Fazeelat O Ibadat Ki Raat

فضیلت وعبادت کی رات

شب برأت، شب کے معنی رات اور برأت کے معنی چھٹکارے کے ہیں، یہ جہنم کی آگ سے نجات پانے کی رات ہے

Fazeelat o Ibadat Ki Raat
حافظ کریم اللہ:
شعبان المعظم سال کا آٹھواں مہینہ ہے،یہ سارا مہینہ برکتوں اور سعادتوں کا مجموعہ ہے۔اس ماہ کی پندرہویں رات میں اللہ تعالی کی رحمت سے بے شمار مسلمان جہنم سے نجات پاتے ہیں اس لئے اسے شب برأت کہاجاتا ہے۔ماہ شعبان آقاﷺ کا محبوب ترین مہینہ ہے آپﷺ اس ماہ مبارک میں اکثرروزے رکھا کرتے تھے اور فرمایاکرتے تھے کہ اپنی استطاعت کے مطابق عمل کرو کہ اللہ پاک اس وقت تک اپنا فضل نہیں روکتا جب تک تم اکتا نہ جاؤ۔
بے شک اس کے نزدیک پسندیدہ نفل نماز وہ ہے جس پر ہمیشگی اختیار کی جائے اگرچہ کم ہوتو پس جب آپ کوئی نفل نماز پڑھتے تو اس پر ہمیشگی اختیار فرماتے۔ام المومین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ پورے شعبان کے روزے رکھا کرتے تھے۔

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا”یارسول اللہﷺ کیا سب مہینوں میں آپﷺ کے نزدیک پسندیدہ ماہ شعبان کے روزے رکھنا ہے تو نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا،اللہ رب العزت اس سال مرنے والی ہر جان کو لکھ دیتا ہے اور مجھے یہ پسند ہے کہ میرا وقت رخصت آئے اور میں روزہ دار ہوں“(مسندابویعلی)۔

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں آپﷺ کو شعبان کے روزے رکھتے دیکھتا ہوں۔کہ آپ کسی بھی مہینے میں اس طرح روزے نہیں رکھتے۔فرمایا رجب اور رمضان کے بیچ میں یہ مہینہ ہے لوگ اس سے غافل ہیں۔اس میں لوگوں کے اعمال اللہ رب العزت کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اور مجھے یہ محبوب ہے کہ میرا عمل اس حال میں اٹھایا جائے کہ میں روزہ دار ہوں۔
(سنن نسائی)
لفظ شعبان میں پانچ حروف ہیں ش،ع،ب،ا،ن۔ش سے مراد شرف یعنی بزرگی،ع سے مراد علویعنی بلندی،ب سے مراد بریعنی بھلائی واحسان،ا ،سے الفت اور ن سے مراد نور ہے۔یہ تمام چیزیں اللہ پاک اپنے بندوں کو اس ماہ مبارک میں عطا فرماتا ہے۔اس ماہ مبارک میں نیکیوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں،برکات کا نزول ہوتا ہے۔خطائیں ترک کردی جاتی ہیں،گناہوں کا کفارہ ادا کیا جاتا ہے۔
آقائے دوجہاںﷺ پر درود کی کثرت کی جاتی ہے۔اور یہ نبی مختارﷺ پر درود بھیجنے کا مہینہ ہے۔سیدنا حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ماہ شعبان المعظم کا چاند نظر آتے ہی صحابہ کرام علیہم الرضوان تلاوت قران پاک میں مشغول ہو جاتے ۔اپنے اموال کی زکٰوة نکالتے تاکہ کمزور اور مسکین لوگ ماہ رمضان المبارک کے روزوں کی تیاری کرسکیں۔
حکام قیدیوں کو طلب کرکے جس پر حد قائم کرنا ہوتی ا س پر حد قائم کرتے اور بقیہ کو آزاد کردیتے۔تاجر اپنے قرضے ادا کردیتے۔دوسرں سے اپنے قرضے وصول کرلیتے اور رمضان المبارک کا چاند نظر آتے ہی غسل کر کے (بعض حضرات سارے ماہ کیلئے) اعتکاف میں بیٹھ جاتے ۔آقائے دو جہاں سرور کون ومکاںﷺ کا ارشاد پاک ہے:”شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان اللہ تعالی کا مہینہ ہے“۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریمﷺ کو تمام مہینوں سے زیادہ پیار مہینہ شعبان کا مہینہ تھا۔(نذہت المجاس)۔
اس ماہ مبارک کی پندرہویں رات کتنی نازک رات ہے نہ جانے قسمت میں کیا لکھ دیا جاتاہے۔ انسان بعض اوقات غفلت میں پڑا رہ جاتا ہے۔اور اس کے بارے میں کچھ کا کچھ ہو چکا ہوتا ہے۔شب برأت جہنم کی آگ سے نجات پانے کی رات ہے،مگر آج کل ہم مسلمانوں کو کیا ہو گیا ہے کہ آگ سے چھٹکارا حاصل کرنے کی بجائے خود اپنے لئے آگ یعنی آتش بازی کا سامان خریدتے ہیں۔
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی فرماتے ہیں کہ آتش بازی نمرود بادشاہ نے ایجاد کی جبکہ اس نے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ اسلام کو آگ کے انار بھر کر ان میں آگ لگا کر حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ اسلام کی طرف پھینکے۔یہ بڑی عظمت والی رات ہے اس رات اللہ پاک گناہ گاروں کو دوزخ کی آگ سے نجات دیتا ہے۔ہم اس رات آگ سے بچنے کی بجائے گھروں میں شیطانی کام (پٹاخے۔
شرکنیاں،ٹائر وغیرہ جلانا) کرتے ہیں۔حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی فرماتے ہیں آتش بازی بنانا،بیچنا،خریدنا،اور خریدوانا،چلانا، اور چلوانا سب حرام ہے۔لہذا ہم خود بھی ان کاموں سے بچیں،دوسروں کو بھی بچائیں اور اللہ پاک کی رحمت کے حقدار بن جائیں۔یہ سار مہینہ برکتوں اور سعادتوں کا مجموعہ ہے مگر اس کی پندرہویں رات بڑی برکت والی ہے۔

