Dua Kabhi Rad Nehin Hoti

دعا کبھی رد نہیں ہوتی

دعا کے معنی الله تعالیٰ سے مانگنے اور اس کی بارگاہ میں اپنا دامن پھیلانے کے ہیں، دعا صرف مشکلات گرفتاری پریشانی اور بیماری سے چھٹکارا پانے کیلئے نہیں کی جاتی ہے بلکہ جو لوگ خالق حقیقی معرفت سے سرشار ہیں وہ اس بارگاہ میں ہر وقت دعا کرتے ہیں تاکہ

Dua Kabhi Rad Nehin Hoti
دعا کے معنی الله تعالیٰ سے مانگنے اور اس کی بارگاہ میں اپنا دامن پھیلانے کے ہیں، دعا صرف مشکلات گرفتاری پریشانی اور بیماری سے چھٹکارا پانے کیلئے نہیں کی جاتی ہے بلکہ جو لوگ خالق حقیقی معرفت سے سرشار ہیں وہ اس بارگاہ میں ہر وقت دعا کرتے ہیں تاکہ قرب الٰہی حاصل ہوجائے قبولیت دعا کیلئے ایک ضروری شرط یہ ہے کہ آدمی جلدبازی سے کام نہ لے ، بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنی کسی حاجت کے لئے دعائیں مانگتا ہے ، مگر جب بظاہر وہ مراد بر نہیں آتی تو مایوس ہوکر نہ صرف دعا کو چھوڑ دیتا ہے حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ بندے کی دعا قبول ہوتی ہے جب تک کہ جلدبازی سے کام نہ لے یوں تو اللہ تعالی ہر وقت اپنے بندوں کی دعا کو سنتا اور ان کی دعاوٴں کو قبول کرتا ہے لیکن کچھ خاص اوقات ایسے بھی ہیں، جن میں دعائیں بہت جلد قبول ہوجاتی ہیں، ان میں سے بعض اوقات یہ ہیں جمعہ کے دن کی ایک خاص گھڑی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاجن دنوں میں سورج طلوع ہوتا ہے ، ان میں افضل ترین دن جمعہ کا دن ہے ، اسی دن میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا، اسی دن دنیا میں انہیں اتارا گیا، اور اسی دن میں انکی توبہ قبول ہوئی، اور اسی دن انکی وفات ہوئی، جمعہ کے دن ہی قیامت قائم ہوگی، اور جنوں و انسانوں کے علاوہ ہر ذی روح چیز قیامت کے خوف سے جمعہ کے دن صبح کے وقت کان لگا کر خاموش رہتی ہے ، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جاتا ہے ، اس دن میں ایک ایسی گھڑی ہے ، جس گھڑی میں کوئی بھی مسلمان نماز پڑھتے ہوئے اللہ تعالی سے اپنی کوئی بھی ضرورت مانگے تو اللہ تعالی اسکی ضرورت پوری فرما دیتا ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن کا تذکرہ کیا، تو آپﷺ نے فرمایا کہ اس دن میں ایک ساعت ایسی ہے کہ کوئی مسلمان بندہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے اور اس ساعت میں جو چیز بھی اللہ سے مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اسے عطا کرتا ہے ، اور اپنے ہاتھوں سے اس ساعت کی کمی کی طرف اشارہ کیایعنی وہ وقت بہت چھوٹا ہوتا ہے (صحیح بخاری ومسلم )فرض نماز کے بعد حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ کونسی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے آپﷺ نے فرمایا رات کے آخری حصے میں اور فرض نمازوں کے بعد مانگی جانے والی دعا(ترمذی صحیح) اذان اور اقامت کے درمیان حضرت انس بن مالک سے روایت ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ اذان اور اقامت کے درمیان کی جانے والی دعا رد نہیں کی جاتی لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ پھر ہم اس وقت کیا دعا کریں؟ آپﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت کی عافیت مانگا کرو(ابوداؤد والترمذی) سجدہ کی حالت میں حدیث میں ہے کہ آدمی کو اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ قرب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے ، اس لئے خوب کثرت اور دل جمعی سے دعا کیا کرو(صحیح مسلم )حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ انسان اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے ، اس لئے سجدے میں دعا کثرت سے کیا کرو( صحیح مسلم وأبوداود وأحمد)تلاوت قرآن کے بعد حضرت عمران بن حصین سے روایت ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص قرآن پڑھے اسے چاہئے کہ اللہ سے سوال کرے اس لئے کہ عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو قرآن پڑھ کر لوگوں سے سوال کریں گے (ترمذی صحیح )رات کے آخری پہر میں رات کے آخری حصہ میں کیونکہ اس وقت بندہ اپنے رب کے بہت قریب ہوتا ہے حضرت جابررضی اللہ عنہ سے روایت ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رات میں ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ اس وقت جو مسلمان بندہ بھی اللہ تعالیٰ سے جو بھی بھلائی مانگے گا اللہ تعالیٰ اسے ضرور عطا فرمائیں گے (صحیح مسلم )اذان اور بارش کے وقت حضرت سہل بن سعد سے روایت ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دو دعائیں رد نہیں کی جاتیں ایک اذان کے وقت ،دوسرے بارش کے وقت (أبوداود) آب زمزم پیتے ہوئے حضرت جابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ زمزم کا پانی جس نیت سے پیا جائے وہ پوری ہوتی ہے ۔

مرغ کی بانگ کے وقت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم مرغ کی بانگ سنو تو اللہ سے اس کے رحمت و فضل کی
دعا مانگو کیونکہ اس مرغ نے فرشتہ دیکھا ہے اور جب تم گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے خدا کی پناہ مانگو یعنی ”اعوذ بااللہ من الشیطن الرجیم “پڑھوکیونکہ اس نے شیطان کو دیکھا ہے ۔

Your Thoughts and Comments