Ramadaan Al Mubarak Ke Fazail O Barkaat - Article No. 1967

رمضان المبارک کے فضائل و برکات - تحریر نمبر 1967

نماز تراویح مسلمانوں کیلئے ایک زائد نماز ہے جو صرف ماہ رمضان میں اد اکی جاتی ہے اس مہینے میں نمازِ تراویح کو باجماعت ادا کرنے کے بعد وتر بھی باجماعت ادا کئے جاتے ہیں

منگل جون

ramadaan al mubarak ke fazail o Barkaat

علامہ منیر احمد یوسفی
نمازِ تراویح مسلمانوں کیلئے ایک زائد نماز ہے جو صرف ماہ رمضان المبارک میں ادا کی جاتی ہے اور ماہ صیام کا چاند نظر آتے ہی پہلی رات سے نماز عشاء کی جماعت کے بعد دو سنتیں پڑھنے کے بعد با جماعت آٹھ رکعتیں پڑھی جاتی ہیں اور روزوں کے مہینے میں نماز تر اویح کو باجماعت ادا کر نے کے بعد وتر بھی با جماعت ادا کئے جا تے ہیں۔

جو مسلمان با جماعت نماز عشاء ادا کرتا ہے وہ و تر بھی با جماعت پڑھتا ہے اور جس کی نما زعشاء باجماعت ادا نہ ہو سکے وہ وتر بھی اکیلا ہی پڑھتا ہے۔ حضرت سلمان فارسی فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺنے شعبان المعظم کے مہینہ کے آخری دن ہمیں خطاب کر تے ہوئے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس( ماہ مبارک) کے روزے فرض قرار دیئے ہیں اور اس کی رات (یعنی راتوں ) کا قیام زائدعبادت ہے۔


