Allah Ke Siwa Kisi Doosray Se Madad Mangna

اللہ کے سوا کسی دُوسرے سے مدد مانگنا

اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کوئی کسی کو نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ ہی نقصان ۔ایسی اشیاء کے حصول کے لیے جو مخلوق کے اختیار میں نہیں ہیں ‘مخلوق کے کسی فرد کو پکار نا شرک ہے

Allah ke siwa kisi doosray se madad mangna

کسی بزرگ کے مزار پرجا کر یہ کہنا کہ اے فلاں بزرگ ہماری یہ حاجت پوری کردو۔
یابزرگ کی قبر پر جا کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ ہمارے لیے یہ دُعا فرمائیں ؟قرآن وسنت کی روشنی میں وضاحت کرکے عنداللہ ماجور ہوں ۔(منظور احمد)
اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کوئی کسی کو نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ ہی نقصان ۔ایسی اشیاء کے حصول کے لیے جو مخلوق کے اختیار میں نہیں ہیں ‘مخلوق کے کسی فرد کو پکار نا شرک ہے اور پھر مُردے کو جو نہ سُن سکتا ہے اور نہ جواب دے سکتا ہے ۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔
”اور اللہ کے سوا کسی کو مت پکاروجو نہ تجھے نفع دے سکتا ہے اور نہ نقصان ۔اگر تُونے یہ کام کیاتو ظالموں میں شمار ہو گا۔“
اِ س آیت میں اللہ تعالیٰ نے منع فرما دیا ہے کہ کوئی غیر اللہ کو اپنی حاجت روائی یا مشکل کشائی کے لیے پکار ے اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتایا ہےَ کہ اللہ کے سوا نہ کوئی کسی کو نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان ۔

اللہ فرماتے ہیں :
”اگر للہ تعالیٰ تجھ کو کسی مصیبت میں مبتلا کردے تو اُس مصیبت کو دور کرنے والا اللہ کے سوا کوئی نہیں ۔“
صحیح حدیث ہے ‘نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کو کہا:
”جان لو کہ اگر ساری اُمت تجھے نفع پہنچا نے کے لیے جمع ہوجائے اور اگر اللہ نہ چاہے تو نفع نہیں پہنچا سکتی ۔“
قرآن میں ایک جگہ ہے :
”بے شک جن لوگوں کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ‘وہ تمہارے لیے رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے ۔
پس تم اللہ کے ہاں سے رزق مانگو اور اُس کی عبادت کرو۔“
ایک اور جگہ پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
”اور ایسے لوگوں سے کون زیادہ گمراہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے سوا ایسے لوگوں کو پکارتے ہیں جو قیامت تک اُن کی دُعا قبول نہ کر سکیں بلکہ اُن کی آواز سے بھی بے خبر ہوں اور جب سب لوگ جمع کیے جائیں گے تو وہ اُن کے دشمن ہو جائیں گے اور اُن کی عبادت سے انکار کر دیں گے ۔

اِس آیت سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ غیر اللہ کو حاجت روائی کے لیے پکارنا اُن کی عبادت ہے حالانکہ انسان صرف اللہ کی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے ۔قرآن میں ایک اور جگہ ارشاد ہے :
کہ مضطر (بے بس )شخص کی دُعا کو قبول کرنے والا اور مشکل کو حل کرنے والا اللہ کے سوا کون ہے ۔“
یہ چند دلیلیں ہیں ورنہ اِس کے بیان کے لیے قرآن وسنت میں کئی ایک نصوص موجود ہیں جن کو پڑھ کر کوئی بھی ذی شعور اور صاحب عقل اللہ کے سوا کسی کو حاجت روااور مشکل کشا نہیں سمجھ سکتا ۔
یہ تو ایسی کھلی حقیقت ہے کہ مشرکینِ مَکّہ بھی اِس کا اعتراف کیے بغیر نہ رہ سکے ۔
قرآنِ مجید میں کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اُن کے اِس اعتراف کا ذکر کیا ہے ۔اگر کسی بزرگ کی قبر پر جا کر حاجت روائی کے لیے پکارنا درست ہوتا تواللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا بزرگ دُنیا میں کون ہو سکتا تھا ؟حال یہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہ میں سے کسی نے بھی امام الانبیاء (صلی اللہ علیہ وسلم )کی قبر پر جاکر کسی حاجت کے لیے کبھی نہیں پکارا اگر یہ کام جائز ہوتا تو صحابہ خصوصاً خلفاءِ راشد ین رضی اللہ عنہ کو اپنے دور میں بڑی بڑی ضرور توں اور مصائب کا سامنا تھا وہ ضرور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر آتے ۔

بالکل اِسی طرح دُعا کا مسئلہ ہے ۔ان جلیل القدر صحابہ رضی اللہ عنہ میں سے کسی نے بھی اللہ کے رسول کی قبر پر آکر یہ نہیں کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے دُعا کردیں ۔ہاں ! زندگی میں جو واقعتا بزرگ ہواُس سے دُعا کروانی درست ہے اور اِس میں بھی بزرگ سے نہیں مانگا جاتا بلکہ بلکہ اُس سے عرض کی جاتی ہے کہ وہ اللہ سے ہماری بہتری کے لیے دُعا کرے ۔

Your Thoughts and Comments