Maal Sehat Aur Sukoon

مال ، صحت اور سکون

اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے مال ، صحت اور سکون بہت بڑی نعمتیں ہیں۔ جس کو اللہ کی نعمتیں میسر ہوں تو اسے چاہیے کہ وہ شکر ادا کرے تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں

maal sehat aur sukoon

مولانا محمد الیاس گھمن
اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے مال ، صحت اور سکون بہت بڑی نعمتیں ہیں۔ جس کو اللہ کی نعمتیں میسر ہوں تو اسے چاہیے کہ وہ شکر ادا کرے تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں مزید اضافہ اور برکتیں عطاء فرماتے رہیں۔ ہمارے معاشرے میں اسلام کی تعلیمات سے دوری کا نتیجہ ہے یا اسلام کی غلط تشریحات کا اثر ہے کہ ہم اللہ کی بعض نعمتوں کے بارے منفی سوچ رکھتے ہیں، مثلاً ہمارے ہاں یہ سمجھا جاتاہے کہ جس کے پاس مال و دولت ہو وہ ’’دنیا دار‘‘ ہے اور جس کے پاس نہ ہو وہ ’’دین دار ‘‘ ہے، حالانکہ مطلقا ً یہ تقسیم درست نہیں۔

بلکہ اگر مال و دولت کے ساتھ ساتھ دل میں خوف خدا موجود ہے تو یہی مال و دولت اس کے حق میں اللہ کی رحمت بن جاتا ہے جس سے وہ بہت سارے اسلامی احکامات پر عمل کرنے کے قابل ہوتا ہے اور اللہ کو راضی کر کے دنیا و آخرت میں کامیاب ہوتا ہے تو ایسا مال ’’دنیا‘‘ نہیں بلکہ ’’دین‘‘ ہے۔

اور اگر مال و دولت کی کثرت نہیں بلکہ معمولی مقدار میں پایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود یہ عبادات میں رکاوٹ بنتا ہے تو یہ ’’دنیا‘‘ ہے جس کی احادیث مبارکہ میں مذمت بیان کی گئی ہے۔

گویا مال کا دارومدار عملی زندگی سے تعلق رکھتا ہے عملی زندگی شریعت کے احکام کے مطابق تو مال کی کثرت باعث رحمت ہے اور اگر عملی زندگی شریعت کے احکام کے خلاف ہے تو مال کی قلت بھی باعث عذاب ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک صحابی روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک گیلا تھا(یعنی غسل کر کے تشریف لائے تھے) ہم نے عرض کی کہ یا رسول اللہ آپ بہت خوش دکھائی دے رہے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں (ایسا ہی ہے )صحابی فرماتے ہیں کہ پھر لوگ مال ودولت کے بارے میں گفتگو کرنے لگے (یعنی اس کی مذمت بیان کرنے لگے)تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خوف خدا رکھنے والے شخص کے لیے مال و دولت بری چیز نہیں اور متقی آدمی کے لیے مال و دولت سے بڑھ کر صحت وتندرستی زیادہ اچھی چیز ہے اور دل کی خوشی(سکون و چین) بھی اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔
(مسند احمد ، حدیث نمبر 23228)
مال و دولت کے بارے میں چند باتیں ذہن نشین رکھنی چاہییں۔
…1 مال کو حلال اور جائز طریقے سے حاصل کریں۔ ناجائز اور حرام ذرائع آمدن سے بچیں، جیسا کہ فراڈ ، دھوکہ ، سود ، جھوٹ ، جھوٹی قسمیں اور غیر شرعی طریقہ معاملات ہیں۔ یاد رکھیں مال تو ناجائز اور حرام ذرائع سے بھی مل جاتا ہے لیکن اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے خدا کی ناراضگی اس میں داخل ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے بیماریاں ، لڑائی جھگڑے ، بے چینی و بے سکونی ، ذہنی ڈپریشن اور اولاد بے ادب اور نافرمان بن جاتی ہے۔
حرام کا لقمہ ایسا زہر ہے جس کے ہوتے ہوئے عبادت کی حلاوت کا احساس بھی نہیں ہو پاتا۔ حالات کی بہتری کے لیے دعائیں مانگی جاتی ہیں لیکن حرام مال ، حرام لباس اور حرام خوراک کی وجہ سے اللہ انہیں قبول نہیں فرماتے۔
…2 مال کے ساتھ جن حقوق اللہ کا تعلق ہے ان کو بروقت ضرور کریں۔ واجبی صدقات جیسا کہ زکوٰۃ ، قربانی ،عشر ، صدقہ فطر وغیرہ ہیں ان کو اپنے وقت پر خوشی کے ساتھ ادا کریں۔
یہ بات اچھی طرح یاد رکھیں کہ مال و دولت ملنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا نہ کرنا اور جن عبادات کا تعلق مال کے ساتھ ہے مال کے کم ہونے کے خوف کی وجہ سے ان عبادات کو ادا نہ کرنا دنیا و آخرت کی بربادی ہے ، مال ختم نہ بھی لیکن انسان کی زندگی ایک دن ضرور ختم ہوجائے گی اور یہی مال دوسروں کی ملکیت میں چلا جائے گا۔
…3 مال کے ساتھ جن حقوق العباد کا تعلق ہے ان کی ادائیگی برقت کریں۔
اہل و عیال کی معاشی ضروریات کو پورا کرنا اپنی حیثیت کے مطابق ان کے اخراجات کو پورا کرنا ضروری ہے۔ والدین ،بہن بھائی ، قریبی رشتہ دار ، ہمسائے اور ضرورت مند طبقے پر اپنی مالی وسعت کے مطابق خرچ کرنا اسلام کی تعلیم ، اللہ کی خوشنودی اور رضاء کا ذریعہ اور مال میں مزید فراخی اور برکت کے حصول کا باعث ہے۔ اس لیے دل چھوٹا نہیں کرنا چاہیے بلکہ اعتدال کے ساتھ مال کو کام میں لاتے رہیں۔

