Islam Main Ben Ul Mazahib Hum Ahangi Ka Tasawar

اسلام میں بین المذاہب ہم آہنگی کا تصور

برداشت اور احترام کا رویہ اسلامی تعلیمات کا جزولانیفک ہے مذہبی طبقات میں مکالمے کا دروازہ کھولنے کیلئے اسلام کا فلسفہ حقیقت پسندانہ ہے

Islam Main Ben Ul Mazahib Hum Ahangi Ka Tasawar
نسیم الحق زاہدی:
اسلام بنیادی طورپر روداری کا درس دیتا ہے اور اس کے ساتھ دوسروں کے مذہب کااحترام کرنا بھی سکھاتا ہے۔ آج دنیا میں لسانی، مذہبی، سماجی بحران کا اصل وجہ بھی یہی ہے کہ دنیا میں بسنے والی مختلف اقوام، قبیلوں نے ایک دوسرے کے مذہب وعقیدے کے خلاف نفرت آمیز رویہ اپنا رکھا ہے حالانکہ فی الوقت دنیا کو امن کی شدید ضرورت ہے اور آج اضطرابی دور میں مذاہب اور تہذیبوں کے درمیان مکالموں کودنیا کی سب سے بڑی ضرورت اور خواہش کے طور پر محسوس کیاجا رہا ہے۔
یہاں یہ امراہمیت کا حامل ہے کہ ہر مذہب کی اپنی زبان اور روایات ہوتی ہیں جو عوام کو بنیادی انسانی قدریں عطا کرتی ہیں جس سے انسانی معاشرہ بہتری کی طرف بڑھتا ہے اور یہ قدریں سوسائٹی کے نگران کا کردار ادا کرتی ہیں۔


Global Village بنتی ہوئی اس دنیا میں کسی بھی ملک میں ہونے والے واقعات کو بیک وقت پوری دنیا میں دکھایا جا سکتا ہے اور یہ دنیا کی مختلف تہذیبوں کے افراد پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

جہاں شعورو آگہی دیتے ہیں وہاں یہ مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے پیروکاروں کے بارے میں مثبت یا منفی رویوں کو بھی جنم دیتے ہیں۔ اس لئے ایسی کوششوں کی عالمی سطح پر ضرروت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے جس سے تمام مسالک اور مذاہب کے درمیان مثبت راطہ پیدا کر کے دنیا میں اس حوالے سے پائی جانے والی مشکلات کو انتہائی کم کیا جاسکے ۔ تاہم مذہبی طبقات میں مکالمے کا دروازہ کھولنے کیلئے اسلام کا فلسفہ نہایت حقیقت پسندانہ ہے۔
اسلام نظریاتی اختلاف کو قبول کرتا ہے۔برداشت احترام اور محبت کی پالیسی کو بھی تشکیل دیا جا سکتا ہے جب آپ کے نظریات کو احترام دے کر اختلاف قبول کر لیا جاتا ہے یہاں یہ بات انتہائی اہم ہے کہ اچھے معاشرے کی تشکیل کے لئے اختلافات کو ختم کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔پر امن معاشرے کی تشکیل کیلئے تضادات کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ اختلافات کو سمجھنے کے بعد ہی دوسرے مذاہب اور عقائد کے احترام کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور اس طرح ہی مختلف مسالک اور مذاہب کے لوگوں کو قریب لایا جا سکتا ہے۔

اسلام کی رُو سے مذہبی افراد کے مابین Harmonyکی ضرورت ہے اور اسلام کے دئیے گئے زریں اصول دنیاوی امن کے لئے لازمی ہیں۔ ہر مذہب کے پیروکاروں کے اپنے عقائد ہیں او رکسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ دوسرے کے مذہب یا عقیدے کے حوالے سے ناز یباونامناسب الفاظ کا استعمال کرے۔
ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ نے مسیحیوں اور یہودیوں سے مکالمہ کیا اور مدینہ کی ایسی ریاست تشکیل دی جس میں تین مرکزی مذہب کے لوگ آباد تھے اور وہاں امن سلامتی اور باہمی احترام غالب تھا۔
برداشت اور احترام کا رویہ اسلام کی تعلیمات کا جزو لانیفگ ہے۔ اسلام کی کامیابی کی بنیادی وجہ مکالمہ ہی تھا اور حضرت محمدﷺ کی پوری زندگی مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کی کوششوں سے عبارت ہے۔
موجودہ پر آشوب دور میں بین المذاہب مکالمے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی ہے۔ یہ صرف ایک موضوع ہی نہیں مسلمانوں کیلئے ایک بڑا چیلنچ بھی ہے۔ سائنس وٹیکنالوجی ،تجارت، ذرائع آمدورفت کی بہتات بڑھتی ہوئی آبادی اور میڈیا نے خاص طور پر دنیا کو ایک گاوٴں کی شکل دے دی ہے۔
اب وہ دور نہیں رہا کہ ایک جگہ کی خبر دوسری جگہ پہنچتے پہنچتے مہینوں لگ جاتے تھے جو چیز انسان کے تصور میں بھی نہیں تھی آج حقیقت بن کر سامنے آگئی ہے لہٰذا ایسے دور میں جبکہ انسانی برادری دنیائے انسانیت کے مابین فاصلے ختم ہو چکے ہیں تو اب نہ چاہنے کے باوجود بھی ایک دوسرے سے لاتعلق نہیں رہا جا سکتا اور ایک دوسرے کے حالات س متاثر نہ ہوں اب ایسا ممکن نہیں رہا۔
یقینا ایک جگہ کے حالات دوسری جاگہ کے لوگوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر نائن الیون کا واقعہ نیویارک تک محدود نہیں رہا اس کی لپیٹ میں افغانستان عراق اور لیبیا بھی آگئے اور پاکستان امریکہ کا اتحادی ہونے کی سزا ابھی تک بھگت رہا ہے چنانچہ موجودہ حالات و واقعات میں بین المذاہب مکالموں کی ضرورت اور بھی بڑھ گئی ہے تاکہ ایک دوسرے کے ساتھ متعلقہ مسائل کو بات چیت مکالمے، گفت وشنید ، انصاف اور عدل کی بنیادوں پر ان کو حل کیا جائے اور دنیا بجائے تنازعات جھگڑے ،بدامنی کے سکون اور امن کے ساتھ زندگی گزارنے اس لئے کہ امن ہر ایک کی ضرورت ہے۔
جہاں مشرق کی ضرورت ہے وہاں مغرب کیلئے بھی لازمی ہے ۔ اسی بناء پر مکالمہ، باہمی ڈائیلاگ، افہام،وتفہیم بات چیت اور گفتو شنید کی اہمیت ضرورت اور اس کی افادیت نے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔
اسلامی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ مکالمہ اور بات چیت کی نہ صرف یہ کہ اسلام کی طرف سے اس کی اجازت ہے بلکہ پیغمبر اسلام کی سنت بھی ہے ۔ مکالمے سے بڑھ کر معاہدہ بھی اہم ہے ۔ صلح حدیبیہ اسلامی تاریخ کا معروف ومشہور معاہدہ ہے۔ حضرت محمدﷺ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو یہاں اس وقت بنو نضیر،بنو قریضہ اور بنو قنیقاع مشہور قبیلے آباد تھے۔حضرت محمدﷺ نے ان سے بات چیت ہی نہیں معاہدہ بھی کیا جو میثاق مدینہ کے نام سے مشہور ہے۔

Your Thoughts and Comments