Waqia Meeraaj Hadees Nabwi SAW K Aaine Main

واقعہ معراج حدیث نبویﷺ کے آئینہ میں

واقعہ معراج کا ذکر قرآن مجید کے پندرہویں پارے میں سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں۔ یہ عظیم الشان سفر دو حصوں پر مشتمل ہے: ایک زمینی اور دوسرا آسمانی۔ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک پہلا حصہ ہے

Waqia Meeraaj Hadees Nabwi SAW K Aaine Main
پروفیسر ڈاکٹر محمد مزمل احسن شیخ:
واقعہ معراج کا ذکر قرآن مجید کے پندرہویں پارے میں سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں۔ یہ عظیم الشان سفر دو حصوں پر مشتمل ہے: ایک زمینی اور دوسرا آسمانی۔ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک پہلا حصہ ہے جبکہ دوسرا حصہ وہ سفر ہے جو مسجد اقصیٰ سے آسمانوں کی بلندی تک ہوا۔
سفر معراج کی غرض و غایت:
اس سفر کا مقصد یہ تھا کہ اللہ اپنے کامل بنے نبی اکرمﷺ کو عجائبات اور آیات کبریٰ دکھائیں۔
اللہ تعالیٰ انسانوں کی ہدایت کے لیے انبیاء کو خصوصی علم سے نوازتے رہے، تو لازم تھا کہ امام الانبیاء ختم المرسلینﷺ کو بھی سب سے زیادہ نوازتے کیونکہ آپﷺ نے دنیا کے لیے حق کا گواہ بننا تھا۔ آج تو انسان نے دماغ کی قوتیں بروئے کار لا کر آواز سے تیز رفتار ہوائی جہاز بنا لیے ہیں لیکن اس وقت مادی ترقی کے یہ سارے ممکنات نگاہوں سے اوجھل تھے۔

یہ یقین کرنا انتہائی مشکل تھا کہ کوئی انسان اپنے جسم اور روح کے ساتھ یہ تمام زمینی اور آسمانی فاصلے ایک ہی رات کے کچھ حصہ میں طے کر سکتا ہے جبکہ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک اونٹ پر سفر 40 دن میں پورا ہوتا تھا۔ کمال تو اس ایمان کا ہے جس نے لمحہ توقف کیے بغیر سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے تصدیق کروائی اور وہ صدیق اکبر کہلائے۔
یہ مشاہدہ اللہ نے نبی اکرمﷺ کو اپنی قدرت کاملہ سے اس وقت کروایا جب آپﷺ کے چچا ابوطالب اور زوجہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات ہو چکی تھی اور اس سال کو عام الحزن یعنی غم کا سال قرار دیا گیا تھا۔
اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد آپﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔
واقعہ معراج حدیث نبویﷺ کے آئینے میں:
آئیے اب ہم معراج کا واقعہ مخبر صادق سیدنا محمدﷺ کی زبانی مطالعہ کرتے ہیں:
”میں مکہ مکرمہ میں اپنے گھر میں سویا ہوا تھا۔ گھر کی چھت کو کھولا گیا۔ جناب جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور مجھے خانہ کعبہ کے پاس حطیم میں لے آئے۔
یہاں میں نے کچھ دیر آرام کیا۔ مجھ پر اونگھ طاری تھی نہ میں مکمل طور پر سویا ہوا تھا اور نہ ہی مکمل بیدار۔ اسی حالت میں مجھے اٹھا کر زم زم کی جانب لے جایا گیا۔ وہاں سونے کا ایک طشت لایا گیا جو ایمان و حکمت سے بھرا ہوا تھا پھر میرا سینہ ناف تک چیرا گیا اور میرا دل نکال کر اسے زم زم کے پانی کے ساتھ دھویا گیا اور پھر اسے ایمان و حکمت سے بھر کر اس کی اصل جگہ پر لوٹا دیا گیا۔
اس کے بعد میرا سینہ بند کر دیا گیا۔ پھر میرے پاس ایک انتہائی سفید رنگ کا جانور لایا گیا جسے براق کہا جاتا ہے۔ یہ گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا تھا۔ اس کا ایک قدم اس کی حد نگاہ تک جاتا تھا۔ براق اس حالت میں لایا گیا کہ اسے نکیل ڈالی گئی تھی اور اس پر زین کسی ہوئی تھی۔ اس نے کچھ شوخی دکھائی تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: کیا تم محمدﷺ کو شوخی دکھاتے ہو حالانکہ ان سے زیادہ معزز سوار اللہ کے نزدیک تمہارے لیے کوئی نہیں۔
یہ سنتے ہی براق کے پسینے چھوٹ گئے اور وہ موٴدب کھڑا ہو گیا۔ ارشاد نبویﷺ ہے: ”پھر میں براق پر سوار ہوا، یہاں تک کہ بیت المقدس پہنچ گیا۔ میں نیچے اترا اور اپنی سواری کو اس جگہ باندھا جہاں دیگر انبیاء باندھا کرتے تھے۔ پھر میں مسجد کے اندر چلا گیا اور میں نے انبیاء علیہ السلام اور رُسل کی نماز کی امامت کی“۔
ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہ السلام کا ارواح و اجسام کے ساتھ موجود ہونا بھی اللہ کی نشانیوں میں سے ایک عظیم نشانی ہے۔
آپﷺ کا انبیاء علیہ السلام کی امامت کرانا اس بات کی دلیل ہے کہ آپﷺ کی امامت کی ابدیت ہے یعنی یہ ہمیشہ کے لیے ہے۔ آپﷺ کی دعوت کا پیغام عمومیت اور آفاقیت پر مبنی ہے جو ہر طبقہ انسانی کے لیے ہے۔ یہ عظیم نوعیت کی ایک انوکھی نماز ہے۔ اس سے پہلے نہ ایسی کوئی نماز ادا کی گئی نہ اس کے بعد ایسی کوئی نماز ادا کی جائے گی۔ پھر یہاں سے آسمانی سفر کا آغاز ہوا۔