…4 مال کو فضول خرچی سے بچائیں۔ ایک بات اچھی طرح یاد رکھیں جہاں ضرورت ہو وہاں ایک لاکھ بھی خرچ کرنا گناہ نہیں اور جہاں ضرورت نہ ہو وہاں ایک روپیہ بھی خرچ کرنا گناہ ہے۔ ہمارے معاشرے میں نام و نمود اور شہرت کے حصول کے لیے مال کو ضائع کیا جاتا ہے۔ خوشی کا موقع ہو یا غمی کا دونوں میں فضول خرچی دیکھنے کو ملتی ہے ، خصوصاً شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں ضرورت سے زائد اتنا زیادہ خرچ کیا جاتا ہے کہ الامان والحفیظ۔
حالانکہ اسلام ہمیں اعتدال اور میانہ روی کی تعلیم دیتا ہے غیر شرعی رسوم و رواج اور باہمی تفاخر نے ہمارے پورے معاشرے کو بری طرح اجاڑ ڈالا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں مسلسل بے سکونی اور غیر اطمینانی بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے اور یہ اس وقت تک نہیں تھمے گی جب تک اسلام کی اعتدال والی تعلیم کو اپنا نہیں لیا جائیگا۔
مذکورہ بالا حدیث مبارک میں مال کے بعد صحت کا تذکرہ ہے کہ خوف خدا رکھنے والے انسان کے لیے مال سے بھی بڑھ کر صحت و تندرستی زیادہ بہتر ہے۔
کیونکہ صحت کے دنوں میں جس سکون و اطمینان کے ساتھ کام کیے جاتے ہیں ظاہر ہے کہ بیماری کے دنوں میں انسان ویسے کام نہیں کر سکتا۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں صحت کو بہت دخل ہے۔
ٍ حدیث مبارک سے معلوم ہوتا ہے کہ متقی شخص کو مال سے زیادہ اپنی صحت کا خیال رکھنا چاہیے ایسی غذائیں جو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق نہ ہوں ، جو جسم میں بیماریاں پیدا کرنے کا ذریعہ بنیں ان کے بجائے سادہ اور اچھی غذاکا استعمال کرناچاہییمزید یہ کہ جسم کو چست اور تندرست رکھنے کیلیے ورزش کرنی چاہیے۔

یہ بات اچھی طرح یاد رکھیں کہ صحت اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت ہے اس کا شکر ادا کرنا چاہیے اور صحت کا شکر یہی ہے کہ انسان گناہوں والی زندگی سے دور رہے اور اپنے جسم کو شریعت اسلامیہ کے احکامات پر عمل کرنے میں لگائے لیکن ہماری کوتاہی ہے کہ ہم صحت کو اپنا کمال سمجھ کر اللہ کی نافرمانیوں میں لگ جاتے ہیں۔
ٍ اللہ تعالیٰ ہم سب کو مال و دولت ، صحت و تندرستی اور سکون واطمینان جیسی نعمتوں سے مالا مال فرمائے اور فقر و تنگدستی ، بیماریوں اور پریشانیوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم

Your Thoughts and Comments