راس الخیمہ : چندہ اکٹھا کرنے والے دھوکے باز کو ایک سال قید

ملزم لوگوں کو بے وقوف بنا کر ہزاروں درہم ہڑپ چُکا تھا

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل جنوری 16:32

راس الخیمہ : چندہ اکٹھا کرنے والے دھوکے باز کو ایک سال قید
راس الخیمہ(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔8 جنوری 2019ء) عدالت نے ایک ایشیائی شخص کو خود کو فلاحی تنظیم کا کارکن ظاہر کر کے لوگوں سے چندہ اکٹھا کرنے کے الزام میں ایک سال قید کی سزاسُنا دی ہے۔ استغاثہ کی جانب سے 30 سالہ ملزم پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ اُس نے ایک فلاحی تنظیم کے لیبر کارڈ میں ہیرا پھیری کر کے اُس پر اپنی فوٹو لگائی تاکہ وہ خود کو اس فلاحی تنظیم کا کارکن ظاہر کر سکے۔

اس کے بعد ملزم نے مخیر حضرات سے رجوع کر کے اُن سے کمپنی کے نام پر ہزاروں درہم کا چندہ وصول کیا۔ ملزم کی مشکوک سرگرمیوں کے بارے میں اک اماراتی شخص نے پولیس کو اطلاع دی تھی کہ وہ ایک اور اماراتی ریاست میں واقع فلاحی تنظیم کے نام پر چندہ وصول کر رہا ہے، مگر وہ کوئی دھوکے باز معلوم ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

پولیس نے ملزم کو پکڑ کر اُس سے تفتیش کی تو ثابت ہو گیا کہ وہ ایک نوسرباز ہے جو لوگوں سے کارِ خیر کے نام پر ہزاروں درہم بٹور چُکا ہے۔

ملزم لوگوں کو دھوکا دینے کی خاطر ممتاز فلاحی تنظیم کی مخصوص یونیفارم بھی پہنتا تھا اور جعلی کارڈ بھی دکھا کر لوگوں کو یقین دلاتا تھا۔جس پر عدالت نے ملزم کو ایک سال قید اور ڈی پورٹ کیے جانے کی سزا سُنا دی۔ ایک فلاحی تنظیم سے وابستہ ڈاکٹر محمد اشماوی نے لوگوں کو خبردار کیا کہ اگر اُن کے پاس کوئی شخص آ کر خود کو فلاحی تنظیم کا کارکن ظاہر کر کے چندہ طلب کرے تو اس پر آنکھیں بند کر کے یقین نہیں کرنا چاہیے۔

کیونکہ اس سے مستحق لوگوں تک امداد نہیں پہنچ پاتی اور غلط لوگوں کی جیبوں میں اچھی نیت سے دیا گیا پیسہ پہنچ جاتا ہے۔ مملکت میں ہر جگہ چندہ کے نام پر لوگوں کو لُوٹنے والے فراڈیئے موجود ہیں۔ لوگوں کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ کسی فلاحی تنظیم کو چندہ خود اُس کے دفتر جا کر دیں یا پھر اُس کی آفیشل ویب سائٹ پر آن لائن عطیہ کریں۔ خیراتی ڈبے ہمیشہ بند ہونے چاہیں تاکہ کوئی ان میں سے رقم نہ نکال سکے۔ کسی فلاحی تنظیم سے اُس کے کسی کارکن کے توسط سے بھیجی جانے والی امداد کے مِلنے کے بارے میں دریافت ضرور کرنا چاہیے۔

متعلقہ عنوان :

شارجہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments