Aik Fitna Baaz Yahoodi

ایک فتنے باز یہودی

عبداللہ بن سباایک شریراور فتنہ باز یہودی تھا جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے وقت میں منافق بن کر مسلمان ہوگیا تھا۔ کچھ دن مکہ ومدینہ میں رہامگر یہاں اس کاداؤنہ چلا تو پھر یہ منافق شہرابصرہ میں گیا۔

Aik Fitna Baaz Yahoodi
عبداللہ بن سباایک شریراور فتنہ باز یہودی تھا جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے وقت میں منافق بن کر مسلمان ہوگیا تھا۔ کچھ دن مکہ ومدینہ میں رہامگر یہاں اس کاداؤنہ چلا تو پھر یہ منافق شہرابصرہ میں گیا۔ کچھ وہاں نقص پھیلایا پھر کوفہ میں گیا مگر کہیں پورے طور سے اس کو موقعہ نہ ملا۔ جب مصر میں آیاتو اہل مصر کواس بات کی تعلیم دی کی بتاؤ کہ محمد ﷺ کا مرتبہ زیادہ ہے یاعیسیٰ کا؟ سب نے کہا کہ ہمارے حضرت محمدﷺ کا مرتبہ زیادہ ہے۔
اس نے کہا تو بڑا افسوس ہے کہ عیسیٰ  تو قیامت سے پہلے دنیا میں آویں اور کافروں کو ہلاک کریں اور حضور ﷺ نے آویں۔ اور آپﷺ کے دمن جوچاہیں کرتے رہیں یہ بات کب اور کیسے ہوسکتی ہے؟ بعض اہل مصرنے رجعت کایہ مسئلہ مان لیا۔ جب اس یہودی کا یہ داؤ چل گیا تو پھر وہ ایک قدم اور آگے بڑھااور کہنے لگاکہ ہر نبی ایک وصی ہوتا ہے اور جناب نبی کریمﷺ کے وصی حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں۔

خلافت کا حق وصی کاہوتا ہے۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے خلافت کو غصب کرلیا ہے تم کسی طرح عثمان رضی اللہ عنہ کو خلافت سے الگ کرو اور علی کو مسند خلافت پہ بٹھاؤ۔ یہ بے دین یہودی حضرت علی رضی اللہ عنہ کابھی خیرخواہ نہ تھا وہ تو محض مسلمانوں میں افتراق پیداکرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ کئی لوگ ا س کے اس داؤ میں بھی آگئے اور کہنے لگے کہ ہم عثمان رضی اللہ عنہ کو کس طرح خلافت سے الگ کریں؟ وہ بولا کہ تم سب سے پہلے تو جوحاکم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے مصر پر مقرر ہیں ان کی شان میں اعتراض کرو۔
وہاں لے لوگوں کو اپنی طرف راغب کرواور جگہ جگہ مصر میں اور بصرہ میں خط روانہ کرو۔ چنانچہ جگہ جگہ سے خط حاکموں کے متعلق شکاتیوں کے لکھے جانے لگے اور رائے عامہ کو اس طور ہموار کیاجانے لگا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے مقرر کردہ حاکم ظلم کرتے ہیں۔ بہت سے کوفہ اور بصرہ کے لوگ بھی اس سازش میں شریک ہوگئے۔ یہاں تک کہ اہل مصرواہل کوفہ وبصرہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا کہ اور تو ہم ہر طرح چین سے ہیں مگر آپ رضی اللہ عنہ کے حاکم ہم پر بڑا ظلم کرتے ہیں آپ رضی اللہ عنہ انہیں موقوف کردیں۔
حضرت عثمان رضی اللہ نے جواب میں لکھا کہ جس جس پر میرے عاملوں نے ظلم کیا ہے وہ اس مرتبہ ضرور حج کرنے آئے۔ میرے عامل بھی آئینگے اس وقت سب کے ظلم کابدلہ ان سے لے جائے گا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ادھر اپنے سب عاملوں کو طلب کرلیا۔ چنانچہ حکام تو سب آگئے مگر شکایت کرنے والوں میں سے کوئی بھی نہ آیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان حاکموں سے پوچھا کہ تم کیوں ظلم کرتے ہو؟ تو ان سب نے عرض کیا کہ یہ بات بالکل غلط اور بناوٹی ہے۔ ہم نے کبھی ظلم نہیں کیا۔ چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی معلوم کرلیا کہ یہ محض شرارت اور جھوٹ کاپلندہ ہے۔

Your Thoughts and Comments