سورہ النجم میں مشاہدات معراج کا ذکر:
”جو کچھ انہوں نے اپنی نگاہوں سے دیکھا اور اس کو ان کے دل نے جھٹلایا نہیں۔ لوگو! کیا تم ان چیزوں کے بارے میں ان سے جھگڑتے ہو جو وہ دیکھتے ہیں اور بلاشبہ ان کا یہ مشاہدہ (پہلی بار نہیں ہوا) ایک مرتبہ پہلے بھی ہو چکا ہے۔ سدرة المنتہیٰ کے پاس۔ اسی (سدرة المنتہیٰ ) کے پاس جنت الماویٰ ہے جبکہ اس بیری کے کے درخت کو ڈھانپے ہوئے تھا جو ڈھانپے ہوئے تھا۔
نگاہ کج نہیں ہوئی اور نہ ہی اس نے حد سے تجاوز کیا۔ بے شک انہوں نے اپنے رب کی عظیم ترین نشانیوں کا مشاہدہ کیا“۔
”سدرہ“ عربی زبان میں بیری کے درخت کو کہتے ہیں۔ لفظ ”منتہیٰ“ انتہا سے بنا ہے جس کا مفہوم وہ جگہ اور مقام ہے جہاں جا کر کوئی چیز ختم ہو جائے یہ اس اعتبار سے ”منتہیٰ“ ہے کہ یہاں سے آگے مخلوق کا گزر نہیں ہے۔
یہ انتہا ہے۔ یہاں سے حضرت جبرائیل علیہ السلام بھی نہیں جا سکتے۔ اللہ کی وحی بھی یہاں نازل ہوتی ہے اور یہاں سے فرشتے لے لیتے ہیں۔ گویا جو چیز بھی اللہ کے عرش سے اترتی ہے، بلاواسطہ اوّلاً یہیں نازل ہوتی ہے۔ اس سے آگے وہ حریم کبریا ہے جس میں مخلوق کا داخلہ ممکن نہیں ہے۔ عالم خلق کی کوئی شے جو کبھی اوپر آ سکتی ہے، وہ زیادہ سے زیادہ یہیں تک آ سکتی ہے، اس سے آگے نہیں جا سکتی۔

