Darood Sharif Ki Fazilat

درود شریف کی فضیلت

ترجمہ:بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم پرصلوٰة بھیجتے ہیں، اے ایمان والو ! تم (بھی) ان پر صلوٰة اور خوب سلام بھیجو۔(سورة الاحزاب:۶۵)

Darood Sharif Ki Fazilat
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
ترجمہ:بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم پرصلوٰة بھیجتے ہیں، اے ایمان والو ! تم (بھی) ان پر صلوٰة اور خوب سلام بھیجو۔(سورة الاحزاب:۶۵)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ! جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود شریف پڑھتا ہے ، اللہ رب العالمین اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔
(مسلم ، نسائی ، ترمذی )۔
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کثرت سے درود شریف پڑھتا ہوں ، اپنی د عا میں سے کتنا وقت درود شریف کیلئے وقف کروں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا !جتنا تو چاہے میں نے عرض کیا : ایک چو تھائی صحیح ہے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا !جتنا تو چاہے ، میں نے عرض کیا : نصف وقت مقرر کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جتنا تو چاہے ، لیکن اگر اس سے زیادہ کرے تو تیرے لئے اچھا ہے۔

میں نے عرض کیا : دو تہائی مقرر کروں ؟ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ! جتنا تو چاہے ، لیکن اگر زیادہ کرے تو تیرے ہی لئے بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا ،میں اپنی ساری دعا کا وقت درود شریف کیلئے وقف کرتا ہوں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ! یہ تیرے سارے دکھوں اور غموں کیلئے کافی ہو گا اور تیرے گناہوں کی بخشیش کا باعث ہو گا۔ (ترمذی)
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر لانے کا حکم دیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھا تو فرمایا : آمین ! پھر دوسری سیڑھی پر قدم رکھا تو فرمایا : آمین ! پھر تیسری سیڑھی پر قدم رکھا تو فرمایا : آمین !خطبہ سے فارغ ہونے کے بعدجب آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے تشریف لائے تو صحابہ اکرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا :آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی بات سنی جو اس سے پہلے نہیں سنی تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جبریل علیہ السلام تشریف لائے اورکہا ہلاکت ہے اس آدمی کیلئے جس نے رمضان کا پورا مہینہ پایا اور وہ اپنے گناہ نہ بخشوا سکا۔میں نے جواب میں کہا :آمین۔پھر جب میں نے دوسری سیڑھی پر قدم رکھا تو جبریل علیہ السلام نے کہا :ہلاکت ہو اس آدمی کیلئے جس کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیا جائے اور وہ درود شریف نہ پڑھے۔میں نے جواب میں کہا :آمین۔پھر جب میں نے تیسری سیڑھی پر قدم رکھا ،تو جبریل علیہ السلام نے کہا :ہلاکت ہو اس آدمی کیلئے جس کے سامنے اس کے ماں باپ یا دونوں میں سے ایک بڑھاپے کی عمر کو پہنچے اور وہ انکی خدمت کرکے جنت حاصل نہ کی۔میں نے جواب میں کہا :آمین۔ (حاکم)

Your Thoughts and Comments