Hazrat Syedna Ameer Muavia RA

کاتب وحی و جلیل القدر صحابی حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ

سیدنا حضرت امیر معاویہ ر ضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب پانچویں پشت میں حضورﷺ سے مل جاتا ہے۔مشہور روایت کے مطابق آپ فتح مکہ کے موقع پر اپنے والد سیدنا حضرت ابوسفیان رض اللہ عنہ کے ہمراہ اسلام لائے۔سیدنا حضرت امیر معاویہ ر ضی اللہ عنہ نے جب اپنے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا تو حضورﷺنے انہیں مبارکباد دی اور ”مرحبا“ فرمایا (البدایہ والنہایہ 117/8)

Hazrat Syedna Ameer Muavia RA
مولانا مجیب الرحمن انقلابی
آپ کے والد سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ سرداران قریش میں سے ہیں اور فتح مکہ کے موقع پر حضورﷺ نے ان کے گھر کو بھی ”دارالامن“ قرار دیا۔ سیدنا حضرت امیر معاویہ ر ضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب پانچویں پشت میں حضورﷺ سے مل جاتا ہے۔مشہور روایت کے مطابق آپ فتح مکہ کے موقع پر اپنے والد سیدنا حضرت ابوسفیان رض اللہ عنہ کے ہمراہ اسلام لائے۔
سیدنا حضرت امیر معاویہ ر ضی اللہ عنہ نے جب اپنے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا تو حضورﷺنے انہیں مبارکباد دی اور ”مرحبا“ فرمایا (البدایہ والنہایہ 117/8)۔حضورﷺ چونکہ سیدنا حضرت امیر معاویہ ر ضی اللہ عنہ کے سابقہ حالات زندگی اور ان کی صلاحیت و قابلیت سے آگاہ تھے اس لیے انھیں اپنے خاص قرب سے نوازا۔

فتح مکہ کے بعد آپ حضورﷺ کے ساتھ ہی رہے اور تمام غزوات میں حضورﷺ کی قیادت و معیت میں بھرپور حصہ لیا۔


سیدنا حضرت امیر معاویہ ر ضی اللہ عنہ وہ خوش قسمت انسان ہیں جن کو کتابت وحی کے ساتھ ساتھ حضورﷺکے خطوط تحریر کرنے کی بھی سعادت حاصل ہوئی۔سیدنا حضرت امیر معاویہ ر ضی اللہ عنہ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر رہتے یہاں تک کہ سفر و حضر میں بھی خدمت کا موقع تلاش کرتے ۔چنانچہ ایک بار حضورﷺ کہیں تشریف لے چلے تو سیدنا حضرت امیر معاویہ ر ضی اللہ عنہ خدمت کے لیے پیچھے پیچھے ساتھ ہو گئے۔
راستہ میں حضورﷺ کو وضو کی حاجت ہوئی۔ پیچھے مڑے تو دیکھا سیدنا امیر معاویہ ر ضی اللہ عنہ پانی کا برتن لیے کھڑے ہیں آپﷺ بڑے متاثر ہوئے چنانچہ وضو کے لیے بیٹھے تو فرمانے لگے۔ ”معاویہ ر ضی اللہ عنہ تم حکمران بنو تو نیک لوگوں کے ساتھ نیکی کرنا اور برے لوگوں سے درگزر کرنا۔“ حضرت معاویہ ر ضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ اسی وقت مجھے امید ہو گئی تھی کہ حضورﷺ کی پیشین گوئی صادق آئے گی اور میں کبھی نہ کبھی ضرور خلیفہ ہو کر رہوں گا۔

