Azan Ki Ibtadaa

اذان کی ابتداء

روایت ہے کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بن زید، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچے اور کہا : یارسول اللہ ﷺ ! آج رات میں نے ایک خواب دیکھا کہ ایک سبزپوش ہاتھ میں ناقوس لیے میرے پاس آیا،

Azan Ki Ibtadaa
روایت ہے کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بن زید، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچے اور کہا : یارسول اللہ ﷺ ! آج رات میں نے ایک خواب دیکھا کہ ایک سبزپوش ہاتھ میں ناقوس لیے میرے پاس آیا، میں نے اس سے کہا، اے اللہ کے بندے یہ ناقوس بیچے گا؟ بولا تم اس کاکیا کرو گے ؟ میں نے جواب دیا نماز کااعلان کریں گے ۔

اس نے کہا اور اگر میں اس سے بھی اچھی ترکیب بتادوں ؟ یہ کہہ کر عبداللہ نے اذان سنائی ۔

حضور ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کا حکم دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس وقت گھر میں تھے ۔ آواز سن کرتیز تیز قدم اٹھاتے خدمت نبوی ﷺ میں حاضر ہوئے اور عرض کی : اے اللہ کے نبی ﷺ ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ۔ میں نے بھی یہی خواب دیکھا تھا۔
اس دن سے نماز کے لیے اذان دی جانے لگی اور مدینہ کی فضائیں دن میں پانچ مرتبہ تقدیس ورحمت کی خوشبوؤں سے معطّر ہونے لگیں ۔

Your Thoughts and Comments