سورہ النجم میں آگے فرمایا: ”جبکہ اس بیری کے درخت کو ڈھانپے ہوئے تھا جو ڈھانپے ہوئے تھا“۔
یعنی اس کو زبان ادا کر سکتی ہے، نہ انسان زبان میں وہ حروف و الفاظ ہیں جو اس کیفیت کو بیان کر سکیں یا اس کی تعبیر کر سکیں، نہ اس کا کوئی تصور انسان کے لیے ممکن ہے۔ تجلیات ربانی کس نوعیت اور کس کیفیت کی حامل تھیں، اسے سمجھنا انسانی ذہن کے لیے ممکن نہیں۔
تجلیات کو جو براہ راست نزول ہو رہا تھا، اس کا نبی اکرمﷺ نے مشاہدہ فرمایا۔
آیت 17 میں فرمایا کہ نگاہ کج نہیں ہوئی، ٹیڑھی نہیں ہوئی۔ جوکچھ دیکھا ہے نگاہ کو جما کر دیکھا ہے۔ جو مشاہدہ کیا ہے، بھرپور کیا ہے، پورے ظرف کامل کے ساتھ کیا ہے، پورے تحمل کے ساتھ کیا ہے لیکن حد سے تجاوز نہیں کیا، بے ادبی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ آیت 18 میں بتایا گیا کہ انہوں نے اپنے رب کی عظیم ترین آیات کا مشاہدہ کیا۔
یہ آیات کبریٰ ہمارے تخیل و تصور سے بالا تر ہیں اور انسانی زبان کے الفاظ ان کے بیان کا تحمل بھی نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم میں بھی ان کا ذکر مجمل طور پر ہی کیا گیا ہے۔
سدرة المنتہیٰ:
زیر مطالعہ حدیث میں سدرة المنتہیٰ کی بات شروع ہوئی تھی۔ نبی اکرمﷺ سے حضرت مالک بن صعصعہ روایت کرتے ہیں: ”پھر مجھے اٹھایا گیا سدرة المنتہیٰ تک“۔
اب رسول اللہﷺ سدرة المنتہیٰ کی کچھ باتیں ہماری زبان میں سمجھا رہے ہیں کہ: ”اس بیری کے درخت کے بیر تو علاقہ ہجر کے مٹکوں کے حجم کے تھے اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں جتنے بڑے تھے۔ (حضرت جبرائیل علیہ السلام نے) کہا: یہ ہے سدرة المنتہیٰ۔ میں نے وہاں چار نہریں دیکھیں، دو نہریں خفیہ طور پر اور دو ظاہر طور پر بہہ رہی تھیں۔ میں نے وہاں چار نہریں دیکھیں، دو نہریں خفیہ طور پر اور دو ظاہر طور پر بہہ رہی تھیں۔
میں نے پوچھا: جبرائیل علیہ السلام! یہ کیا ہیں؟ کہا گیا: یہ جو ڈھکی ہوئی نہریں جاری ہیں یہ تو جنت کی نہریں ہیں ایک کوثر اور دوسری سلسبیل اور یہ جو ظاہر نہریں جا ری ہیں یہ نیل اور فرات ہیں۔ پھر بیت المعمور میرے قریب لایا گیا“۔ بیت المعمور درحقیقت ساتویں آسمان پر اللہ تعالیٰ کا وہ گھر ہے جس کا ظل اور سایہ اس دنیا میں خانہ کعبہ ہے۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اس کے بارے میں بتایا: ”اس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے نماز پڑھتے ہیں اور جب ایک بار اس سے نکلتے ہیں تو دوبارہ ان کے داخلے کی نوبت نہیں آتی“۔ اسی طریقے سے فرشتے بیت الحرام میں خانہ کعبہ کا بھی طواف کرتے ہیں۔

Your Thoughts and Comments