قران مجید فرقان حمید میں اسی رات کو ”لیلة مبارکہ“ کہا گیا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:۔ترجمہ:”حمء اس کتاب روشن کی قسم،ہم نے اس کو مبارک رات میں اتارا ہم توڈر سنانے والے ہیں۔بانٹ دیاجاتا ہے اس رات میں ہرحکمت والا کام ہمارے پاس کے حکم سے بے شک ہم بھیجنے والے ہیں تمہارے رب کی طرف سے رحمت،بیشک وہ سنتا ہے جانتا ہے“۔مفسرین کرام نے ”لیلتہ مبارکہ“ سے مراد شعبان المعظم کی پندرہویں رات لی ہے۔
ماہ شعبان کی پندہویں رات کو” شب برأت کہا جاتا ہے،اس رات میں اللہ رب العزت قبیلہ بنی قلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے زیادہ گناہ گاروں کو بخشش دیتا ہے۔قبیلہ بنی کلب کے بارے میں آتا ہے کہ عرب قبائل میں سب سے زیادہ بکریاں پالنے والا قبیلہ بنی کلب تھا۔ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ پاک شعبان کی پندرہویں شب میں تجلی فرماتا ہے،استغفار،توبہ کرنے والوں کو بخش دیتا ہے اور طالب رحمت پر رحم فرماتا ہے۔
عداوت والوں کو جس حال پر ہیں اسی پر چھوڑ دیتا ہے۔(شعب الایمان)۔حضرت سیدنا معاذبن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سلطان مدینہ راحت قلب و سینہ جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفی ﷺ کا ارشاد پاک ہے۔شعبان کی پندرہویں شب میں اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کی طرف تجلی فرماتا ہے اور سب کو بخشش دیتا ہے مگر کافر اور عداوت والے کو (نہیں بخشا) (صحیح ان حبان) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا میرے پاس جبرائیل آئے اور کہا یہ شعبان کی پندرہویں رات ہے اس میں اللہ تعالیٰ جہنم سے اتنوں کو آزاد فرماتا ہے جتنے بنی کلب کی بکریوں کے بال ہیں مگر کفار،عداوت والے،رشتہ دارکاٹنے والے(تکبر کے ساتھ ٹخنوں کے نیچے)کپڑا لٹکانے والے ،والدین کی نافرمانی کرنے والے اور شراب کے عادی کی طرف نظر رحمت نہیں فرماتا۔
ایک او ر روایت میں ہے کہ اللہ پاک شعبان کی پندرہویں شب میں تمام زمین والوں کو بخش دیتا ہے سوائے کافر اور عداوت والے کے۔
امیرالمومنین حضر ت علی المرتضیٰ شیر خدا شعبان المعظم کی پندرہویں رات اکثر باہر تشریف لاتے،ایک بار اسی طرح شب برأت میں باہر تشریف لائے اور آسمان کی طرف نظر اُٹھا کر فرمایا۔ایک مرتبہ اللہ کے نبی حضرت سیدنا داؤد علیہ اسلام نے شعبان کی پندرہویں رات آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور فرمایا۔
یہ وہ وقت ہے کہ اس وقت میں جس شخص نے اللہ پاک سے جو دعا مانگی اس کی دعا اللہ پاک نے قبول فرمائی اور جس نے مغفرت طلب کی اللہ پاک نے اس کی مغفرت فرمادی بشرطیکہ دعا کرنے والا عُشار(ظلماََ ٹیکس لینے
والا) جادوگر،کاہن،نجومی (ظالم)حاکم کے سامنے چغلی کھانے والا گویا اور باجا بجانے والا نہ ہو،پھر یہ دعا کی:” الھم رب داؤداغفر لمن دعاک فی ہذہِ الیلتہ اوا استغفرک فیھا“یعنی اے اللہ عزوجل! اے داؤد علیہ اسلام کے رب جو کوئی اس رات میں تجھ سے دعا کرے یا مغفرت طلب کرے تو اس کو بخش دے(ماثبت بالسنتہ)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ چار اتوں کو خیرو برکت کے دروازے صبح تک کھول دیتا ہے۔

