Sabr

صبر

حضرت رابعہ رحمتہ اللہ علیہ نے ہوش سنبھالا تواپنے والدین کی طرح عبادت گزار اور نیک سیرت ثابت ہوئیں ۔ آپ کی زبان کبھی بیہودہ الفاظ سے آلودہ نہ ہوئی اور نہ ہی آپ آثکسی رنج وتکلیف پر تکدر کی شکار ہوتی تھیں۔

Sabr
معاذ ہاشمی :
حضرت رابعہ رحمتہ اللہ علیہ نے ہوش سنبھالا تواپنے والدین کی طرح عبادت گزار اور نیک سیرت ثابت ہوئیں ۔ آپ کی زبان کبھی بیہودہ الفاظ سے آلودہ نہ ہوئی اور نہ ہی آپ کسی رنج وتکلیف پر تکدر کی شکار ہوتی تھیں ۔ بہ آواز بلند کلام پاک پڑھنا اور حلال وحرام کے حوالے سے ہمیشہ محتاط رہنا آپ کا وطیرہ تھا۔ آپ کی ذہانت وفطانت کا یہ عالم تھا کہ جوبات سنتیں ، فوراََ ذہن نشین کرلیتیں ۔
اسی کی بدولت آپ نے قرآن کریم حفظ کیااورنبی کریم ﷺ کی متعددا حادیث آپ کو زبانی یادتھیں ۔ نہ صرف یہ بلکہ بزرگان دین کے مقولے بھی آپ کی زبان پر خوب رواں تھے ۔ جب آپ کوئی سورہ یار کرلیتیں تو نہایت خشوع وخضوع کے ساتھ اپنے والد کو سناتیں ۔ آپ کا ذوق وشوق اور طرز عمل اکثرآپ کے والد کو حیران کردیتا اور آپ دل ہی دل میں کہتے کہ اے پرودگار! تونے اس لڑکی کو کس مقصد کے لئے اس دنیا میں بھیجا ہے ؟ اس میں تواوروں جیسی کوئی بات ہی نہیں ہے ۔


ایک روز گھر والے شام کاکھاناکھانے بیٹھے ۔ سب اپنی بھوک مٹانے کے لئے بے تاب تھے لیکن رابعہ رحمتہ اللہ علیہ پرے ہٹ کر بیٹھی رہیں ۔ آپ کے والد نے پوچھا۔ کیابات ہے بیٹی کھاتی کیوں نہیں ؟
اس پر آپ نے کہا۔ ” معلوم نہیں کہ یہ کھانا حرام ہے یا حلال ․․․․․“
یہ سن کر اسمٰعیل چونکے اور کہا۔ کیا تم نے کبھی دیکھا کہ اگر حلال کھانا نہ ملے تو ہم نے حرام کی جانب ہاتھ بڑھایا ہو؟
اس پر رابعہ نے کہا۔ نہیں ، لیکن ہمیں اس دنیا میں بھوک پر صبر کرنا چاہے تاکہ آخرت میں آگ پرصبر نہ کرنا پڑے ۔

Your Thoughts and Comments