Ghazwa E Badr 313 Ne Kufr K Dant Khatay Kar Diay

غزوہٴ بدر، 313 نے کفر کے دانت کھٹے کردیئے

دو کم عمر بچے تلواروں سے ابو جہل پر حملہ آور ہوئے اور مار مار کراسے گرادیا

Ghazwa e Badr 313 Ne Kufr K Dant Khatay Kar Diay
مولانا حسین احمد اعوان:
17 رمضان المبارک تاریخ اسلام میں تاریخ ساز دن ہے کیونکہ اس دن عرب کی سرزمین پر کفرو شرک کے باطل نظریات پر اسلام کی حقانیت نے فتح حاصل کی۔قرآن پاک اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ۔ ترجمہ: اور یہ بات محقق ہے کہ حق تعالے نے تم کو بدر میں منصور فرمایا حالانکہ تم بے سرو سامان تھے۔ سو اللہ تعالے سے ڈرتے رہا کرو تاکہ تم شکر گزار رہو۔
کیا تم کو یہ امر کافی نہ ہوگا کہ تمہارا رب تمہاری امداد کرے تین ہزار فرشتوں کے ساتھ جو اتارے جائیں گے۔ ہاں کیوں نہیں اگر استقامت اختیار کرو گے اور وہ تم پر ایک دم آپہنچیں گے تو تمہارا رب تمہاری امداد فرمائے گا یا فرشتوں کے ساتھ جو ایک خاص وضع کے بنائے ہوں گے اور اللہ تعالے نے یہ امداد محض اس لئے کی کہ تمہارے لئے بشارت ہو اور تاکہ تمہارے دلوں کو قرار ہوجائے اور نصرت صرف اللہ تعالے ہی کی طرف سے ہے۔

