اور صابن سے کم از کم 40 سیکنڈ تک دھونے کی پابندی کی جانی چاہیے۔

میت کو ایسے واٹر پروف بیگ میں رکھا جاتا ہے جو سیال کو باہر آنے سے روکتا ہے۔ انتہائی ضرورت کی صورت کے علاوہ لاش کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا جاتا۔جدہ کے سیکریٹریٹ کے سرکاری ترجمان نے بتایا کہ تدفین کے دوران یہ عمل انجام دینے والوں کے لیے لازم ہے کہ وہ ذاتی حفاظت کے لوازمات کا استعمال کریں اور تدفین کے بعد ہاتھوں کو پانی اور صابن سے کم از کم 40 سیکنڈ تک دھوئیں۔

جدہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments