Hasd Ki Burai

”حسد کی برائی“

حسد و کینہ ایسی بری عادت ہے جس کی مذمت میں بہت سی اَحادیث بیان ہوئی ہیں۔یہ تو ظاہر ہے کہ حسد نعمت پر ہی ہوا کرتا ہے۔ پس جب اللہ تبارک وتعالیٰ کسی بندہ کو کوئی نعمت عطا فرمائے تو دوسرے شخص کو اْس کے پاس وہ نعمت بْری معلوم ہو اس کو حسد کہیں گے

Hasd Ki Burai
علامہ منیر احمد یوسفی:
حسد و کینہ ایسی بری عادت ہے جس کی مذمت میں بہت سی اَحادیث بیان ہوئی ہیں۔یہ تو ظاہر ہے کہ حسد نعمت پر ہی ہوا کرتا ہے۔ پس جب اللہ تبارک وتعالیٰ کسی بندہ کو کوئی نعمت عطا فرمائے تو دوسرے شخص کو اْس کے پاس وہ نعمت بْری معلوم ہو اس کو حسد کہیں گے۔حضرت سیّدنا آدم ں کی تخلیق کے بعد سب سے پہلے حسد کرنے والا ابلیس ہے اور یہ حاسدین کا قائد ہے۔
حضرت آدم علیہ السلام کی اَولاد میں حسد کی آگ میں جلنے والا قابیل ہے جس نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر دیا۔
حسد کے تین درجے ہیں پہلا درجہ یہ ہے کہ حاسد دوسروں کی نعمت کا زوال چاہے کہ خواہ مجھے نہ ملے مگر اِس کے پاس سے بھی جاتی رہے۔ اِس قسم کا حسد مسلمانوں پر گناہ کبیرہ ہے اور کافر فاسق کے حق میں حسد کرنا جائز مثلاً کوئی مالدار اپنے مال سے کفر یا ظلم کر رہا ہے‘ اْس کے مال کی اِس لئے بربادی چاہنا کہ دْنیا اس کے کفر و ظلم سے بچے‘ جائز ہے۔


