بند کریں
اسلام مضامینمضامین حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے عورتوں کے ڈرنے پر

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے عورتوں کے ڈرنے پر
حضرت سعید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے ہاں داخل ہونے کی اجازت مانگی۔اس وقت آپﷺ کے پاس قریش کی عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں(جو کہ آپﷺ کی ازواج تھیں)وہ نان ونفقہ میں اضافے کا مطالبہ کر رہی تھیں اور ان کی آوازیں نبی ﷺ کی آواز سے بلند ہورہی تھیں۔
حضرت سعید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے ہاں داخل ہونے کی اجازت مانگی۔اس وقت آپﷺ کے پاس قریش کی عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں(جو کہ آپﷺ کی ازواج تھیں)وہ نان ونفقہ میں اضافے کا مطالبہ کر رہی تھیں اور ان کی آوازیں نبی ﷺ کی آواز سے بلند ہورہی تھیں۔
جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اندر آنے کی اجازت ملی تو وہ عورتیں فوراََ پردے میں چھپ گئیں۔
یہ دیکھ کر نبیﷺ مسکرائے۔
حضرت عمر نے عرض کیا:”یارسول اللہ! آپﷺ کو اللہ تعالیٰ ہنساتا رہے۔میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان!“
آپﷺ نے فرمایا:”مجھے ان عورتوں پر تعجب ہے جو میرے پاس تھیں۔انہوں نے جب تمہاری آواز سنی تو جلدی سے بھاگ کر چھپ گئیں۔“
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
”یارسول اللہ!ان عورتوں کو میری بجائے آپﷺ سے زیادہ ڈرنا چاہیے تھا۔

پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان عورتوں کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا:
اے اپنی جان کی دشمنو!تم مجھ سے ڈرتی ہو اور رسول اللہ ﷺ سے نہیں ڈرتیں؟
ان عورتوں نے جواب دیا:
”تم نبیﷺ سے زیادہ سخت ہو۔“
اس کے بعد نبی ﷺ نے فرمایا:
”اے عمر!قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے،شیطان بھی اُس راستے پر نہیں چلتا جس راستے پر تو چلتا ہے۔“

(2) ووٹ وصول ہوئے