Bismillah Ki Barkat

بسم اللہ کی برکت

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مرتبہ اسلامی لشکر کی قیادت کررہے تھے ۔ اس مرتبہ مدمقابل نصرانی تھے ۔ لشکر اسلام نے ایک جگہ پر پڑاؤ ڈالا ۔ نصرانیوں کو لشکر اسلام کی خبر مل چکی تھی ۔ انہوں نے اپنے ایک انتہائی عقل مند اور جہاں دیدہ شخص جس کا نام عبدالمسیح تھا،

Bismillah Ki Barkat
حکایت صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ :
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مرتبہ اسلامی لشکر کی قیادت کررہے تھے ۔ اس مرتبہ مدمقابل نصرانی تھے ۔ لشکر اسلام نے ایک جگہ پر پڑاؤ ڈالا ۔ نصرانیوں کو لشکر اسلام کی خبر مل چکی تھی ۔ انہوں نے اپنے ایک انتہائی عقل مند اور جہاں دیدہ شخص جس کا نام عبدالمسیح تھا، اسے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھیجا تاکہ وہ پوری طرح صورت حال کا پتہ لگا کر آئے ۔
یہ شخص واقعی بڑا عقل مند تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے معاملہ کی تہہ تک پہنچ جایا کرتا تھا ۔
جب یہ نصرانی حضرت خالدبن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت اقدس میں پہنچا تو اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سے بوتل بھی تھی ۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے پوچھا :
یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟
نصرانی بولا :
اس بوتل میں ایسا خطرناک زہر ہے جس کو پیتے ہی انسان فوراََ مرجاتا ہے ۔


آپ نے پوچھا ۔
اسے ساتھ کیوں لائے ہو ؟
نصرانی بولا :
اس لئے کہ اگر آپ میرے ساتھ کوئی سختی کرنے کی کوشش کریں گے تو میں یہ زہر پی کر فوراََ موت کے سفر پر روانہ ہوجاؤں گا اور آپ کی سختی سے بچ جاؤں گا ۔
یہ سن کر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے ہاتھ سے زہر ولی بوتل پکڑ لی اور بسم اللہ کہتے ہوئے پوری بوتل پی کر خالی بوتل اس کے سامنے پھینک دی ۔
یہ دیکھ کر نصرانی اپنے ہوش وحواس کھو بیٹھا کیونکہ زہر نے اللہ تعالیٰ کے بابرکت نام کی وجہ سے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر کوئی بھی اثر نہ کیا تھا ۔
یہ نصرانی جب اپنی قوم میں واپس گیا تو کہنے لگا ۔
میں ایسے لوگوں سے مل کر آرہا ہوں جن پر زہر بھی اثر نہیں کرتا ۔ ان پر تلوار کیا اثر کرے گی ؟
اپنے سب سے عقل مند شخص کی بات سن کر نصرانیوں نے لڑائی کا ارادہ ترک کردیا اور مسلمانوں کو صلح کا پیغام بھیج دیا اور لڑائی سے باز رہے ۔

Your Thoughts and Comments