Hairat Angez Pull

حیرت انگیز پُل

دریائے سندھ ایسا عظیم الشان دریا ہے کہ اہل ہنداسے اباسی (دریاؤں کا باپ) کہتے ہیں دنیا میں بہت کم ایسے دریا ہیں جو اس کا مقابلہ کرتے ہیں ۔ محمد بن قاسم جب سندھ فتح کرنے نکلا تو اسے دریائے سندھ کا سامنا در پیش تھا۔

Hairat Angez Pull
صادق حسین صدیقی :
دریائے سندھ ایسا عظیم الشان دریا ہے کہ اہل ہنداسے اباسی (دریاؤں کا باپ) کہتے ہیں دنیا میں بہت کم ایسے دریا ہیں جو اس کا مقابلہ کرتے ہیں ۔ محمد بن قاسم جب سندھ فتح کرنے نکلا تو اسے دریائے سندھ کا سامنا در پیش تھا۔
مسلمان صبح کی نماز پڑھتے ہی روانہ ہوئے اور دریا کے کنارے پر پہنچ گئے اور اسے عبور کرنے کی تدابیر سوچنے لگے ۔
محمد بن قاسم کو بڑا فکرتھا اسے آرام کہاں ملتا وہ گھوڑے پر سوار ہوا اور دریا کے کنارے شمال مشرق کی طرف بڑھا ۔ کئی میل چلا لیکن کہیں بھی دریا کچھ تھوڑا ساتنگ ہوتا بھی نظر نہ آیاوہ واپس لوٹ آیا اور تمام شب اسی فکر میں غلطاں وپیچاں رہا۔ صبح اس نے نماز پڑھتے ہی پھر لشکر کوکنارہ پر صف بستہ ہوبے کاحکم دیا۔

تمام لشکر مسلح ہوکر کنارہ پر جاپہنچا۔

سب کے بعد محمد بن قاسم آیااور اس نے کہا :
مسلمانو! آج میرے ذہن میں ایک تجویز آئی ہے اگر اللہ تعالیٰ نے چاہاتو ہم دریاپل بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے ۔
عام طور پر کشتیاں آٹھ گز لمبی اور پانچ گز چوڑی تھیں اکثر کشتیاں چھ چھ گز اور چار چار گرلمبی تھیں ۔ مگر چھوٹی کشتیاں تھوڑی تھیں اور بڑی زیادہ تھیں ۔ مسلمانوں نے ہرکشتی کو دوسری سے ملا کر موٹے موٹے رسوں سے خوب مضبوط کس کس کر پل تیار کردیا۔
جب پل تیار ہوگیا تو محمد بن قاسم کشتیوں میں گیا اور اس نے جانچ لیا کہ یہ پل ایسا مضبوط بنا دیا ہے جوآسانی سے ٹوٹ نہیں سکتا اب اس نے ان پر تختے بچھوانے شروع کردیے ۔ چنانچہ تمام کشتیوں پر تختے بچھابچھا کرجڑدیے گئے تاکہ وہ کسی وقت بھی جنبش نہ کرسکیں ۔
جب اس طرح پل تیار ہوگیا اور دن چھپنے کے قریب پہنچ گیا تومحمد بن قاسم نے آج مسلمانوں کو پل کے پاس اور پل کے اوپر ہی آرام کرنے کایا ٹھہرنے کا حکم دیا۔
چنانچہ مسلمان پل کے تختوں اور دریا کے کنارے پر کھڑے دیکھتے رہے ان کی سمجھ میں ہی نہ آتاتھا کہ مسلمان کیا کررہے ہیں ۔ ہندو تو کیا مسلمان ہی نہ سمجھے تھے ۔ لیکن ہندوؤں کواندیشہ پیدا ہوگیا تھا کہ مسلمان رات کے وقت کوئی کارروائی کریں گے ۔ اس لے وہ سامنے والے کنارے پر آگئے تھے اور مسلمانوں کے بالمقابل ٹھہر گئے تھے ۔ سار رات مسلمان اورہندوآگ روشن کیے باری باری جاگتے سوتے رہے جب صبح ہوئی تومسلمانوں نے نماز پڑھی نماز پڑھ کر محمد بن قاسم نے دعامانگی ۔

