Jabir Ibn Hayyan Aakhri Qist - Article No. 3539

Jabir Ibn Hayyan Aakhri Qist

جابر ابن حیان آخری قسط - تحریر نمبر 3539

جابر نے جو قرع انبیق ایجاد کیا اس کے دو حصے تھے

منگل 13 اپریل 2021

محمد زکریا ورک
جابر نے جو قرع انبیق ایجاد کیا اس کے دو حصے تھے:
ایک حصے میں کیمیاوی مادوں کو پکایا جاتا تھا۔اس مرکب سے اٹھنے والے بخارات کو ایک نالی کے ذریعہ آلے کے دوسرے حصے میں لے جا کر ٹھنڈا کیا جاتا تھا یہاں تک کہ وہ ایک بار پھر مائع میں تبدیل ہو جاتے تھے۔یہ عمل کشید کہلاتا ہے اور آج کل بھی جو آلہ اس عمل کیلئے لیبارٹری میں استعمال ہوتا ہے وہ قرع انبیق کے مشابہ ہے۔
اس آلے کا نام ریٹارٹ Retart ہے۔جابر نے شورے کا تیزاب (نٹرک ایسڈ) اسی قرع انبیق کی مدد سے دریافت کیا تھا۔اس تیزاب کی تیاری کے بارے میں وہ لکھتا ہے:
میں نے قرع میں کچھ پھٹکری ہیراکسس اور قلمی شورہ ڈالا اور اس کے منہ کو انبیق سے بند کرکے اس کو کوئلوں پر رکھ دیا۔

تھوڑے عرصے کے بعد میں نے دیکھا کہ حرارت کے عمل سے انبیق کی نلی میں سے بھورے رنگ کے بخارات نکل رہے تھے۔

یہ بخارات بیرونی برتن میں جو تانبے کا تھا داخل ہو کر مائع کی حالت میں بدل جاتے ہیں لیکن یہ مائع اتنا تیز تھا کہ اس نے تانبے کے برتن میں سوراخ پیدا کر دیئے۔میں نے اس کو چاندی کی کٹوری میں جمع کرنے کی کوشش کی۔لیکن اس میں بھی اس مائع سے سوراخ پڑ گئے۔چمڑے کی تھیلی میں بھی اس مائع نے چھید ڈال دیئے۔خود قرع انبیق کو بھی اس سے نقصان پہنچا اور اس کا رنگ اتر گیا۔
میں نے اس مائع کو انگلی لگائی میری انگلی جل گئی اور مجھے کئی روز تکلیف رہی۔میں نے اس کا نام تیزاب رکھا اور اس کی تیزی میں قلمی شورے کی مقدار زیادہ ہے اس لئے اس کو قلمی شورے کا تیزاب کہنا مناسب ہو گا۔عام اشیاء میں سے ایک سونا اور دوسرا شیشہ یہی دو چیزیں مجھے ایسی مل سکیں جن پر اس تیزاب کا کچھ اثر نہ تھا“۔
زریں کارنامے:
رسالہ تہذیب الاخلاق ستمبر 2008ء،علی گڑھ یونیورسٹی،انڈیا،میں سراج الدین ندوی نے جابر کے درج ذیل کارنامے گنوائے ہیں:
جابر کے زمانے تک علم کیمیا کا مفہوم بہت محدود تھا۔
لوگ تانبہ،پارہ اور چاندی سے سونا بنانے کو کیمیا سمجھتے تھے اور اپنی زندگی اسی کوشش میں گزار دیتے تھے۔جابر ابن حیان نے کیمیا کے اس دائرے کو توڑا،اور علمی تجربات سے بہت سی مفید چیزیں بنائیں۔
اس نے مطالعہ،علم اور مشاہدہ کو کافی نہیں سمجھا،تجربات کو اہمیت دیتے ہوئے تجرباتی تحقیق کو اپنے کاموں کیلئے بنیادی اصول قرار دیا۔
اس کا ایک اہم کارنامہ تین معدنی تیزابوں کی دریافت ہے۔

اس نے لوہے کے زنگ سے ایک ایسی دوات بنائی جو شاہی فرمان اور قیمتی دستاویزات لکھنے کیلئے استعمال کی جاتی تھی۔اسی دوات سے لکھی گئی تحریریں اندھیرے میں آسانی سے پڑھی جا سکتی تھیں۔
جابر نے ایسا کاغذ ایجاد کیا جسے آگ بھی نہیں جلا سکتی تھی۔اس پر اہم خطوط اور شاہی فرمان ،اور حکم نامے لکھے جاتے تھے اور ایسی روشنائی ایجاد کی جو رات کو پڑھی جا سکتی تھی۔
یہ روشنائی اس نے اپنے استاد امام جعفر صادق رحمة اللہ علیہ کی خواہش پر ایجاد کی تھی۔
اس نے ایک ایسا وارنش ایجاد کیا جو کپڑے کو بھیگنے،لکڑی کو جلنے اور لوہے کو زنگ لگنے سے محفوظ رکھتا تھا۔
اس نے ایسا پتھر دریافت کیا جو زخموں اور فاسد عضلات کو داغنے کے کام آتا تھا۔یہ طریقہ زخموں کو خشک کرنے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔
جابر نے بالوں کو سیاہ کرنے کے لئے خضاب تیار کیا جو آج تک استعمال ہوتا ہے۔