حضورﷺ آپ کی خدمت اور بے لوث محبت سے اتنا خوش تھے کہ بعض اہم خدمات آپ کے سپرد فرما دی تھیں۔ علامہ اکبر نجیب آبادی ”تاریخ اسلام“ میں رقمطراز ہیں کہ حضورﷺ نے اپنے باہر سے آ ئے ہوئے مہمانوں کی خاطر مدارت اور ان کے قیام و طعام کا انتظام و اہتمام بھی حضرت معاویہ ر ضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا تھا۔ حضورﷺ کی وفات کے بعد خلیفہ اول سیدنا حضرت ابوبکر صدیق ر ضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں آپ نے مانعین زکوٰة، منکرین ختم نبوت، جھوٹے مدعیان نبوت اور مرتدین کے فتنوں کے خلاف بھرپور حصہ لیا۔
ایک روایت کے مطابق مسیلمہ کذاب حضرت معاویہ ر ضی اللہ عنہ کے وار سے جہنم رسید ہوا۔ خلیفہ دوم سیدنا حضرت عمر فاروق ر ضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں جو فتوحات ہوئیں اس میں حضرت امیر معاویہ ر ضی اللہ عنہ کا نمایاں حصہ اور کردار ہے جنگ یرموک میں آپ بڑی بہادری اور دلیری کے ساتھ لڑے۔خلیفہ سوم سیدنا حضرت عثمان غنی ر ضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں سیدنا حضرت امیر معاویہ ر ضی اللہ عنہ جہاد و فتوحات میں مصروف رہے اور آپ نے رومیوں کو شکست فاش د ی۔
”بحر روم“ میں رومی حکومت کا ایک بہت بڑا بحری مرکز تھا جو کہ شام کے ساحل کے قریب ہونے کے باعث شام کے مسلمانوں کے لیے بہت قریبی خطرہ تھا اسے فتح کیے بغیر شام و مصر کی حفاظت ممکن نہ تھی۔ سیدنا حضرت امیر معاویہ ر ضی اللہ عنہ چاہتے تھے کہ اسلام ایک آفاقی اور عالمگیر مذہب ہو۔ چنانچہ حضرت عثمان غنی ر ضی اللہ عنہ کی طرف سے بحری بیڑے کو تیار کرنے کی اجازت ملنے کے بعد حضرت امیر معاویہ ر ضی اللہ عنہ اپنی اس بحری مہم کا اعلان کر دیا۔
جس کے جواب میں جذبہ جہاد سے سرشار مجاہدین اسلام شام کا رخ کرنے لگے 28ھ میں آپ پوری شان و شوکت، تیاری و طاقت اور اسلامی تاریخ کے پہلے بحری بیڑے کے ساتھ ”بحر روم“ میں اترے لیکن وہاں کے باشندوں نے مسلمانوں کے ساتھ صلح کر لی لیکن بعد میں مسلمانوں کو تنگ کرنے اور بدعہدی کرنے پر سیدنا حضرت امیر معاویہ ر ضی اللہ عنہ پوری بحری طاقت اور عظیم الشان بحری بیڑے کے ساتھ جس میں تقریباً پانچ سو کے قریب بحری جہاز شامل تھے قبرص (سائپرس) کی طرف روانہ ہوئے اور بڑی بہادری سے لڑتے ہوئے قبرص (سائپرس) کو فتح کر لیا۔
آپ کی قیادت میں اس پہلی بحری لڑائی میں بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرام ر ضی اللہ عنہ جن میں حضرت ابو ایوب انصاری ر ضی اللہ عنہ، حضرت ابوذر غفاری ر ضی اللہ عنہ، حضرت ابودرداء ر ضی اللہ عنہ، حضرت عبادہ بن صامت ر ضی اللہ عنہ اور حضرت شداد بن اوس ر ضی اللہ عنہ سمیت دیگر صحابہ کرام ر ضی اللہ عنہ شریک ہوئے۔ اس لڑائی میں تجربہ کار رومی فوج کے باوجود رومیوں کو بدترین شکست ہوئی اور مسلمانوں کو تاریخی فتح حاصل ہوئی۔

حضورﷺ نے ”اْمّ حرام“ والی حدیث میں دو اسلامی لشکروں کے بارے میں مغفرت اور جنت کی بشارت و خوشخبری فرمائی ان میں سے ایک وہ لشکر جو سب سے پہلے اسلامی بحری جنگ لڑے گا اور دوسرا وہ لشکر جو قیصر کے شہر (قسطنطنیہ) میں جنگ کرے گا۔پہلی بشارت سیدنا حضرت عثمان غنی ر ضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں پوری ہوئی جب قبرص (سائپرس) کی فتح ہوئی۔
اور دوسری بشارت سیدنا حضرت امیر معاویہ ر ضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں اس وقت پوری ہوئی جب لشکر اسلام نے قیصر کے شہر قسطنطنیہ پر حملہ کر کے اس کو فتح کیا۔ سیدنا حضرت امیر معاویہ ر ضی اللہ عنہ کا دور حکومت فتوحات اور غلبہ اسلام کے حوالہ سے شاندار دورِ حکومت ہے ایک طرف بحر اوقیانوس اور دوسری طرف سندھ اور افغانستان تک میں اسلام کی فتح کے جھنڈے گاڑ دیے، اس کے ساتھ ساتھ سیدنا حضرت امیر معاویہ ر ضی اللہ عنہ نے خلفائے راشدین ر ضی اللہ عنہ کے ترقیاتی کاموں کو جاری رکھتے ہوئے اس میں مندرجہ ذیل نئے امور کی داغ بیل ڈال کر اس کو فروغ دیا۔

