بند کریں
اسلام مضامینمضامین مقام علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مقام علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ
(ایک ایک جملہ محبت میں ڈوب کر پڑھنے والا ہے)۔۔۔ہمارے پیارے آقا سیدنا محمد مصطفی ﷺ جب فتح مکہ کے موقع پر بیت اللہ سے بتوں کو گرارہے تھے تو ایک بت جس کام ہبل تھا
ہمارے پیارے آقا سیدنا محمد مصطفی ﷺ جب فتح مکہ کے موقع پر بیت اللہ سے بتوں کو گرارہے تھے تو ایک بت جس کام ہبل تھا اس قدر اونچائی پر تھا کہ ہاتھ پہنچنا مشکل تھا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میرے آقا،میرے تاجدار(ﷺ) آپ میرے کندھوں پر اپنے قدم ناز رکھیے اور اوپر ہوکر بت کو نیچے گرادیجئے رسول اکرم ﷺ نے فرمایا تمھارے لیے بار نبوت اٹھانا مشکل ہوگا آپ آئیں میرے کندھوں پر چڑھ کر ان بتوں کو گرائیں حکم کی بجا آوری پر اسد اللہ الغالب رضی اللہ عنہ دوشِ مصطفی ﷺ پر سوار آئے اور ان بتوں کو گرایا اس دوران رسول اللہﷺ نے پوچھا علی،کیا دیکھتے ہو؟عرض میرے آقا:اس طرح کہ سب پردے اٹھ گئے ہیں اور میراسر عرش سے جاملا ہے اور جدھر ہاتھ پھیلاؤں وہ چیز میرے ہاتھ میں آجاتی ہے تاجدار ختم نبوت ﷺ نے فرمایا علی تمھارا یہ کتنا پیارا وقت ہے کہ تم کا رحق ادا کررہے ہو اور میرا کتنا مبارک حال ہے کہ بارِ حق اتھائے ہوئے ہوں(سبحان اللہ)بت گرانے کے بعد حیدر کرار رضی اللہ عنہ نے خود کو نیچے گرایا اور مسکرائے رحمت عالم ﷺ نے پوچھا علی مسکرائے کیوں ہو؟عرض کیا میرے آقا:(ﷺ) اتنی بلندی سے خود کو گرایا اور کوئی تکلیف نہیں ہوئی،رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کیسے تکلیف ہوتی اٹھانے والا محمد مصطفی ﷺ ہو اور اتارنے والا جبریل امین علیہ السلام ہو۔

(4) ووٹ وصول ہوئے