حضرت ابو ہر یرہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺکو رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے بارے میں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ”جو ایمان کے ساتھ طلب ثواب کی نیت سے رمضان المبارک کی رات کو نمازتر اویح پڑھنے کیلئے کھڑا ہو اس کے پہلے سب گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔
نبی کر یم ﷺخود بھی نماز تر اویح پڑھتے تھے۔ آپ نے تین راتیں نمازتر اویح با جماعت کروائی پھر اس خیال سے کہ کہی یہ نماز فرض نہ ہو جائے جماعت ترک فرمادی اور اکیلے پڑھتے رہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے۔
ملاحظہ ہو: حضرت ابع ذرسے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہﷺ کے ساتھ روزے رکھے تو رسول اللہﷺ نے ہمارے ساتھ رمضان المبارک کے مہینے میں قیام نہ فرمایا یہاں تک کہ ( انتیس دنوں والے رمضان المبارک کے ) سات دن باقی رہ گئے۔ پھر نبی کریمﷺ نے ہمارے ساتھ تنیسویں رات کو قیام فرمایا یہاں تک کہ تہائی رات گزرگئی۔ پھر چھٹی رات ( اختتام کی چرف سے )یعنی چو بیسویں رات ہوئی تو آپ ﷺنے ہمارے ساتھ قیام ( رمضان المبارک )نہ فرمایا:یعنی ہمارے ساتھ تر اویح ادانی فر مائی ) پھر اس حساب سے پانچویں شب یعنی پچیسویں رات آئی تو حضورﷺ نے( مسجد نبوی شر یف میں تشر لاکر )ہمارے ساتھ قیام ( رمضان المبارک ) فرمایا ‘یہاں تک کہ نے نصف رات گزرگئی۔
پھر (حضرت ابوذرفر ماتے ہیں ) میں عرض کیا یا رسول اللہﷺ کاش اس رات کے قیام کو آپﷺ ہمارے لئے زیادہ فر ماتے۔ حضور نے فرمایا جب کوئی شخص امام کے فارغ ہونے تک اس کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو اس کیلئے رات کا قیام کیا جا تا ہے۔ پھر جب اس حساب سے چوتھی رات یعنی چھبیسویں رات آئی تو حضور نے ہمارے ساتھ قیام نہ فرمایا۔ پھر اس کے بعد بحساب مذکور تیسری یعنی ستائیسویں شب آئی تو نبی کریمﷺ نے اپنی ازواج مطہرات‘ اہل و عیال اور صحابہ کرام کو جمع فرمایا اور ہمارے ساتھ قیام فرمایا۔
یہاں تک کہ ہم ڈرے کہ تم سے فلاح فوت نہ ہو جائے۔ میں نے کہا فلاح کیا ہے فرمایا سحری۔ پھر بقیہ مہینے (یعنی مہینے کی باقی راتوں ) میں حضورﷺ نے ہمارے ساتھ قیام فرمایا۔
دوسری روایت میں مذکور ہ بالاحد یث کے عنوان کی تکمیل ہے۔ ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ سے روایت ہے فرماتی ہیں رسول اللہ آدھی رات کو باہر تشر ف لا ئے اور مسجد میں نماز پڑھی اور آپﷺ کے ساتھ لوگوں نے بھی آپ ﷺکے پیچھے نماز پڑھی ۔
صبح کو لوگوں نے اس کاتز کرہ کیا تو دوسرے روز اس سے زیا د لوگ جمع ہو گئے اور انہوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز (تر اویح) پڑھی۔ صبح لوگوں نے اس کا چرچاکیا تو تیسری رات نمازی بہت زیادہ ہو گئے۔ جناب رسول اللہﷺ باہر تشریف لائے اور نماز پڑھی۔ لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز بھی۔ جب چوتھی رات آئی تو مسجد نمازیوں سے عاجز آ گئی یعنی خوب بھر گئی۔ اس رات آپ ﷺمسجد میں نماز تر اویح پڑھنے کے بعد آئے)حتیٰ کہ آپﷺ صبح کی نماز کیلئے باہر تشریف لائے۔
جب صبح کی نماز پڑھ لی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور خطبہ پڑھا۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کے حمد و ثناء کے بعد! بیان یہ ہے کہ مسجد میں تمہا را مو جو د ہونا مجھ پر مفی نہ تھا۔ لیکن مجھے ڈر ہوا کہ کہیں تم پر (تر اویح) کی نماز فرض نہ ہو جائے پھر تم اس کے ادا کرنے سے عاجز ہو جاوٴ۔ یہاں تک کہ رسولﷺ دنیا سے پردہ فرما گئے اور یہ معاملہ اسی طرح رہا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ طیبہ طاہر سے ہی مروی ہے کہ ایک رات نبی کریمﷺ نے مسجد میں نماز پڑھی تو لوگوں نے بھی آپﷺکے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر دوسری رات آپﷺ نے نماز پڑھی اور لوگ اور زیادہ جمع ہو گئے اور رسولﷺ لوگوں کے پاس تشریف نہ لائے۔ جب صبح ہوئی تو فرمایا جو کچھ تم نے کیا میں دیکھا ہے اور تمہارے پاس آنے سے مجھے کسی نے منع نہیں کیا مگر اس بات نے کہ تم پر رات کی نماز فرض ہو جائے گی اور یہ رمضان المبارک کا واقعہ ہے۔
مذکورہ بالا روایات سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ رمضان شریف کی تین راتوں میں حضورﷺ نے اول شب سے نماز تر اویح شروع فرمائی۔ پہلی رات میں تہائی حصہ گزرنے کے بعد فراغت ہوئی دوسری رات نصف شب گزر جانے کے بعد اور تیسری رات اول تا آخر نماز پڑھنے میں گزری۔ بہر حال یہ حقیقت بخوبی واضح ہے کہ نمازتر اویح تینوں راتوں میں رسول کریم ﷺنے اول وقت میں پڑھی۔

Your Thoughts and Comments