Pani Mein Barket

پانی میں برکت

امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ۔ہم رات بھر چلتے رہے ،یہاں تک کہ

جمعہ دسمبر

pani mein barket

پانی میں برکت
علامہ محمد ولید الاعظمی العراقی
امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ۔ہم رات بھر چلتے رہے ،یہاں تک کہ رات کا آخری وقت ہو گیا۔ہم پر نیند غالب آگئی۔ایسی حالت میں مسافر کے لیے نیند سے زیادہ میٹھی کوئی چیز نہیں ہوتی۔

پس ہم سو گئے اور ہماری آنکھ اس وقت تک نہ کھلی جب تک سورج کی گرمی نے ہمیں جگا نہ دیا۔
سب سے پہلے فلاں اور فلاں اُٹھے،چوتھے نمبر پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جاگے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب تک لیٹے ہوئے تھے۔ہم میں سے کوئی بھی جگانے کی جسارت نہیں کرتا تھاکیونکہ ہم نہیں جانتے تھے کہ خواب میں اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا دیکھا تا تھا۔


جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیدار ہوئے اور صورتِ حال دیکھی کہ سوتے میں نماز کا وقت نکل گیا ہے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بلند آواز سے تکبیر پڑھنی شروع کی اور مسلسل تکبیر کو دہراتے گئے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس صورتِ حال پر پریشانی کا اظہار کیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”کوئی فکر نہیں ! رختِ سفر باندھو۔“
پس لوگ سفر پر روانہ ہو گئے ۔تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے نیچے تشریف لائے اور وضو کے لیے پانی طلب فرمایا۔وضو کے بعد اذان کہی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ ایک شخص الگ بیٹھا ہے ۔

نماز میں شامل نہیں ہوا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا:
”اے فلاں ! تجھے کس چیز نے نماز پڑھنے سے روکا۔؟“
اس نے عرض کیا:
”یا رسول اللہ !(صلی اللہ علیہ وسلم میں جنبی ہوں (مجھ پر غسل واجب ہے )اور غسل کے لیے پانی نہیں ہے۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”مٹی سے تیمم کر لو یہ تمہاری طہارت کے لیے کافی ہے ۔

اس کے بعد پھر لوگ چل پڑے اور کچھ دور جا کر لوگوں نے پیاس کی شکایت کی ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے نیچے تشریف لائے۔حضرت علی اور ایک دوسرے صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بلایا اور فرمایا:
”جاؤپانی کی تلاش کرو۔“
چنانچہ وہ دونوں گئے اور کچھ فاصلے پرانہوں نے ایک عورت کو دیکھا جو اونٹ پر سوار تھی ۔اس نے اُونٹ پر دو بڑی بڑی مشکیں پانی کی بھرئی ہوئی لادرکھی تھیں ۔
ان دونوں صحابہ رضی اللہ عنہ نے اس عورت سے پوچھا:
”پانی کہا ہے ؟“
اس نے جواب دیا:
”میں کل اس وقت پانی کے چشمے سے چلی تھی(یعنی پانی کا چشمہ ایک دن کی عا فت پر ہے)۔“
صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے کہا:
”پھر ہمارے ساتھ آؤ۔“
وہ کہنے لگی:
”کہاں؟“
صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے کہا:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس۔

وہ کہنے لگی:
”وہی شخص جسے صابی کہا جاتا ہے؟“
صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:
”ہاں ! تو ٹھیک سمجھ گئی۔پس ہمارے ساتھ چل۔“
پھر وہ دونوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اس عورت کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس عورت کے ساتھ ہونے والی گفتگو بیان کی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اس عورت کو اُونٹ سے نیچے اُتارو۔“
اسے نیچے اُتار نے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا اور دونوں مشکیزوں کا منہ کھول کر ان میں سے تھوڑا ساپانی برتن میں ڈالا اور ان مشکیزوں کا منہ بند کردیا۔اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں اعلان فرمایا:
”لوگو! جس نے پانی پینا ہو آکر پی لے اور جس نے برتن میں لینا ہو وہ برتن میں لے لے“
پس جس نے چاہا پی لیا اور جس نے چاہا برتن میں لے لیا۔
آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن بھر کر اس شخص کو دے جس نے جنابت کی شکایت کی تھی اور اسے فرمایا:
”جا!اس پانی سے غسل کرلے۔“
حضرت عمران رضی اللہ عنہ مزید بیان کرتے ہیں کہ وہ خاتون کھڑی حیرت سے سب کچھ دیکھتی رہی ۔خدا کی قسم ! وہ یہ دیکھ کر کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑے سے پانی کو اتنی جماعت میں تقسیم کردیا اور سب نے برتن بھی بھر لیے اور سیر ہو کر پی بھی لیا،ایسی مبہوت ہوئی کہ بیان نہیں کیا جا سکتا۔
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اس (پانی والی )عورت کے لیے کچھ کھجوریں ،آٹا اور ستو جو تمہارے پاس ہے جمع کردو۔“
صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے کھانے پینے کا سامان جمع کیا اور اسے ایک کپڑے میں باندھ کر عورت کو اُونٹ پر سوار کیا اور گٹھڑی اس کے آگے رکھ دی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا:
”تو جانتی ہے کہ ہم نے تمہارے پانی میں کوئی کمی نہیں کی مگر اللہ نے ہمیں پانی پلایا ہے۔

جب وہ عورت اپنے اہل وعیال میں پہنچی تو انہوں نے پوچھا:
”تو نے اتنی دیر کہاں کردی؟“
اس پر عورت نے جواب دیا:
”عجیب وغریب واقعہ پیش آیا۔راستے میں مجھے دو آدمی ملے جو مجھے اس شخص کے پاس لے گئے جسے ”صابی“کہا جاتا ہے ۔پھر اس نے سارا واقعہ بیان کیا اور کہا:خدا کی قسم! یا تو زمین وآسمان میں اس (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم )سے بڑا جادو گر کوئی نہیں یا پھر وہ واقعی اللہ کا سچا رسول ہے۔

مسلمان جب اس علاقے میں مشرکین پر حملے کرتے تھے تو اس بستی کو جہاں وہ عورت رہتی تھی چھوڑ جاتے تھے ۔ایک دن اس نے اپنے قبیلے والوں سے کہا:
”یہ لوگ (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین )تمہارے گرد حملے کرتے ہیں مگر تمہیں جان بوجھ کر چھوڑجاتے ہیں ۔پس بہتری اور بھلائی اسی میں ہے کہ تم اسلام لے آؤ۔“
ان لوگوں نے اس کی با ت مان لی اور اسلام قبول کرلیا۔

Your Thoughts and Comments