Bagh Ki Kharidari

باغ کی خریداری

مدینہ منورہ میں ا یک مرتبہ سخت قحط پڑگیا ۔ لوگ فاقوں کی وجہ سے مرنے لگے تھے ۔ دو وقت کی روٹی کے لئے لوگ اپنی قیمتی اشیااونے پونے داموں بیچ رہے تھے ۔ جن لوگوں کے پاس دولت تھی وہ یہ اشیا دھڑا دھڑاخریدرہے تھے۔

Bagh Ki Kharidari
صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ :
مدینہ منورہ میں ا یک مرتبہ سخت قحط پڑگیا ۔ لوگ فاقوں کی وجہ سے مرنے لگے تھے ۔ دو وقت کی روٹی کے لئے لوگ اپنی قیمتی اشیااونے پونے داموں بیچ رہے تھے ۔ جن لوگوں کے پاس دولت تھی وہ یہ اشیا دھڑا دھڑاخریدرہے تھے ۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے بہت زیادہ مال ودولت سے نوازا تھا۔
اسی دور میں آپ کے گھر والوں نے آپ کو بتایا کہ فلاں شخص اپنا باغ انتہائی سستے داموں بیچ رہا ہے ۔ آپ سے اس کا باغ خرید لیں ۔
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ سن کر آمادگی ظاہرفرمائی اور رقم لے کر باغ کے مالک کی طرف روانہ ہوگئے ۔ راستے میں جاتے ہوئے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا کہ فاقوں کی وجہ سے لوگوں کا برا حال ہے ۔

بھوک سے لوگ مر رہے ہیں ۔ یہ دیکھ کر حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے ۔ آپ نے یہ گوارانہ فرمایا کہ لوگ تو روٹی کے ایک ٹکڑے کے لئے مررہے ہوں اور وہ باغات کی خریداری کرتے پھریں ۔ آپ نے باغ کے لئے جو رقم رکھی تھی وہ ساری کی ساری مستحق لوگوں میں اللہ کے نام پر تقسیم کردی اور خود خالی ہاتھ گھر واپس تشریف لے آئے ۔
گھر واپس پہنے تو گھر والوں نے پوچھا :
کیا آپ نے وہ باغ خریدلیا ہے ؟
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب میں فرمایا :
ہاں ! میں تمہارے لئے جنت میں بہت ہی خوبصورت باغ خرید کرآرہا ہوں ۔

Your Thoughts and Comments