Bani Israil Ka Firoon K Zulm Sehna

بنی اسرائیل کا فرعون کے ظلم سہنا

فرعون بنی اسرائیل پر زیتون کا تیل اور گندھک گرم کرو ا کر ڈالتا رہا مگر بنی اسرائیل نے اس بدبخت کے ظلم برداشت کیے لیکن انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ نہ موڑا

Bani Israil ka Firoon k Zulm Sehna
بنی اسرائیل کا فرعون کے ظلم سہنا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت پر کار بندرہنا!
فرعون بنی اسرائیل پر زیتون کا تیل اور گندھک گرم کرو ا کر ڈالتا رہا مگر بنی اسرائیل نے اس بدبخت کے ظلم برداشت کیے لیکن انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ نہ موڑا اور نہ ہی فرعون کو سجدہ کیا۔حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمة اللہ علیہ متوفی 1391 ھ لکھتے ہیں:بنی اسرائیل نے یہ سب کچھ برداشت کیا مگر رب تعالیٰ کی اطاعت سے منہ نہ موڑ ا اور فرعون کو سجدہ نہ کیا۔

بہت سارے بنی اسرائیل جلادینے کے بعد ہامان کا فرعون کو بنی اسرائیل کو ذلیل کرکے رکھنے کا کہنا! جب بہت سارے بنی اسرائیل جلادئیے گے تو ہامان نے فرعون کو کہا ان کا مہلت دے دو اور ذلیل کرکے رکھو۔

حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمة اللہ علیہ متوفی 1391 ھ لکھتے ہیں:جب بہت سارے بنی اسرائیلی جلاد ئیے گے تب ہامان نے فرعون سے کہا کہ ان کو مہلت دے اور ان کو دنیا میں ذلیل کرکے رکھ،
فرعون کا بنی اسرائیل کو جلانے سے ہاتھ کھینچنا اور ان پر سختیاں کرنا! جب ہامان نے فرعون سے یہ کہا کہ ان کو مہلت دے دہو اور ان کو دنیا میں ذلیل کرکے رکھو تب فرعون نے بنی اسرائیل کو جلانے سے ہاتھ کھینچا اور ان پر سختیاں کرنا شروع کردیں۔

جب بہت سارے بنی اسرائیل جلادئیے گے تو ہامان نے فرعون کو کہا ان کا مہلت دے دو اور ذلیل کرکے رکھو۔حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمة اللہ علیہ متوفی 1391 ھ لکھتے ہیں:تب اس نے جلانے سے ہاتھ کھینچا اور اسرائیلیوں پر بہت سختیاں شروع کردیں۔
فرعون بنی اسرائیل کو عذاب دیتا اور طرح طرح کے کام لیتا تھا! فرعون بنی اسرائیل کو عذاب دیتا تھا اور ان سے طرح طرح کے کام لیتا تھا۔
امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری رحمة اللہ علیہ متوفی 310 ھ لکھتے ہیں امام ابن اسحاق رحمة اللہ علیہ نے بیان کیا ہے کہ فرعون بنی اسرائیل کو عذاب دیتا تھا ان سے طرح طرح کے کام لیتا تھا۔
فرعون بنی اسرائیل سے مکان بنواتا تھا! فرعون بنی اسرائیل سے مکان بنواتاتھا جوکہ مشقت کا کام ہے،امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری رحمة اللہ علیہ متوفی 310 ھ لکھتے ہیں امام ابن اسحاق رحمة اللہ علیہ نے بیان کیا ہے کہ فرعون بنی اسرائیل کو عذاب دیتا تھا ان سے طرح طرح کے کام لیتا تھا بعض سے مکان بنواتا تھا۔

فرعون بعض بنی اسرائیل سے کاشتکاری کرواتا تھا! فرعون بعض بنی اسرائیل سے کاشتکاری کرواتا تھا جوکہ محنت کا کام ہے،امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری رحمة اللہ علیہ متوفی 310 ھ لکھتے ہیں،امام ابن اسحاق رحمة اللہ علیہ نے بیان کیا ہے کہ فرعون بنی اسرائیل کو عذاب دیتا تھا ان سے طرح طرح کے کام لیتا تھا بعض سے مکان بنواتا بعض سے کاشتکاری کرواتا تھا۔

فرعون بعض بنی اسرائیل سے مزدوری لیتا تھا! فرعون بعض بنی اسرائیل سے مزدوری لیتا تھا۔امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری رحمة اللہ علیہ متوفی 310 ھ لکھتے ہیں ،امام ابن اسحاق رحمة اللہ علیہ نے بیان کیا ہے کہ فرعون بنی اسرائیل کو عذاب دیتا تھا ان سے طرح طرح کے کام لیتا تھا بعض سے مکان بنواتا اور بعض سے کاشتکاری کرواتا بعض سے مزدوری لیتا تھا۔
فرعون جن بنی اسرائیل سے کام نہ لیتا ان سے جزیہ لیتا تھا! فرعون جن بنی اسرائیل سے کام نہ لیتا تو ان سے جزیہ لیتا تھا۔امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری رحمة اللہ علیہ متوفی 310 ھ لکھتے ہیں ،امام ابن اسحاق رحمة اللہ علیہ نے بیان کیا ہے کہ فرعون بنی اسرائیل کو عذاب دیتا تھا ان سے طرح طرح کے کام لیتا تھا بعض سے مکان بنواتا بعض سے کاشتکاری کرواتا بعض سے مزدوری لیتا اور جن سے کوئی کام نہ لیتا ان سے جزیہ لیتا تھا۔

Your Thoughts and Comments