Syedna Abdullah Abbas R.a Ky Aqaid

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے عقائد

نبی پاک ﷺ کے در سے کوئی خالی نہیں گیا ان کے دروازے ہر سال کے لئے کھلے ہیں ان کے ہاں کسی قسم کی کمی نہیں

Syedna Abdullah Abbas R.a Ky Aqaid
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے عقائد:
جودوسخاء: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ خیر میں سب سے زیادہ سخی تھے اور آپ کی سخاوت کا سب سے زیادہ ظہور ماہ رمضان میں ہوتا تھا حضرت جبریل علیہ السلام ہر سال ماہ رمضان میں آخیر مہینہ تک آپ سے ملاقات کرتے تھے رسول پاکﷺ ان کو قرآن سناتے۔

”جب جبریل آپ سے ملاقات کرتے تو آپ بارش برسانے والی ہواؤں سے بھی زیادہ سخی ہوتے تھے۔
عقیدہ . ہوا ہر جگہ ہوتی ہے نبی پاک ﷺ کی سخاوت ہوا سے بھی زیادہ تیز ہے تو آپ کی سخاوت بھی کائنات کے کونے کونے میں موجود ہے سخاوت ایک صفت ہے جس موصوف کی ایک صفت کا یہ مقام ہے ان کی اپنی ذات بابرکات کی عظمت کا کیا کہنا:
”جس طرف اُٹھ گئی دم میں دم آگیا“
”آس نگاہ عنایت پہ لاکھوں سلام“
”ہاتھ جس سمت اٹھا تو غنی کردیا“
”موج بحر سماحت پہ لاکھوں سلام“
جودوسخا: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک ﷺ کی عادت کریمہ تھی۔


”آپ کسی سائل کا سوال ردنہ فرماتے تھے“
عقیدہ:نبی پاک ﷺ کے در سے کوئی خالی نہیں گیا ان کے دروازے ہر سال کے لئے کھلے ہیں ان کے ہاں کسی قسم کی کمی نہیں۔
”زمانہ نے زمانہ میں سخی ایسا کہیں دیکھا“
زباں پر جس کے سائل نے نہیں آتے دیکھا“
دیوانہ بچہ: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت اپنے دیوانے بچہ کو لے کر رسول پاک ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہﷺ میرا یہ بچہ دیوانہ ہے صبح و شام بہت تنگ کرتا ہے۔
تو رسول اللہ ﷺ نے بچہ کے سینہ پر ہاتھ مبارک پھیرا اور اسکے لئے دعا فرمائی تو اس بچہ نے قے کردی اور اس کے پیٹ سے ایک سیاہ رنگ کے کتے کے بچہ کی طرح کی کوئی چیز نلکی اور بھاگ گئی فَشُفِیَ تو وہ بچہ تندرست ہوگیا۔
عقیدہ: صحابہ اکرام علیہم الرضوان مشکل اور پریشانی کے حل کے لئے نبی پاکﷺ کے پاس حاضر ہوتے تھے۔آپﷺ ان کے لئے دعا فرماتے تو ان کی مشکل دور ہوجاتی نبی پاکﷺ کے دست مبارک میں بھی شفا ہے اور آپﷺ کی دعا سے بھی مشکلات حل ہوتی ہیں،
درخت کے خوشہ کا حکم کی تعمیل کرنا:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کی بارگاہ اقداس میں ایک اعرابی آیا اور عرض کیا۔