اس نے دواؤں کو قلمانے کا طریقہ ایجاد کیا اور بہت سی دواؤں کو قلما کر نہایت مفید اور موٴثر بنایا۔
جابر نے سب سے پہلے یہ نظر یہ پیش کیا کہ حرارت سے گیسیں پیدا ہوتی ہیں اور جن چیزوں سے گیسیسں بنتیں ان کی اصلیت میں بنیادی سالماتی تغیر پیدا ہوتا ہے۔
دواؤں کا جوہر اڑانا جسے عمل تصعید کہا جاتا ہے سب سے پہلے جابر ہی نے دریافت کیا تھا۔
اس نے ایسا آلہ ایجاد کیا جو عرق کھینچنے،ست نکالنے اور تصعید کرنے کا کام دیتا ہے۔اس کا نام قرع انبیق تھا۔یہ آلہ اس نے چکنی مٹی سے بنایا تھا۔یہ دو برتنوں پر مشتمل تھا ایک کو قرع اور دوسرے کو انبیق کہا جاتا ہے۔قرع کی شکل صراحی کی طرح اور انبیق کی شکل بھبھکے جیسی ہوتی تھی جس میں ایک نلی لگی ہوتی تھی۔اب یہ آلہ مٹی کے بجائے ٹن Tin سے بنایا جاتا ہے۔

جابر نے متعدد اپلائیڈ کیمیکل پروسیس ایجاد کئے،یوں وہ اپلائیڈ کیمسٹری میں رہنمائے اول کی حیثیت اختیار کر گیا۔
جابر ابن حیان کی کتاب صندوق الحکمہ میں نٹرک ایسڈ بنانے کی ترکیب یوں دی گئی ہے:
جابر نے عناصر کو دھات اور غیر دھات میں تقسیم کرکے ان کی تین اقسام بتائیں:
مائع جو گرمی ملنے پر بخارات میں تبدیل ہو جاتے:جیسے آرسینک،کافور،مرکری،سلفر اور ایمونیم کلورائیڈ۔

دھاتیں جیسے سونا،چاندی،ٹین،لوہا،تانبا اور شیشہ۔
ایسی چیزیں جن کو سفوف میں تبدیل کیا جا سکتا جیسے کہ پتھر۔
جابر کا ایک تجربہ:
”میں نے پہلے قرع انبیق میں تھوڑی پھٹکری ،ہیراکسس،اور قلمی شورہ ڈالا(وزن کے ساتھ)اور اس کے منہ کو انبیق کے ساتھ بند کر دیا،پھر اسے کوئلوں کی آگ پر رکھا۔ذرا دیر بعد دیکھا تو حرارت کے عمل سے انبیق کی نلی سے بھورے رنگ کے بخارات نکل رہے ہیں۔
یہ بخارات اندر ہی اندر اس برتن میں سوراخ کر گئے جو تانبے کا تھا۔یہ بخارات وہاں ٹھنڈے ہو کر مائع(پانی)کی صورت میں آجاتے تھے۔یہ دیکھ کر میں نے اس مائع کو چاندی کی کٹوری میں جمع کرنے کی کوشش کی تو اس میں بھی سوراخ ہو گئے۔چمڑے کی تھیلی نما بوتل بنا کر جلدی سے اس میں جمع کرنا چاہا تو وہ بھی بیکار ہو گئے۔خود قرع انبیق کو بھی اس سے نقصان پہنچا۔
میں نے اس مائع کا نام تیزاب رکھا۔اس میں قلمی شورہ کا جز تھا۔اس لئے اس نئی چیز کا نام قلمی شورے کا تیزاب رکھا،یہ تیزاب اتنا تیز تھا کہ کوئی برتن نہ بچ سکا۔صرف دو ایسی چیزیں تھیں،جن پر اس تیزاب نے کچھ اثر نہ دکھایا۔ایک تھا سونے کا برتن اور دوسرا شیشے کا“۔
کیا جابر یورپین عالم تھا؟
یورپ کے کیمیادان برتھے لاٹ Berthelot نے انیسویں صدی میں یہ شوشہ چھوڑا کہ لاطینی میں جابر Geber کے نام سے کتابیں کوئی یورپین کیمیا دان لکھتا رہا تھا۔
برتھے لاٹ فرانس کا کیمیا کی تاریخ کا مشہور زمانہ مورخ تھا جس کی شہرت اور اتھارٹی کو ہر کوئی تسلیم کرتا تھا۔جونہی اس کا مفروضہ چھپ کر لوگوں میں پھیل گیا تو یورپ کے تمام مورخین نے بغیر کسی جرح کے اس کو بقول کر لیا ماسوا جرمنی کے پروفیسر ہولم یارڈ Holmyard کے۔انہوں نے سائنس کے سائنس کے رسالہ پروگریس کے جنوری 1925ء کے شمارے میں جابر کے حالات اور تصنیفات پر مفصل اور پرمغز مضمون لکھا اور دلائل سے ثابت کیا کہ جابر وہی شخص تھا جس کو لاطینی میں سکالرز گیبر Geber کے نام سے پکارتے ہیں۔
یہ بھی لکھا کہ جتنی کتابیں گیبر کے نام سے منسوب ہیں وہ سب اسی نامور قابل فخر،یگانہ روزگار عراقی مصنف کی کتابوں کے تراجم ہیں۔اس کے بعد سکالرز اس جستجو میں لگ گئے کہ ایسی کتابیں یا مسودات تلاش کریں جس سے یہ مفروضہ ثابت ہو سکے۔برتھے لاٹ کے حق میں پورے سو سال تک لٹریچر شائع ہوتا رہا مگر پھر بھی اس کے بودے دعویٰ کو کوئی سچا ثابت نہ کر سکا۔
بات یہ ہے کہ جابر کی کیمیا میں تمام کتابوں کے تراجم یورپ میں دیر سے ہوئے تھے اس لئے وہ شہرت نہ حاصل کر سکا۔چنانچہ roger bacon scot beauvais albertus magnus جیسے عالموں نے جابر کے حوالے اپنی کتابوں میں نہیں دیئے تھے۔تیرھویں صدی میں جابر کو یورپ میں کوئی نہیں جانتا تھا کیونکہ یورپ میں علم کیمیا تیرھویں صدی تک نامعلوم مضمون تھا۔اس لئے یہ ناممکن ہے کہ کوئی یورپین عالم اتنی عمدہ تکنیکی کتابیں لکھنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