اے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی ادماد کراور تجویز جو میں نے سوچی ہے۔ اس میں کامیابی عطا فرما ۔ آمین ثم آمین ۔
دعامانگ کروہ اٹھا اور مسلمانوں کو مسلح ہونے کاحکم دیا۔ فوراََ مسلمان مسلح ہوہو کرکھڑے ہوگئے ۔ اور ادھر موکہ اور اس کا لشکر بھی حیرت سے مجاہدین اسلام کی طرف دیکھ رہے تھے کہ محمد بن قاسم کیا کرنے والا ہے۔
محمدبن قاسم نے بہت سے موٹے موٹے رسے کشتی کے کنڈوں میں باندھ کر ان ڈھالوں کو کشتی میں ڈلوایادیا اور ان مین میخیں باندھ دیں چند کشتیاں جنوب کی طرف لگا کرپل سے باندھ دی گئیں اور ان میں بھی مجاہدین کو بٹھا دیا گیاا س کے علاوہ آگے پیچھے تمام کشتیوں پر مسلمان کھڑے کردیے گئے اور ان کو زیادہ تعداد میں تیردے دیے گئے اب محمد بن قاسم نے رسوں کو کھلوایا جو کنارہ میں میخوں سے بندھے تھے اور جن کے سہارا سے پل ٹھہرا ہوا تھا ملاحوں کو حکم دیا کہ وہ شمال سے مشرق کی طرف پل کو تیرائیں ۔

چنانچہ ملاحوں نے پتوار اور ڈنڈالے کر شماکی جانب کی آخری کشتی کو مشرق کی طرف پھیلایا۔ جوں جوں وہ بڑھی جاتی تھی پل مشرق کی طرف پھیلتا جاتا تھا اب ہر ایک کی سمجھ میں آگیا کہ محمد بن قاسم کیاچاہتا ہے اس کا مطلب یہ تھا کہ اس طرح شمال کی طرف کشتیاں دھکیل کر مشرق کی طرف بڑھتی جائیں گی اور پل مغرب سے مشرق کی طرف پھیلتا جائے گا۔
چونکہ پل بنانے کی یہ عجیب اور نرالی تدبیر تھی اس لیے سب نوجوان مجاہد محمد بن قسم کی عقل ودانش پر آفرین پکار اٹھے ۔
چونکہ کشتیاں ایک دوسرے سے بندھی ہوئی تھیں ۔ اس لیے سرے والی کشتی کے ساتھ مشرق کی طرف بڑھتی چلی جارہی تھیں۔ یہ عجیب تدبیرپل بنانے کودیکھ کر ہندوحیرت زدہ ہوگئے دیر تک دیکھتے رہے ۔ جب پل بہہ کران کے زیادہ قریب پہنچ گیا تو وہ حیرت سے چونکے اور شور کرکرکے تیر برسانے لگے ۔ محمد بن قاسم نے تیروں سے بچنے کے لیے تدبیر پہلے ہی کررکھی تھی اس نے ڈھالوں کا قلعہ بنوادیا تھا۔
ہندوؤں کے تیرڈھالوں پر آآکر رک رہے تھے ادھر وہ کشتیاں پل کے ادھر ادھر لگائی گئی تھیں۔
ان میں جومسلمان سوار تھے انہوں نے ہندوؤں پر تیرے برسانے شروع کیے ۔ ملاحوں نے اپنی پوری طاقت سے کشتیوں کوکھیلناشروع کیا وہ بھی ڈھالوں کی آڑ میں بیٹھے پتوار چلارہے تھے ۔ کشتیاں نہایت تیزی سے پھیلتی جاتی تھیں ۔ جوں جوں پھیلتی جاتی تھی پل بندھتا چلاجارہا تھا ۔
مسلمان نہایت خوش ہورہے تھے ان کے ادھرادھر پانی کی لہریں اٹھ رہی تھیں اور وہ نہایت اطمینان سے بیٹھے اور کھڑے تھے جو مسلمان پچھلی کشتیوں میں کھڑے تھے اور وہ بھی ہندوؤں پر تیر پھینک رہے تھے آج ہندو بھی مسلمانوں کے تیروں سے مجروح ہورہے تھے ۔
مسلمان کو دکود کرخشکی پر جاپہنچے اور انہوں نے سب سے پہلے رسے کھینچ کر میخیں گاڑدیں اور اس طرح مغرب سے مشرق تک پل قائم ہوگیا ۔

Your Thoughts and Comments