مجھے کیسے معلوم ہوگا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں تو آپﷺ نے فرمایا اگر میں کھجور کے اس درخت کے خوشہ کو بلاؤں تو تو اس بات کی گواہی دے گا کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ﷺ ہوں ،تو آپﷺ نے اس درخت کے خوشہ کو بلایا تو اس نے درخت سے اترنا شروع کردیا یہاں تک کہ وہ آپﷺ کے لئے آگر پھر آپﷺ نے اس کو فرمایا۔
”تو وہ واپس چلاگیا یہ دیکھ کر اعرابی مسلمان ہوگیا“
عقیدہ: نبی پاکﷺ ساری کائنات کے رسول ہیں اور آپﷺ کی حکومت بھی ساری کائنات پر ہے شجروحجر بھی آپﷺ کو پہنچانتے ہیں اور آپﷺ کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں جو مسلمان کہلا کر حضور ﷺ کو حاکم نہ مانے وہ بہت بدقسمت ہے اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مجدد دین و ملت امام الشاہ احمد رضا خاں بریلوی رحمة اللہ علیہ نے اسی لئے فرمایا ہے۔

”وہی نور حق وہی ظل رب ہے انہیں کا سب ہے انہیں سے سب“
نہیں ان کے ملک میں آسماں کہ زمیں نہیں کہ زماں نہیں“
دندان مبارک سے نور کا ظہور: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔کہ رسول پاک ﷺ جب گفتگو فرماتے تو دیکھا جاتا جیسا کہ نوران کے دندان مبارک سے نکل رہا ہے۔
عقیدہ: نبی پاکﷺ سرتا پا معجزہ تھے تب ہی تو آپﷺ کے کلام فرماتے پر اُن کے دندان مبارک سے نور کا ظہور محسوس ہوتا تھا بعض روایات میں ہے کہ آپﷺ کے تبسم فرمانے سے دیواریں چمک اٹھتیں۔
علامہ جامی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں۔
”وصلی اللہ علیٰ نور کزوشد نور یا پیدا“
”زمین از جب اوساکن فلک درعشق اوشیدا“
نماز کے بعد بلند آواز سے ذکر کرنا: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ ”فرض نماز کے بعد بلند آواز سے ذکر کرنا نبی پاکﷺ کے زمانہ مبارک میں تھا“
فرض نماز کے بعد بلند آواز سے ذکر کرنا جائز ہے علامہ ابن حجر عسقلانی رحمة اللہ علیہ اس حدیث کے شرح میں فرماتے ہیں کہ۔

یہ حدیث نماز کے بعد بلند آواز سے ذکر کرنے کے جواز پر دلیل ہے،
جنتی عورت: سیدنا عطاء بن ابی رباح رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا۔
”کیا میں تم کو ایک جنتی عورت نہ دکھاؤں“؟تو میں نے عرض کیا کیوں نہیں تو انہوں نے فرمایا اس سیاہ فارم عورت نے نبی پاک ﷺ کی خدمت اقداس میں حاضر ہوکر عرض کیا یارسول اللہﷺ مجھ پر مرگی کا دورہ پڑتا ہے اور میرا ستر کھل جاتا ہے،آپﷺ میرے لئے دعا فرمائیں۔
تو آپﷺ نے فرمایا:اگر تم چاہو تو اس پر صبر کرو اور تم کو جنت مل جائے گی اور اگر تم چاہو تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں وہ تم کو صحت عطا فرمائے گا تو اس عورت نے عرض کیا میں صبر کرتی ہوں میرا ستر کھل جاتا ہے آپﷺ یہ دعا فرمائیں کہ میرا ستر نہ کھلے تو آپﷺ نے اس کے لئے دعا فرمائی۔
عقیدہ: صحابہ اکرام علیہم الرضوان پر کوئی مصیبت اور پریشانی آتی تو وہ نبی پاکﷺ کی خدمت اقداس میں حاضر ہوکر اس کے مداوا کے لئے عرض کرتے تو آپﷺ ان کے لئے دعا فرماتے جس سے ان کی مشکل اور مصیبت دور ہوجاتی نیز نبی پاک ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے مختار بنایا ہے کہ وہ جنت بھی عطا فرماسکتے ہیں۔

”کس چیز کی کمی ہے آقا تیری گلی میں“
دنیا تیری گلی میں عقبیٰ تیری گلی میں“

Your Thoughts and Comments