Sadaqat Aur Sadgi Uswa E Rasool Allah Kay Roshan Mayar

”صداقت اور سادگی اسوہ رسول ﷺ کے روشن معیار“

کی محمدﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں․․․․․․․․ یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں

sadaqat aur sadgi uswa e rasool allah kay roshan mayar
سید علی بخاری:
اللہ تعالیٰ نے اخلاق وعادات کی تمام خوبیاں وکمالات اور اعلیٰ صفات حضورﷺ کی ذات گرامی میں جمع فرمادی تھیں۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے علوم عطا فرمائے تھے حالانکہ آپ ﷺ ”امی “ تھے کچھ پڑھ لکھ نہ سکتے تھے۔ نہ انسانوں میں کوئی آپ کا معلم تھا اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ایسے علوم عطا فرمائے تھے جو کائنات میں کسی اور کو نہیں دیئے گئے۔
آپ ﷺ کو کائنات کے خزانوں کی کُنجیاں پیش کی گئیں مگر آپ ﷺ نے دنیا وی مال وجاہ کے بدلے ہمیشہ آخرت کو ترجیح دی۔ آپﷺ علم وحکمت کے سب سے زیادہ جاننے والے تھے، سب سے زیادہ محترم سب سے زیادہ مصنف، سب سے زیادہ حلیم وبردباد، سب سے زیادہ پاک دامن وعفیف اور لوگوں کو سب سے زیادہ نفع پہنچانے والے اور لوگوں کی ایذار رسانی پہ سب سے زیادہ صبرو تحمل کرنے والے تھے دیکھنے والوں کی نظر میں آپ ﷺ کا چہرہ انور نہایت رعب ودبدبہ والا روشن چمکدار ایسا کہ چودھویں کا چاند چمکتا ہے۔

جب آپﷺ مسکراتے تو گویا دیواروں پر مسکراہٹ کی چمک پڑتی تھی۔ شاعر حسان بن ثابت کہہ اٹھے ”میری آنکھوں نے کبھی آپ سے زیادہ کوئی صاحب جمال نہیں دیکھا، عورتوں نے آپ سے زیادہ کوئی صاحب جمال نہیں جنا، آپ کو ہر عیب سے پاک پیدا کیا گیا، جیسے آپ ﷺ اپنی مرضی کے مطابق پید اکئے گئے ہوں۔“ آپ ﷺ کا اخلاق قرآن کریم تھا، اس کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ قرآن مجید میں جو اخلاق وصفات ِمحمودہ مذکورہ ہیں آپ ﷺ میں وہ تمام موجود تھیں۔
آپﷺ نے کبھی اپنی ذاتی معاملے اور مال ودولت کے سلسلے میں کسی سے انتقام نہیں لیا اور کسی سے بدلہ لیا تو صرف اللہ تعالیٰ کے لئے لیا۔ کفار، منافقین اور مشرکین نے آپ ﷺ سے جنگ وجدل کی آپ کو شدید رنج والم پہنچایا مگر اس حال میں بھی آپ ﷺ عفو درگرزر کی اعلیٰ مثال بنے رہے اور کفار کے لئے بدُعا کرنے کے بجائے دعا فرمائی۔ آپ ﷺ تمام انسانوں میں سب سے زیادہ اشرف ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ بہادر اور فیاض تھے۔
آپﷺ کے مزاج میں اعتدال تھا، سخت گونا تھے اور نہ بازاروں میں گھومنے والے اور خلاف وقار باتیں کرنے والے تھے اور کبھی برائی کا بدلہ برائی سے نہ دیتے بلکہ معاف فرما دیتے تھے۔ حیاسے آپ ﷺ کی نگاہ کسی شخص پہ نہ ٹھہرتی تھی اور کسی نامناسب بات کا اگر کسی ضرورت سے ذکر کرنا پڑتا تو کنایہ فرماتے۔ کشادہ دل بات کے سچے اور طبیعت کے نرم تھے۔ امیرو غریب آزاد وغلام کسی کو خاص ناکرتے بلکہ سب کی دعوت اور حقیر سے حقیر ہدیہ بھی قبول فرما لیتے تھے نا صرف یہ بلکہ خود بھی ہدیہ دیا کرتے۔
لوگوں کی عیادت کیلئے جایا کرتے معذرت کرنے والے کا عذر قبول فرمالیتے اور کبھی اپنے اصحاب کے درمیان پاؤں پھیلائے ہوئے بیٹھے نہیں دیکھے گئے جس سے اوروں پر جگہ تنگ ہوجائے اورجوآپ کے پاس آتا اس کی خاطر تواضع کرتے حتیٰ کے بعض اوقات آنے والے مہمان کیلئے اپنا کپڑا خود بچھاتے اور تکیہ خود اٹھا کر پیش کرتے کسی کی بات درمیان سے نا اچکتے اور جب خود کسی سے ہم کلام ہوتے تو آہستہ اور ٹھہر کر ہر لفظ ادا کرتے یعنی گفتگو میں بھی جلد بازی سے کام نا لیتے اکثر تبسم فرماتے۔
آقائے دوجہاں، سرور کائنات، ختم الرسل ، پیلر حسن اخلاق حضرت محمد مصطفی ﷺ صداقت، امانت اور سادگی کی اعلیٰ مثال ہیں۔ آپ ﷺ رحمت اللعالمین ہیں، آپ ﷺ کی پاکیزہ زندگی قیامت تک آنے والے نہ صرف مسلمانوں کیلئے بلکہ کائنات کے ہر انسان کیلئے مشعل راہ ہے، آپ ﷺ ابتداء ہی سے عمدہ اخلاق کے مالک تھے۔ سب سے محبت ، عاجزی اونکساری سے ملتے قبل از اظہارِ نبوت بھی کفار مکہ آپﷺ کے پاس اپنی امانتیں رکھواتے اور اپنے فیصلے کرواتے ۔
آپ ﷺ نے تاریخ انسانی میں جو زبردست، بے مثال اور حیرت انگیز کارہائے نمایا سر انجام دیئے اس میں بنیادی کردار آپ ﷺ کے دل موہ لینے والے اخلاق اور روحوں کے سحر کرلینے والی شرافت کا ہے۔ آپ ﷺ کے خلق عظیم نے دشمنوں کو دوست کیا اور اپنے خون کے پیاسوں کو اپنا جاں نثار بنایا۔ جب آپﷺ کے پاس حکومت نہ تھی تب بھی صادق وامین اور سادہ طرز زندگی اور جب مکہ فتح ہوا تب بھی طرز حیات نہ بدلا اور سب کو معاف فرمایا اور عدل و انصاف کیا۔ آپ ﷺ نے بنی نوع انسان کو آداب معاشرت سیکھائے طبقاتی ، معاشرتی اور رنگ ونسل کے مصنوعی امتیازات کو ختم کرکے عملی درس مساوات دیا۔

Your Thoughts and Comments