Mola Mere Mola

مولا! میرے مولا!

ہم نے مانا، تسلیم کیا کہ ھم ،تیرے گنہگار بندے ہیں، پر ہم تجھ سے پیار بھی بہت کرتے ہیں، تیرے نام لینے پر، تجھے یاد کرنے پر

محمد علی رضا اتوار جون

Mola Mere Mola
مولا ! میرے مولا!
ہم نے مانا، تسلیم کیا کہ ھم ،تیرے گنہگار بندے ہیں، پر ہم تجھ سے پیار بھی بہت کرتے ہیں، تیرے نام لینے پر، تجھے یاد کرنے پر، تجھے علی الاعلان پکارنے پر، تیرا ذکر کرنے پر ، ہمہ تن گو ش رہتے ہیں ۔
مولا ! میرے مولا!
سات دہائیاں قبل، بہت پہرے لگ گئے ، جینامحال ہو گیا، زمین تنگ ہو گئی ، تو ہم نے تیرے نام کی خاطر ، تیری ہی بنائی ہوئی دنیا میں، اک صرف تیری خاطر، تیرے نام کی خاطر ، اک الگ خطہِ زمین کی تگ و دو شروع کر دی۔
ستربرس قبل، ہم نے تیرے نام کو بلند رکھنے کی خاطر ، تیرے نام پر اس خطہ زمین کو حاصل کرنے کے لیے ،لا تعداد قربانیاں دیں۔ تیرے نام کی خاطر، ماؤں نے اپنے لختِ جگر وار دیے ، سہاگنوں کے سہاگ اور بیٹیوں کی عصمتیں ا جڑ گئیں۔

تیری ہی بنائی ہوئی زمین پر، تیرے لاکھوں جانثاروں نے خون کے دریا بہا دیے، اور پھر تو نے کرم کیا، ہاں آج ہی کے دن، رمضان کی انہی مبارک ساعتوں میں، تیرے نام لیواؤں نے، تیرے ہی کرم سے، تیرے ہی نام پر ، تیرے ہی بتائے ہوئے اصولوں پر چلنے کے لیے ،تیرے ہی بنائے ہوئے قانون پر عمل پیرا ہونے کے لیے، تیری ہی بنائی اس دنیا میں ،اک خطہِ زمین حاصل کر لیا۔


میرے مولا! اے میرے مولا!
تو، تو سب جانتا ہے، پھر محدود وسائل کے سامنے پہاڑ جیسے مسائل ۔ تیرے منکروں نے بھی بہت اغیاری کی، پر تیرا کرم شامل حال رہا، ہم آہستہ آہستہ پھلنے پھولنے لگے۔ آگے بڑھنے لگے ، قطرے قطرے سے دریا بننے لگے۔ تیرے سچے عشاق اور تیرے سچے طلبگار، اپنے خونِ جگر سے اس چمن کی آبیاری کرنے لگے، لاغر اور مفلوک الحال جسم میں ایک نئی جان کی امید زندہ ہونے لگی، سب کچھ آہستہ آہستہ چلنے لگا۔
زندگی کی روانی شروع ہونے لگیس، تیرے نام پر معرضِ وجود میں آنے والی خطہ زمین ، تیرے ہی ماننے والوں کا مسکن بن گئی۔
مولا ، میرے مولا!
تو ، تو سب جانتا ہے۔ زندگی کا نظام تو چل پڑا ، لیکن عافیت کا نظام زندگی نہ چل سکا۔ وہ نظام, جس کے لیے تیرے نام لیواؤں نے قربانیاں دیں ، وہ نظام جس کے لیے تیرا کرم ہوااور ہم نے اس خطہ زمین کو حاصل کیا تھا۔
مفادپرستوں کے غاصب ٹولے نے ،تیرے دیے ہوئے اس ارض پاک میں تیرا قانون ، بننے نہ دیا۔ دنیا داری کا ایک ایسا نظام بنا دیا، جس کی کوکھ سے ظلم اور ناانصافی نے جنم دینا شروع کر دیا ۔ قانون بھی تشکیل پا گیا، دستور بھی بن گیا، پر تیرا بتایا ہوا قانون، تیرا بنایا ہوا دستور، تیری ہی بندوں نے ، تیری ہی اس زمین پر ، نہ بننے دیا، نہ بنانے دیا۔

مولا۔
اے میرے مولا!