دوسرا درجہ یہ ہے کہ حاسددوسرے کی نعمت خود لینا چاہے کہ فلاں کا باغ یا اْس کی جائیداد میرے پاس آ جائے یا اُس کی ریاست کا میں مالک ہوں یہ حسد بھی مسلمانوں کے حق میں حرام ہے۔تیسرا درجہ یہ ہے کہ حاسد اس نعمت کے حاصل کرنے سے خود تو عاجز ہے اِس لئے آرزو کرتا ہے کہ دوسرے کے پاس بھی نہ رہے تاکہ وہ مجھ سے بڑھ نہ جائے یہ بھی منع ہے۔
حسد کے کل سات اَسباب ہیں پہلا سبب عداوت اور بغض ہے جس سے کسی کو اِیذاء پہنچ جائے۔
پہلے تو وہ بدلہ لینے کی کوشش کرتا ہے اور مجبور ہو کر چاہتا ہے کہ اِس پر غیبی مار پڑے اِس کی مصیبت سے خوش اور آرام سے ناخوش ہوتا ہے جیسا کہ اِرشادِ باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: ”اگر آپ ﷺ کو بھلائی پہنچے تو اُن کو بُرا لگتا ہے“۔ (آل عمران:۰۲۱)
دوسرا سبب تکبر ہے کہ حاسد اپنی بڑائی کا خواہشمند ہے۔ اِرشادِ خداوندی ہے: ”کیوں نہ اُتارا گیا یہ قرآنِ (مجید) اِن دو شہروں کے کسے بڑے آدمی پر“۔
(الزخرف:۱۳)
تیسرا سبب سرداری کی خواہش ہے کہ حاسد چاہتا ہے کہ سب میرے حاجت مند ہوں۔چوتھا سبب غصب اور بڑائی ہے۔ حاسد دوسرے کو نعمت کا نااہل سمجھتا ہے‘ اِس لئے چاہتا ہے کہ اْس کے پاس نہ رہے۔پانچواں سبب یہ ہے کہ حاسد دوسروں کے کمال میں اپنا زوال سمجھے کہ اگر وہ کامیاب ہو گئے تو میں ناکام ہو جاؤں گا۔ جیسے کہ آج ہم اپنے ہم پیشہ سے اِسی قسم کا حسد رکھتے ہیں۔
چھٹا سبب‘ حبِ حکومت ہے کہ حاسد چاہتا ہے کہ میں اپنے کمال میں بے نظیر رہوں کہ میرے برابر کوئی دوسرا نہ نکلے۔اور سب سے بڑھ کر حاسد کی کم ظرفی اور کمینہ پن یہ ہے کہ اْس سے کسی کا خوشحال ہونا دیکھا نہیں جاتا۔ حضرت انس بن مالک ص سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں‘ نبی کریم ﷺ کا فرمانِ عالی شان ہے:-”آپس میں حسد نہ کرو اور قطع تعلقی نہ کروایک دوسرے سے بغض نہ رکھو ایک دوسرے سے دشمنی نہ کرو اور اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بنے رہو۔
(مسلم جلد۲باب تحریم التحاسد والتباغض والتدابر رقم۳۲‘ السنن الکبریٰ للبیہقی جلد۷ص۳۰۳‘ شرح السنة جلد۶ ص۶۹۴‘ ابن ماجہ حدیث نمبر۹۴۸۳)
”حضرت ابو ہریرہ ص رسولِ کریم روٴف ورحیم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشادِ مبارک فرمایا: ”تم حسد کی بیماری سے بہت بچو حسد اِنسان کی نیکیوں کو اِس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے“۔
(مشکوٰة حدیث نمبر ۰۴۰۵‘ ابوداؤد حدیث نمبر۳۰۹۴‘ مرقاة جلد۹ص۲۴۲)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں‘ رسولِ کریم روٴف و رحیم ﷺ نے فرمایا: ” نہ مال و دولت کی حرص میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اور نہ آپس میں حسد کرو“۔ (بخاری ‘ مسلم ‘ ابوداؤد ‘ مسنداحمد‘ کنزالعمال )
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں‘ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ” حسد کرنے والا، چغل خور اور کاہن میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتا اور نہ میرا اُس کے ساتھ تعلق ہے پھر رسولِ کریمﷺ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی:-
ترجمہ: ”وہ لوگ جو اذیت پہنچاتے ہیں اِیماندار مردوں اور اِیمان دار عورتوں کو حالانکہ اْنہوں نے اَیسا کوئی (بُرا) کام نہیں کیا تو اِن (اذیت پہنچانے والوں) لوگوں نے اپنے سروں پر بہتان باندھنے اور کھلے گناہ کا بوجھ اُٹھا لیا“۔
(الاحزاب:۸۵الترغیب والترہیب )
حضرت عبداللہ بن کعب اپنے والد ِ گرامی سے روایت کرتے ہیں‘ فرماتے ہیں‘ رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا ہے ”دو بھوکے بھیڑئیے جو بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دئیے گئے ہوں وہ بکریوں کا اِتنا نقصان نہیں کرتے جتنا مال کی حرص اور حسد مسلمان کے دین کا نقصان کرتے ہیں“۔ (الترغیب والترہیب)۔حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں‘ رسولِ کریم ﷺ سے عرض کیا گیا‘ یا رسول اللہ ﷺ کون سا اِنسان اَفضل ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہر وہ آدمی جو مخموم القلب اور زبان کا سچا ہو۔
صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا‘ یارسول اللہ ﷺ سچے آدمی کو ہم پہچانتے ہیں لیکن یہ مخموم القلب کون ہے تو آپ ﷺ نے اِرشاد فرمایا: ”وہ جو پرہیزگار، پاکباز ہو اس میں نہ گناہ ہو نہ بغاوت، نہ کھوٹ اور نہ حسد“۔ (الترغیب والترہیب )
حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں‘ رسولِ کریم ﷺنے فرمایا: ”اَگلی اْمتوں کی مہلک بیماری یعنی حسد اور بغض تمہای طرف آرہے ہیں۔
یہ بالکل صفایا کردینے والی اور مونڈ دینے والی ہے۔پھر نبی کریم ﷺنے اپنا مقصد واضح کرتے ہوئے فرمایا میرے اِس فرمانے کایہ مطلب نہیں ہے کہ یہ بالوں کو مونڈنے والی ہے بلکہ یہ بد خصلت اور بُری عادت دین کو مونڈ ڈالتی ہے اور بالکل صفایا کر دیتی ہے“۔ (ترمذی حدیث ‘ مسنداحمد‘ السنن الکبریٰ للبیہقی)۔نبی کریم روٴف ورحیم ﷺنے اْمّت کو اللہ تبارک وتعالیٰ کے عطا کردہ علوم غیبیہ کی روشنی میں خبردار کر دیا ہے کہ حسدو بغض کی جس مہلک بیماری نے اَگلی بہت سی اْمتوں کے دین اور اِیمان کر برباد کیا ہے وہ میری اْمّت کی طرف آرہی ہے۔
لہٰذا اللہ تبارک وتعالیٰ کے بندے ہوشیار رہیں اور اِس لعنت سے اپنے دِلوں اور سینوں کی حفاظت کی فکر کریں۔ درحقیقت حسد ایک عذاب ہے جو دنیا اور دین دونوں میں تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ حسد اللہ تبارک وتعالیٰ کی نعمتوں کے مقابلے میں اِظہار ناراضگی ہے اور جو چیزیں رب ذوالجلال نے اپنے بندے کو عنایت کی ہیں حاسد اُن سے اِنکار کرتا ہے اور اس جلن میں ابلیس کا شریک کاربن جاتا ہے۔

Your Thoughts and Comments