(1) سیدنا حضرت امیر معاویہ ر ضی اللہ عنہ نے سب سے پہلا اقامتی ہسپتال دمشق میں قائم کیا۔ (2) سب سے پہلے اسلامی بحریہ قائم کیا، جہاز سازی کے کارخانے بنائے۔ (3) آب پاشی اور آب نوشی کے لیے دورِ اسلامی میں پہلی نہر کھدوائی۔ (4) ڈاک خانہ کی تنظیم نو کی اور ڈاک کا جدید اور مضبوط نظام قائم کیا۔ (5) سب سے پہلے احکام پر مہر لگانے اور حکم کی نقل دفتر میں محفوظ رکھنے کا طریقہ ایجاد کیا۔
(6) آپ سے پہلے خانہ کعبہ پر غلافوں کے اوپر ہی غلاف چڑھائے جاتے تھے۔ آپ نے پرانے غلاف کو اتار کر نیا غلاف چڑھانے کا حکم دیا۔ (7) خط دیوانی ایجاد کیا اور رقوم کو الفاظ کی صورت میں لکھنے کا طریقہ جاری کیا۔ (8) انتظامیہ کو بلند تر بنایا اور انتظامیہ کو عدلیہ میں مداخلت سے روک دیا۔ (9) آپ نے دین اخلاق اور قانون کی طرح طب اور علم الجراحت کی تعلیم کا انتظام بھی کیا۔
(10) آپ نے بیت المال سے تجارتی قرضے بغیر اشتراک و نفع کے جاری کر کے تجارت و صنعت کو فروغ دیا اور بین الاقوامی معاہدے کیے۔ (11) سرحدوں کی حفاظت کے لیے قدیم قلعوں کی مرمت کر کے اور چند نئے قلعے تعمیر کرا کر اس میں مستقل فوجیں متعین کیں۔ (12) سیدنا حضرت امیر معاویہ ر ضی اللہ عنہ کے دور میں ہی سب سے پہلے منجنیق کا استعمال کیا گیا۔
سیدنا حضرت امیر معاویہ ر ضی اللہ عنہ سے حضورﷺ کی 163، ایک سو تریسٹھ احادیث مروی ہیں۔
سیدنا حضرت امیر معاویہ ر ضی اللہ عنہ کے آئینہ اخلاق میں اخلاص، علم و فضل، فقہ و اجتہاد، تقریر و خطابت، غریب پروری، خدمت خلق، مہمان نوازی، مخالفین کے ساتھ حسن سلوک، فیاضی و سخاوت ، اصابت رائے، عفو و درگزر، اطاعت الٰہی، اطاعت رسولﷺ، اتباع سنت، جوش قبول حق، تحمل و بردباری، تقویٰ اور خوف الٰہی کا عکس نمایاں نظر آتا ہے۔
ایک موقع پر سیدنا حضرت امیر معاویہ ر ضی اللہ عنہ کے بارے میں میں حضورﷺ نے فرمایا کہ! اے اللہ معاویہ ر ضی اللہ عنہ کو ہدایت دینے والا، ہدایت پر قائم رہنے والا اور لوگوں کے لیے ذریعہ ہدایت بنا۔
(جامع ترمذی)
حضورﷺ نے ایک اور موقعہ پر ارشاد فرمایا کہ! معاویہ بن ابی سفیان ر ضی اللہ عنہ میری امت میں سب سے زیادہ بردبار اور سخی ہیں۔ (تطہیر الجنان ص 12)
سیدنا حضرت امیر معاویہ ر ضی اللہ عنہ سروقد، لحیم و شحیم، رنگ گورا، چہرہ کتابی، آنکھیں موٹی، گھنی داڑھی، وضع قطع، چال، ڈھال میں بظاہر شان و شوکت اور تمکنت مگر مزاج اور طبیعت میں زہد و تواضع، فروتنی، حلم و بردباری اور چہرہ سے ذہانت و فطانت مترشح تھی۔
سیدنا حضرت امیر معاویہ ر ضی اللہ عنہ نے اپنی وفات سے قبل گھر والوں کو دیگر وصیتوں کے ساتھ یہ وصیت بھی فرمائی کہ! ایک مرتبہ میں سفر میں حضورﷺکے ساتھ تھا جب آپﷺ نے دیکھا کہ میرا کرتہ کاندھے سے پھٹا ہوا ہے۔ آپﷺ نے مجھے اپنا کرتہ (قمیص) مبارک عنایت فرمایا، وہ میں نے ایک مرتبہ سے زیادہ نہیں پہنا وہ میرے پاس محفوظ ہے ایک دن حضورﷺ نے بال اور ناخن مبارک ترشوائے میں نے تھوڑے سے بال اور تراشے ہوئے ناخن لے لیے تھے وہ بھی میرے پاس محفوظ ہیں۔
دیکھو! جب میں مرجاؤں تو غسل دینے کے بعد یہ ناخن اور بال میری آنکھوں کے حلقوں، نتھنوں اور سجدے کے مقامات پر رکھ دینا اور پھر حضورﷺکا عنایت کردہ کرتہ مبارک میرے سینہ پر رکھنا اور اس پر کفن پہنانا۔ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ حضورﷺ کی ان چیزوں کی برکت سے میری مغفرت فرما دیں گے۔ ان وصیتوں کے بعد 22 رجب المرجب 60ھ میں کاتب وحی، جلیل القدر صحابی رسول ر ضی اللہ عنہ، فاتح شام و قبرص اور 19 انیس سال تک 64 لاکھ مربع میل پر حکمرانی کرنے والے سیدنا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ 78 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ حضرت ضحاک بن قیس ر ضی اللہ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور دمشق کے باب الصغیر میں دفن کیے گئے۔

Your Thoughts and Comments