1:شب عیدالفطر،2 : شب عیدالضحی،3 : پندرہ شعبان کی رات(اس رات کو مخلوق کی درازی عمر،رزق میں برکت اور حاجیوں کے نام لکھے جاتے ہیں)،4 : شب یوم عرفہ(نوذوالحجہ کی رات) اذان (فجر)تک،فرشتوں کی آسمان میں دو عید کی راتیں ہوتی ہیں جس طرح مسلمانوں کے لئے زمین پر دو عیدیں ہوتی ہیں،فرشتوں کی عیدیں شب برأت اور لیلتہ القدر ہیں،مومنوں کی عیدیں عیدالفطر اور عیدالضحیٰ ہیں۔
فرشتوں کی عیدیں رات کو اس لئے ہوتی ہیں کہ وہ سوتے نہیں اور مومنوں کی عیدیں اس لئے دن کو ہوتی ہیں کہ وہ سوتے ہیں۔حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا
” جب شعبان المعظم کی پندرہویں رات ہو تو اس رات کو قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو کیونکہ اس رات میں اللہ تعالیٰ کی تجلی آفتاب کے غروب ہونے کے وقت ہی سے آسمان ودنیا پر ظاہر ہوتی ہے اور
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
کہ کیا کوئی بخشش مانگنے والا ہے کہ میں اس بخش دوں،کیا کوئی رزق مانگنے والا ہے کہ اس کو عطا کروں،کیا کوئی مصیبت زدہ ہے کہ میں اس چھوڑوں،کیا کوئی فلاں فلاں حاجت والا ہے کہ میں اس کی حاجت پوری کروں حتیٰ کہ صبح ہوجاتی ہے“
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے شعبان المعظم کی پندرہویں رات کو حضورﷺ کو دیکھا کہ آپﷺ نے چودہ رکعت نماز ادا کی پھر آپﷺ نے بیٹھ کر سورة الفاتحہ،سورة الاخلاص،سورة الفلق او ر سورةالناس چودہ مرتبہ پڑھیں۔
پھر آیت الکرسی ایک بار پڑھ کر” لقد جاء کم رسول من انفسکم عزیز علیہ ماعنتم حریص،علیکم بالمومنین رؤف رحیم۔فان تولوفقل حسبی اللہ لاالہ الاھو علیہ توکلت و ھورب العرت العظیم“ پوری آیت کریمہ پڑھی،پھر اس سے فارغ ہو کر حضور ﷺ نے فرمایا” اے علی جو ایسا عمل کرے گا جیسا کہ میں نے کیا تو اس کو 20 مقبول حج اور 20 سال کے روزوں کا ثواب ملے گا۔

جو شخص اس رات کو چار رکعت نماز نفل عبادت کی نیت پڑھے اور دن کو روزہ رکھے تو اللہ تعالیٰ اس کے 50 سال کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔جو شخص اس رات کو آٹھ رکعت نماز نفل اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورة الفاتحہ کے بعد گیارہ،گیارہ مرتبہ سورة الاخلاص پڑھے اور نماز پڑھ کر اس کا ثواب سیدہ کائنات حضرت فاطمتہ الزہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روح کو بخشے تو اس کے متعلق سیدہ کائنات فاطمتہ الزہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں جنت میں اس وقت تک قدم نہیں رکھو گی جب تک اس کی شفاعت نہ کروالوں۔

آقائے دو جہاںﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے بارہ رکعت نماز نفل اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورة الفاتحہ کے بعد دس مرتبہ سورة الاخلاص پڑھے تو اس کے تمام گناہ معاف کردئیے جائیں گے اور اس کی عمر میں برکت ہو گی۔حضورﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص پندرہ شعبان کو روزہ رکھتا ہے اسے دو سال ایک گزشتہ اور ایک سال آئندہ کے روزوں کا ثواب ملتا ہے۔ایک اور روایت میں ہے کہ پندرہ شعبان کو جن، پرندے درندے اور سمندر کی مچھلیاں بھی روزہ رکھتی ہیں۔

Your Thoughts and Comments