Badshah Bannay Ki Khawahish Na Karna

بادشاہ بننے کی خواہش نہ کرنا

حضرت لقمان علیہ السلام نے ایک دفعہ اپنے بیٹے کو نصیحت کی تھی ” بیٹا “ غربت میں ہنسی خوشی زندگی بسر کردینا لیکن کبھی بادشاہ بننے کی خواہش نہ کرنا بیٹے نے حیرت سے پوچھا ابا جان کیوں ، حضرت لقمان علیہ السلام نے جواب دیا بیٹا غربت انسان کو عزت دیتی ہے اور بادشاہت رسوائی ۔ تم کبھی بادشاہ بننے کی خواہش نہ کرنا کیونکہ بادشاہ کی خواہشات کبھی پوری نہیں ہوتیں۔

Badshah Bannay Ki khawahish Na Karna
حضرت لقمان علیہ السلام نے ایک دفعہ اپنے بیٹے کو نصیحت کی تھی ” بیٹا “ غربت میں ہنسی خوشی زندگی بسر کردینا لیکن کبھی بادشاہ بننے کی خواہش نہ کرنا بیٹے نے حیرت سے پوچھا ابا جان کیوں ، حضرت لقمان علیہ السلام نے جواب دیا بیٹا غربت انسان کو عزت دیتی ہے اور بادشاہت رسوائی ۔ تم کبھی بادشاہ بننے کی خواہش نہ کرنا کیونکہ بادشاہ کی خواہشات کبھی پوری نہیں ہوتیں ۔


حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے مزید کہا کہ بیٹا اگر کوئی شخص تمہارے سامنے کسی کی شکایت کرے کہ فلاں نے میری آنکھ آندھی کردی ہے تو جب تک تم دوسرے کی بات نہ سن لو اس وقت تک یقین نہ کرنا کیونکہ ممکن ہے کہ اس شخص نے اس کی دونوں آنکھیں پہلے ہی نکال دی ہوں
حضرت لقمان کو ”حکیم لقمان“ بھی کہا جاتا ہے لیکن اس کا ہرگزیہ مطلب نہیں کہ وہ حکیم تھے دراصل حکمت سے مراد اسلام کی سمجھ ہے جیسا کہ قرآن پاک کی” سورة لقمان“ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ ترجمعہ : اور ہم نے لقمان کو دانائی بخشی ۔ لیکن ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے جو لفظ حکیم کی وجہ سے پوچھ بیٹھتے ہیں کہ کیا حضرت لقمان علیہ السلام علاج معالجہ کرنے والے حکیم تھے ۔

Your Thoughts and Comments