جو غالب حکمت والا ہے( القرآن پارہ 4) بدر کی لڑائی اس لحاظ سے افضل ترین لڑائی ہے کہ اس میں مقابلہ بہت سخت تھا مسلمانوں کی تعداد نہایت قلیل یعنی صرف313تھی۔ جن کے پاس صرف تین گھوڑے چھ نیزے اور آٹھ تلواریں تھیں اور ستر اونٹ تھے۔ ایک ایک اونٹ پر کئی کئی افراد باری باری سوار ہوتے تھے جبکہ کفار کی تعداد ایک ہزار تھی جن میں سو گھوڑے سات سو اونٹ اور لڑائی کا کثیر سامان موجود تھا۔
اسی وجہ سے وہ لوگ نہایت اطمینان کے ساتھ باجوں اور گانے والی عورتوں کے ساتھ میدان جنگ میں آئے۔ادھر نبی اکرم ﷺنہایت متفکر کہ مسلمان نہایت کمزوری کی حالت میں ہیں۔ جب حضور نے دونوں جماعتوں کا اندازہ لگایا تو دعا مانگی یا اللہ یہ مسلمان ننگے پاؤں ہیں تو ہی ان کو سواری دینے والا ہے۔ یہ ننگے بدن ہیں تو ہی ان کو کپڑے دینے والا ہے۔ یہ بھوکے ہیں تو ان کا پیٹ بھرنے والا ہے۔
یہ فقیر ہیں تو ہی ان کو غنی کرنے والا ہے۔ چنانچہ یہ دعا آپ کی قبول ہوئی۔ ان سب باتوں کے باوجود حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت برابن عازب دونوں حضرات لڑائی کے شوق میں گھر سے چل دیئے۔ نبی اکرم نے کم عمری کی وجہ سے انہیں راستے ہی سے لوٹا دیا۔ان بچوں میں جذبہ جہاد اتنا زیادہ تھا کہ وہ بار بار کفار کے خلاف جنگوں میں حصہ لینے کیلئے اجازت طلب کرتے تھے۔
غزوہ بدر کے موقع پر سید عالم نے انصارو مہاجرین کو جمع کیا اور دریافت فرمایا کہ کون ہے جو اللہ پاک کی راہ میں اپنی جان کو قربان کرے تو سب سے پہلے مہاجرین کی طرف سے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ اے ہادی دوراں ہمارے جان و مال اولاد سب کچھ آپﷺ پر قربان ہوں۔ انصار کی ترجمانی کرتے ہوئے حضرت مقداد نے عرض کی یا رسول اللہ ہم قوم موسی کی طرح کہہ دینے والے نہیں ہیں۔
نبی کا حکم ہو تو ہم کود جائیں سمندر میں اور جہاں کو محو کر دیں نعرہ اللہ اکبر میں۔یہ جواب ان صحابہ رضی اللہ عنہ کا تھا جن کے پیٹ پر تین تین دن تک پتھر بندھے رہتے تھے۔ رمضان المبارک کا سترہواں روزہ اور طویل دن تھا۔جب اپنے سے تین گنا زیادہ دشمن سے نبرد آزما ان صحابہ کی ہر طرف سے یہ آوازیں آرہی تھیں کہ غلامان محمدﷺجان دینے سے نہیں ڈرتے۔
” یہ سرکٹ جائے یا رہ جائے کچھ پرواہ نہیں کرتے“۔اس جنگ میں ایک آواز آرہی تھی آگے بڑھو، آگے بڑھو، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم حیران تھے کہ یہ آواز کیسی ہے۔ حضور پاکﷺ نے فرمایا کہ ہیزوم جبرائیل کی سواری کا نام ہے۔ وہ اپنی سواری کو کہہ رہے ہیں کہ آگے بڑھو۔ صحابہ فرماتے ہیں کہ ہم کئی بار کسی کافر کو قتل کرنا چاہتے تو پہلے ہی قتل ہو جاتا ہم سمجھ لیتے یہ اللہ کی نصرت ہے۔
اس جنگ میں مسلمان بے سروسامانی کی حال میں تھے مگر اللہ تعالی نے اس قلیل جماعت کو اپنے سے تین گنا زیادہ لشکر پر شاندار فتح عطا فرمائی اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ میرے حکم سے کئی قلیل جماعتیں کثیر جماعتوں پر غالب آتی ہیں۔ اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے( القرآن) اس جنگ میں دو انصار بچے بھی شہید ہوئے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف فرماتے ہیں کہ بدر کے میدان میں لڑنے والوں کی صف میں کھڑا تھا۔
میں نے دیکھا کہ میرے دائیں اور بائیں انصار کے دو کم عمر لڑکے ہیں۔ مجھے خیال ہوا کہ میں قوی اور مضبوط لوگوں کے درمیان ہوتا تو اچھا تھا کہ ضرورت کے وقت ایک دوسرے کی مدد کرسکتے۔ میرے دونوں جانب بچے ہیں کیا مدد کرسکیں گے۔ اتنے میں دونوں بچوں میں سے ایک نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا چچا جان ابو جہل کہاں ہے میں نے اشارہ کیا بچو وہ دیکھو گھوڑے پر بیٹھا ہے بچے ایک دم اس کی طرف بھاگے اور تلواروں سے ابو جہل پر حملہ آور ہوئے۔
یہاں تک کہ تلواریں مار مار کر اسے گرا دیا یہ دونوں بچے معاذ بن عمرو بن جموح اور معاذ بن عضرا ہیں۔ معاذ بن عمرو کہتے ہیں کہ میں لوگوں سے سنتا تھا کہ ابو جہل کو کوئی نہیں مار سکتا۔ مجھے اسی وقت سے خیال تھا کہ میں اس کو ماروں گا جبکہ دونوں بچوں نے گھوڑے اور ابو جہل کو نیچے گرایا اور ابو جہل کو تڑپتا چھوڑ کر آگئے۔ عبداللہ بن مسعود نے اس کا سرتن سے جدا کردیا۔
معاذ بن عمرو کہتے ہیں کہ ابو جہل کے بیٹے نے مجھ پر حملہ کیا تو میرا ہاتھ کٹ گیا۔ میں نے لٹکتے ہوئے ہاتھ کو پیچھے کیا اور پورا دن کٹے ہاتھ سے لڑتا رہا۔ بالا آخر لٹکتے ہوئے ہاتھ کو پاؤں کے نیچے دبا کر بدن سے الگ کردیا۔ غرضیکہ یہ دونوں بچے اس لڑائی میں شہادت کے درجے پر جا پہنچے۔جہاد کا مقدس فریضہ اسی جذبے کاتقاضا کرتا ہے۔ آمین

Your Thoughts and Comments