Jahannum Se Azadi Ki Raat

جہنم سے آزادی کی رات

حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ رمضان المبارک کے علاوہ باقی گیارہ مہینوں میں شعبان ہی وہ مہینہ ہے جس میں حضور ﷺ سب سے زیادہ روزے رکھتے تھے۔

Jahannum Se Azadi Ki Raat
رشید احمد رضوی:
حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ رمضان المبارک کے علاوہ باقی گیارہ مہینوں میں شعبان ہی وہ مہینہ ہے جس میں حضور ﷺ سب سے زیادہ روزے رکھتے تھے۔ماہ شعبان کو یہ فیصلت بھی حاصل ہے کہ اس میں ایک ایسی بابرکت رات موجود ہے جسے شب برأت کہتے ہیں یہ شعبان کی پندرھوں رات ہے۔شب برأت وہ مقدس رات ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب قرآن مجید میں ”لیلتہ مبارکہ یعنی برکتوں والی رات فرمایا ہے ۔
اس مبارک رات کو لیلتہ برأة یعنی دوزخ سے بری ہونے کی رات اور لیلتہ الرحمة یعنی اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت کا نام بھی دیا گیاہے۔
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا“ نصف شعبان کی رات آئے تو رات کو جاگواور نماز پڑھو اور دن کو روزہ رکھو۔

اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اس رات کو غروب آفتاب سے بھی پہلے آسمان پر تجلی فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے کہ ہے کوئی استغفار کرنے والا کہ اس کی مغفرت کردوں۔

ہے کوئی رزق مانگنے والا وہ اسے رزق ادا کیا جائے۔اور یہ ندااس طرح جاری رہتی ہے یہاں تک کہ صبح ہوجاتی ہے۔اس رحمتوں اور بخششوں بھری رات میں کثرت سے تلاوت سے کلام پاک آقائے دوجہاں کی ذات اقدس پر کثرت سے درودشریف ،صلوٰة التسبیح اور دیگر نوافل ادا کیے جائیں تو کم سے کم عبادت کرنے سے زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کیا جاسکتا ہے۔
شعبان کے 14ویں دن بعد عصرغروب آفتاب کے وقت چالیس مرتبہ لاحولأ وٴقوٌٴ ة الا باللہ العلیٌٰ العظیم پڑھنے والے کے چالیس سال کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور قیامت کے دن اس کی شفاعت پر چالیس آدمیوں کو دوزخ سے آزادی حاصل ہوگی۔

حضور اکرمﷺ کا ارشاد ہے کہ پندرھویں شعبان کی رات مسلمانوں کی ارواح اپنے گھروں میں جاتی ہیں اور اپنے وارثوں سے مخاطب ہوکر کہتی ہیں کہ ہے کوئی ہمارا محسن جو ہمیں یاد کرے یعنی ایصال ثواب کرے۔اگر تم ہماری حالت زار کویاد کرو دنیا کی تمام آسائشوں اور آرام بھول جاؤ۔اس رات حضورﷺ البقیع میں تشریف لے جاتے۔اس لئے اس رات میں قبرستان جانا سنت ہے وہاں اپنے عزیزو اقارب کی قبروں پر حاضری دیں اور فاتحہ پڑھیں۔
اس رات سورة یٰسین پڑھنے سے ترقی درازعمر اور ناگہانی آفتوں سے نجات ملتی ہے۔

Your Thoughts and Comments