Ittehaad Ummat Ka Azeem Ul Shan Muzahira

اتحادِ اُمت کا عظیم الشان مظاہرہ

عالم اسلام کی بیداری کا موسم وحدت ملت کا پُر کیف نظارہ حاضر ہیں پر وردگار ہم حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں ہم حاضر ہیں

بدھ اگست

ittehaad ummat ka azeem ul shan muzahira

علامہ تبسم بشیر اویسی
حج عقید ہ توحید ورسالت اور تصدیق با لقلب کے ساتھ ہمیں مساوات کا سبق دیتا اور ہمیں قانون کے احترام کی طرف لے جاتا ہے ۔حضرت ابر اہیم ‘ سید ہ ہاجرہ کی اطاعت الٰہی ایثارو قربانی اور بے لوث وفاداری کی ادائیں اللہ کو اس قدر پسند ہیں کہ ا ن کو قیامت تک کے لئے اہل ایمان کے لئے دہرا نا اور نبھائے چلے جانا لازم قرا رپایا ۔

وفا کی انہی اداؤں کی پیروی کا نام ” حج “ رکھا گیا ۔حج لاکھو ں مسلمانان عالم کا عظیم اجتماع ہے ۔دنیاکے کسی بھی ایک مقام پر ایک خاص وقت میں انسانوں کا یہ سب سے بڑا سب سے شانداراور منفرداجتماع ہے ۔یہ ایک بے ہنگم ہجوم نہیں جو بلا مقصد ،بلاوجہ ،بے سمت ،کہیں بھی ،منہ اٹھائے چلاجارہا ہو ،بلکہ یہ ایک ایسا منظم اور بامقصد لشکر ہوتا ہے جو فقط رضائے الٰہی کا خاطر اپنے گھر بار ،اپنے دیس، اپنے پیاروں کو چھوڑ کر ،سفر کی مشقتیں اٹھا کر ،پردیس اور اجنبیت کی سر حدیں عبور کرکے ،رنگ ونسل اور زبان کے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر، دیوانہ وار نذرانہ جان وتن اور قلب وروح کو خالق اکبر کے حضور پیش کرنے کے لیے ایک مرکز اور ایک مقام پر جمع ہوجاتا ہے ۔

