Hazrat Fatima RA

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا

فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بیٹی تھیں۔ آپ کی ولادت بعثت نبوی سے 5 برس قبل ہوئی۔اس دور میں عرب میں رواج تھا کہ نومولود بچوں کو پرورش کے لئے کسی دایہ کی گود میں دے دیا جاتا تھا لیکن آپ سے بے پناہ محبت والفت کی بناء پر حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے

Hazrat Fatima RA
فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بیٹی تھیں۔ آپ کی ولادت بعثت نبوی سے 5 برس قبل ہوئی۔اس دور میں عرب میں رواج تھا کہ نومولود بچوں کو پرورش کے لئے کسی دایہ کی گود میں دے دیا جاتا تھا لیکن آپ سے بے پناہ محبت والفت کی بناء پر حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے انہیں کسی دایہ کے سپرد کرنے کی بجائے خود اپنی گود میں رکھا اور اپنا دودھ پلا کر پرورش کیا۔
آپ کو فاطمہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ انہیں اور ان کی اولاد کو دوزخ کی آگ سے محفوظ رکھے گا۔ آپ کے القابات میں زاکیہ، راضیہ اور بتول شامل ہیں ۔ بتول کی وجہ تلقیب یہ ہے کہ بتل کے معنی قطع کرنے کے ہیں اور آپ فضل و کمال اور حسن وجمال میں دنیا بھر کی خواتین سے قطع ہیں۔

نورانیت دینیہ کے سبب آپ کو زہراء کہا جاتا ہے۔
مدارج النبوة میں بیان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دستور تھا کہ جب فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتیں توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو جاتے۔

ہاتھ پکڑ کر ان کی جبین مبارک پر بوسہ دیتے اور اپنے مقام پر بٹھلاتے۔ اسی طرح جب کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لاتے توآپ بھی تعظیم کے لئے اٹھ کھڑی ہوتیں اور استقبال کر کے آنجناب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر اپنی جگہ بٹھلاتیں ۔ اس سے جنابِ سیدہ رضی اللہ عنہا اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کا ہلکا سا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

جب مسلمانوں کو شعب ابی طالب میں محصور کر کے ان کا معاشی مقاطعہ کر دیا گیا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی عمر بارہ برس کے لگ بھگ تھی۔ اس عمر میں مسلسل بھوک پیاس کی صعوبیتں اٹھانے سے آپ کا بدن بے حد لاغر ہو گیا اور اس کے اثرات عم بھی قائم رہے لیکن آپ نے ساری تکالیف بڑے حوصلے سے برداشت کیں اور کبھی حرفِ شکایت زبان پرنہ لائیں۔
جب اللہ کے حکم سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رفیق حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت کی تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنی بڑی بہن حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے ساتھ مکہ مکرمہ میں مقیم رہیں اور اس وقت کا انتظار کرتی رہیں جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں بھی مدینہ بلا لیں۔
آپ کی حفاظت ورفاقت کے لئے ام المومنین حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس موجود رہیں۔ بعد ازاں کچھ عرصہ کے بعد آپ بھی مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلی گئیں۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے سن بلوغت کو پہنچنے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کا نکاح حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے کردیا۔ حق مہر کے طور پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زرہ مقرر کی گئی۔
اس زرہ کو فروخت کرنے سے480 درہم کی رقم حاصل ہوئی جو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مہر کے طور پر ادا کر دی۔ جب آپ نے یہ رقم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس رقم سے خوشبو، شادی کا سامان اور گھریلو ضروریات کی اشیاء خریدو اور شادی کی تیاری کرو۔آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی لاڈلی بیٹی کو جہیز میں جو سامان دیا اس کی تفصیل ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اپنے الفاظ میں یہ ہے: ” ایک بڑی چادر، ایک چمڑے کا تکیہ جو کھجور کی چھال یا خوشبودار گھاس سے بھرا ہوا تھا، آٹا پیسنے کی ایک چکی، ایک مشکیزہ اور دو گھڑے۔
“ دعوتِ ولیمہ میں مہمانوں کو کھجوریں اور انگور پیش کئے گئے۔
حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا بے مثال سیرت وکردار کی مالک تھیں۔ اس بارے میں مزید کچھ کہناغیر ضروری ہوگا۔ان کی شخصیت کے اس پہلو کی عکاسی کے لئے صرف ایک ہی واقعہ کافی ہو گا۔
ایک مرتبہ آپ کو بخار ہوا اور بخار کی شدت اور حرارت کے سبب آپ ساری رات جاگتی رہیں۔ تمام رات آپ نے نہایت بے چینی اور تکلیف کے عالم میں گزاری اور آپ کے شوہر نامدار شیر خدا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ جاگتے رہے۔
رات کے آخری پہردونوں کی آنکھ لگ گئی۔ تھوڑی دیر بعد مسجد سے اللہ اکبر کی صدا بلند ہوئی۔ اذان کی آواز سن کر حضرت علی کرم اللہ وجہہ بیدار ہوئے تو دیکھا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بیدار ہیں اور نماز کے لئے وضو فرما رہی ہیں۔ آپ نماز پڑھنے کے لئے مسجد چلے گئے۔جب آپ نماز پڑھ کر واپس آئے تو دیکھا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نماز فجر سے فراغت کے بعد چکی پیسنے میں مصروف ہیں۔
یہ دیکھ کر حضرت علی رضی اللہ عنہا نے فرمایا۔”فاطمہ ! کیا آپ کو اپنے حال پر رحم نہیں آتا۔ رات بھر آپ بخار میں مبتلا رہیں۔ صبح ٹھنڈے پانی سے وضو کیا اور نماز کی ادائیگی کے فوراََ بعد چکی پیسنا شروع کر دی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے ، شفا بخشے اور خدانہ کر ے کہ آپ کہیں زیادہ بیمار ہو جائیں۔ اپنا خیال رکھیں ۔“ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ان ہمددانہ اور اپنائیت بھرے کلمات کے جواب میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا۔
”اگر مجھے اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران موت بھی آ جائے تو مجھے اس کی مطلقاَ پروا نہیں۔ میں نے اللہ جل شانہ کی اطاعت اور بندگی کی خاطر وضو کیا اور نماز پڑھی۔ اب آپ کی اطاعت اور بچوں کی خدمت کے لئے چکی پیش رہی ہوں۔ جو میرے فرائض ہیں میں ان کو کسی صورت بھی نہیں چھوڑ سکتی ، چاہے کچھ بھی ہو۔“آپ اگرچی خود فاقہ سے رہتی تھیں۔ لیکن آپ کے در پر آنے والا سائل کبھی خالی ہاتھ نہیں گیا۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ بنو سلیم سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبل کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دین اسلام کی بنیادی باتیں سکھانے کے بعد پوچھا۔” کیا تمہارے پاس کھانے پہننے کے لئے کچھ ہے یا بالکل مفلوک الحال ہو ؟“
اس نو مسلم نے عرض کی ۔ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس نہ کھانے کو کچھ ہے ، نہ سواری کا بندوبست ہے اور نہ ہی میرے پاس پہننے کو پورا لباس ہے۔
“آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔” پھر تو تم مسکین ہوئے اور تمہاری مدد ضروری ہے ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دعوت دی کہ وہ اس کارِ خیر میں حسب توفیق حصہ لیں اور خدا کے حضور اپنے درجات کی بلندی کا سامان کریں۔سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان پر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اس مسکین شخص کو اپنی اونٹنی دے دی۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنا عمامہ اتار کر اس ک سر پر رکھ دیا۔ پھر حضرت سلمان فاری رضی اللہ عنہ اسے ساتھ لے کر اس کی خوراک کا بندوبست کرنے نکلے۔ چند گھروں سے دریافت کیا مگر وہاں سے کچھ نہ مل سکا۔ آخر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کے دروازے پر دستک دی ۔ جب آپ نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ ماجرا سنا تو آپ بے چین ہو گئیں۔
سائل کو اپنے گھر سے حسب معمول خالی نہ جانے دینا چاہتی تھیں مگر اپنا یہ حال تھا کہ آپ کے گھر میں سب کو تیسرا فاقہ تھا۔ بچے بھوکے سوئے ہوئے تھے اوربھوک کی شدت سے خود آپ پر نقاہت طاری تھی۔مگرآپ نے فرمایا۔” اے سلمان رضی اللہ عنہ !چاہے کچھ بھی ہو میں سائل کو خالی نہیں جانے دوں گی۔ میرے پاس ایک چادر ہے۔ اسے شمعون یہودی کے پاس لے جاوٴ اور اس سے کہو کہ اس چادر کو فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھیجا ہے اوروہ کہہ رہی ہے کہ یہ چادر رکھ لو اور اس کے بدلے میں کچھ جنس دے رو تاکہ یہ مسکین اپنا پیٹ بھر سکے۔