تو ، تو سب جانتا ہے، ہم کیا بتائیں۔ تیرے ہی بندے ، پھر تیرے ہی نام پرخون کی ہولی کھیلنے لگے۔ تیرے ہی نام پر ایک دوسرے کا گلا کاٹنے لگے۔ ماؤں ، بہنوں ، بیٹیوں کی عزتوں کو سرعام ، نیلام کیا جانے لگا۔ غریب کو ترسا ترسا کر مارا جانے لگا۔ کمزورں اور بے کسوں کو ایڑیاں رگڑ رگڑ کر موت کی طرف ، دھکیلا جانے لگا۔
اقتدار، ، دولت ، طاقت کی ہوس اور حکمرانی کا نشہ سر چڑھ کر بولنے لگا۔
غریب ایک وقت کی روٹی کے لیے ، اپنے اعضا بیچنے لگا اور امیر دولت کے انبار سے پہاڑ بنانے لگا۔ عصمت دری، فحاشی ، قمار بازی ، قتل و غارت ، زن ، زر، زمین کی ہوس، اقتدار کا نشہ، بدکاری، بدکرداری،چوری وچکاری، انتشار بازی، جہالت ، انسانیت کی تذلیل و تحقیر ، انتہا پسندی اور فرقہ واریت ہر سو عام ہو گئی ۔ اور پھر،ہر وہ کام جس سے تو نے منع کیا تھا،ہونے لگا اور ہر وہ کام جس کا تو نے حکم دیا تھا،اس سے منہ موڑا جانے لگا، تیرا بنایا ہوا قانون پسِ پشت ڈال دیا گیا، تیرا بتایا ہوا راستہ ترک کر دیا گیا۔
تیرا بتایا ہوا نظام ، بے انتظام ہو گیا اور تو اور تیرے ہی نام کو بیچا جانے لگا، خریدا جانے لگا۔ تیرے ہی نام پر ، تیرے ہی بندوں کو کاٹا جانے لگا۔ تیری ہی اس بستی میں ، تیرے ہی گھر (مسجدوں) میں تیرے ہی نام پر سرعام ، تیرے ہی معصوم بندوں کو، مارا جانے لگا،مروایا جا نے لگا۔

مولا! میرے مولا!
تو ، تو سب جانتا ہے ، تجھ سے کچھ عیاں نہیں اور کچھ بھی تیرے تصرف سے باہر نہیں۔
ہم بیس کروڑ لوگوں پر، اپنے گنہاگار بندوں پر رحم فرما۔ آج سے سات دہائیاں قبل، آج ہی کے دن، رمضان المبارک کی انہی ساعتوں میں، تو نے ہی تو کرم کیا تھا، ہم کو یہ خطہِ زمین عطا کیا تھا۔ یہ ارض پاک ، تیرے نام لیواؤں کی سر زمین ، تیرے نام پر منصہِ شہود پر آنے والا یہ پیارا پاکستان۔

مولا! میرے مولا!
اس عرض پاک پر کرم فرما۔
یہ 20 کروڑ تیرے عاجز و مجبور بندے آج تجھ سے گڑ گڑا کر التجا کرتے ہیں جو آج سے ستر برس قبل تحفتاً ،عنایت فرمایا تھا۔ آج اس کی حفاظت فرما۔ تو غفورالرحیم ہے، مالک ارض و سما ء ہے اپنے کرم سے اس ارض وطن کی حالت پر رحم فرما !تیرے کمزور بندے ،تیرے دیئے ہوئے نظام کے طالب ہیں ،ایسا کرم کر کہ تیرا قانون و دستور اور منشور اس ملک میں نافذ ہو جائے ۔اپنے خصوصی کرم سے ،اس کی حالت پر رحم فرما! اس پر اپنا نظام، اپنا قانون مسلط فرما ۔
اس کا ذرہ ذرہ اس کاانگ انگ، تیرے کرم کا طلبگار ہے! تیری رحمت کے لیے بیقرار ہے!
مولا! میرے مولا!
رمضان کے ہی صدقے ، اپنے کرم کی بارش فرما، اپنے رحم سے منور فرما ! ہمیں عافیت عطا فرما! ہمیں امن عطا فرما!

Your Thoughts and Comments