ایک گھر کا طواف کیا جاتا ہے اور اُس کے والہانہ پھیرے لیے جاتے ہیں ۔ایک پر عالم ذوق وشوق ،جوشِ وسر شاری کی کیفیت طاری ہوتی ہے ۔آنکھوں سے بہتے اشکوں میں درددل کی تڑ پ مچلتی ہے ،سوزِ قلب احساس واضطراب کی موجوں میں ڈھل جاتا ہے ۔جبینیں سجدہ ریز ہوتی ہیں ۔ سر جھکتے ہیں، دل جھکتے ہیں ،عجز ونیاز کی کیفیات طاری ہوتی ہیں ۔اس جوش عقیدت، اس والہانہ پن کا راز قرآن حکیم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔
مفہوم :” اور اس پاک گھر (بیت اللہ ) کا حج کرنا ،لوگوں پر اللہ (کی محبت وعقیدت اور فداکاری )میں فرض کیاگیا ہے ۔ان پر جو اس کی استطاعت رکھتے ہیں ۔“اسلام دین فطرت ہے ۔یہ انسانیت کے لیے خداوندِ کریم کا آخری پیغام اور سب سے بڑا انعام ہے جس کی وضاحت حجتہ الوداع پر نازل ہونے والی اس آیت مبارکہ سے ہوتی ہے ،مفہوم :”آج ہم نے تمہارے لیے دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنے انعامات کی انتہا کر دی اور تمہارے لیے طریقِ حیات کے طورپر اسلام ہی کو پسند فرمایا ۔
“حج اس دین کا مل کا مظہرِ اتم ہے ۔اسلام کی بنیاد عقیدہ حید ورسالت ہے جس کا عملی اظہار حج میں یوں ہوتا ہے کہ سب حجاج جہاں بیت اللہ، منیٰ مزدلفہ اور عرفات میاں توحید الہٰی کا پر چم بلند کرتے ہیں ،وہیں بارگاہِ محبوب داور، سید وختم رسل حضرت محمدمصطفیٰﷺ میں حاضر ہو کر اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ وہ آپ ﷺ کی نبوت ورسالت پر پختہ یقین رکھتے ہیں ۔
ایک طرح سے دیکھا جائے تو بارگاہ ِنبوت کی یہ حاضری اہل اسلام کے عقیدہ ء ختم نبوت کا بر ملا اظہار بھی ہے کہ اللہ کے گھر کی حاضری کے علاوہ صرف مدینہ پاک کی حاضری ہی امت پر واجب کی گئی ہے اور حدیث پاک میں یہاں تک ارشاد ہو ا،مفہوم: ”جس نے حج وعمرہ کیا اور میری زیارت کو نہ آیا اُس نے مجھ سے جفا کی ۔“اگر چہ متعد دانبیائے کرام کے مدفن دنیامیں موجود ہیں مگر اُن کی زیارت کی تاکید نہیں کی گئی جب کہ حضور اکرم ﷺ کی بارگاہ اقدس کی حاضری کو نہ صرف واجب قرار دیاگیا ،بل کہ اُس سے باکاتِ کثیر ہ کے حصول کی خوش خبری بھی سنائی گئی ۔
منجملہ دیگر گراں قدرانعامات کے سر کار رسالت مآب ﷺ کا یہ وعدہ ”جس کسی نے ارادہ کرکے میری قبر کی زیارت کی اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگئی ۔“تو اس شخص سے بڑھ کر خوش نصیب اور کون ہو گا جس کی شفاعت لا زماََآقائے دو جہاں شافع روزِ محشر ﷺ فرمائیں۔ حج میں عقیدہ حید ورسالت کا اقرار باللسان اور تصدیق بالقلب ہی نہیں بلکہ جسم وجاں کی تمام تر قوتوں استعداد اور صلاحیتوں کے ساتھ آدابِ بندگی کی ادائی بھی ہے، رکوع و سجود اور قیام وقعود بھی، وضو اور غسل بھی، انفاق فی سبیل اللہ بھی، ہجرت کے سفر کی پیروی بھی اور جہاد بالنفس، جہاد بالمال اور جہاد باللسان بھی ہے۔
” حاضر ہوں ،حاضر ہوں ،اے میرے اللہ میں حاضر ہوں ۔اے وہ ذات جس کا کوئی شریک نہیں میں، حاضر ہوں ۔بے شک تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں ،تمام نعمتیں تیری ہیں( تو ہی ان کا عطا کرنے والا ہے) تمام بادشاہی تیری ہی ہے اور تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں ۔جب حجاج اور زائرین کوہ وصحرا ،دشت وجبل، دریا سمندر اور ہو اؤں میں لبیک لبیک کہتے ہوئے بیت اللہ جانب بڑھ رہے ہوتے ہیں تو لگتا ہے کہ کائنا ت کی ہر چیز اس کے حضور حا ضری کے لیے بے تاب ہے ۔
حاضری اور حضور ی کا جو ذوق وشوق اور کیفیات سفرِ حج کے دوران طاری ہوتی ہیں دنیا بھر میں کہیں کسی بھی موقعے پر کسی بھی عبادت کے دوران دیکھنے او رسننے میں نہیں آتیں ۔یہ اسلام اور شارعِ اسلام حضرت رسول الثقلین ﷺ کا فیض اور اعجاز ہے کہ دنیا بھر کے ہر خطے اور ہر ملک ،ہر رنگ ونسل کے اور ہر زبان بولنے والے لوگ، ایک ہی لباس، ایک سی وضع قطع میں اور ایک مرکز پر جمع ہو تے ہیں ،ایک ہی مقصد لیے اور ایک ہی پکار اپنے ہونٹوں پر سجائے ہوئے ۔لبیک اللھم لبیک ۔یہ یک رنگی ،یکسانیت، اتحاد اور یہی یگانگت اسلام کا اصل مقصد اور تعلیمات قرآن و سنت کا اصل مفہوم ہے ۔

Your Thoughts and Comments