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ حسب ارشاد چادر لے کر شمعون یہودی کے پاس چلے گئے ۔ جب شمعون کو تمام ترما جرا معلوم ہوا تو وہ ازحد متاثر ہوا کہ تمام گھر والے فاقے سے ہیں لیکن سوالی کو خالی نہیں لوٹایا۔ اس نے کہا۔”اے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ! یہ یقینا وہی لوگ ہیں جن کی خبر توریت میں د ی گئی ہے۔ تم گواہ رہنا کہ میں نے حضرت فاطمہ بتول رضی اللہ عنہا کے والد مکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت ونبوت کا اقرار کیا اور ان پر ایمان لے آیا۔
“اس کے بعد اس نے وہ چادر واپس دے دی تاہم اس نے کچھ غلہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو فی سبیل اللہ دے دیا تاکہ اس مسکین کے لئے خوراک کا بندوبست کیا جا سکے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ وہ غلہ لے کر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تمام واقعہ بیان کیا۔حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا نے بغیر کسی توقف کے اس غلہ کو اپنے ہاتھ سے فاقے کی حالت میں چکی میں پیسا۔
آٹا گوندھا، روٹیاں پکائیں اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو دیں تاکہ وہ مسکین کو کھلائیں۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے درخواست کی کہ وہ اس غلہ میں سے اپنے بچوں کے لئے چند روٹیاں رکھ لیں مگر خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا نے صاف صاف لفظوں میں کہہ دیا۔” جو چیز میں فی سبیل اللہ دے چکی ہو ں ،اب اس میں سے کچھ لینا قطعاََ جائز نہیں چاہے میرے بچوں کو کچھ اور وقتوں کا فاقہ ہی کیوں نہ برداشت کرنا پڑے۔

ربِ کائنات نے آپ کو حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ جیسے بیٹے عطا فرمائے جنہوں نے عالم جوانی میں جانیں قربان کر کے اسلام کا پرچم سر بلند رکھااور ان کے متعلق سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔” جس نے حسن اور حسین سے محبت کی، اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اور اس نے مجھ سے بغض رکھا۔“
آپ کی وفات 3 رمضان 11 ہجری کے روز ہوئی۔ ایک روایت کے مطابق آپ کی عمر 28 برس اور دوسری روایت کے مطابق آپ کی عمر 29 برس تھی۔ آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے متعلق فرمایا۔ ”فاطمہ میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے۔ جس نے اسے اذیت دی ، اس نے مجھے اذیت دی۔“

Your Thoughts and Comments