تصانیف:
جابر محض کیمیا دان ہی نہیں بلکہ مختلف علوم و فنون پر اس کو قدرت حاصل تھی۔اس کی شخصیت کا ہر پہلو اس کی عظمت و شہرت میں چار چاند لگاتا تھا۔کیمیا کے علاوہ جابر فلسفہ،ریاضیات،طب و حکمت،معقولات،فلکیات و نجوم ،طبیعات،ہیئت،سحر و فسوں گری کے میدان کا شہسوار نظر آتا تھا۔زکریا الرازی نے جابر کی کئی کتابوں کو نظم کیا تھا۔
جس طرح قدیم کیمیا گر اپنے فن کی اساس مسیحی ادریت(باطنی علم)پر رکھتے تھے،اسی طرح جابر نے اپنے نظام علوم کی بنیاد مسلمانوں کے عرفان(باطنی علم)پر رکھی تھی۔اس کے علم کا بنیادی اصول (میزان)تھا۔اپنے عمل اور تجرباتی و مشاہداتی کاموں کے علاوہ جابر نے کئی مایہ ناز تصانیف قلم بند کیں۔اسرار الکیمیا،کتاب السبعین،کتاب الزہرہ،کتاب الاسطقس،کتاب الکحال،کتاب الروح،کتاب الشمس کبیر، کتاب الشمس الصغیر۔
کتاب الخمس مأة،کتاب الماء الاثنا عشر،کتاب الملک۔
جابر علم کیمیا کا محقق اور بے شمار کیمیائی مرکبات کا موجد تھا۔اس نے علم کیمیا پر 100 کے قریب شاہکار کتابیں اور پراز معلومات رسالے سپرد قلم کئے۔جن کی فہرست ابن الندیم نے اپنی شہرہ آفاق کتاب فہرست میں دی ہے۔اس کی ترجمہ شدہ کتابوں میں کتاب الملک (Book of kingdom)اور کتاب الریاض (Book of balance) اور Book Of Eastern Mercury انگلش میں دستیاب ہیں۔
ان تین کتابوں کا مترجم یورپین سکالر M.Berthelot تھا۔بقول پروفیسر ہتی کے جابر ابن حیان کی کتب نے یورپ اور ایشیا کے علم کیمیا پر گہرا اثر چھوڑا تھا۔اس کی کتاب الکیمیا کا لاطینی ترجمہ رابرٹ آف چیسٹر (Chester) نے 1144میں کیا۔جبکہ کتاب السبعین کا ترجمہ جیرارڈ آف کریمونا نے 1187ء میں کیا تھا۔اس کتاب میں 70 کیمیاوی تراکیب کا ذکر ہے۔جابر خلیفہ ہارون الرشید کا سائنسی مشیر تھا جس کیلئے اس نے کتاب الزہرہ لکھی تھی۔
اس نے کتاب الاحجار میں ایسی خفیہ زبان steganography استعمال کی تھی کہ اس میں دی گئی باتوں کو وہی شخص سمجھ سکتا جس کو کیمیا میں شدھ بدھ ہو۔اس نے کتاب میں علامات استعمال کیں جن کے لفظی اور لغوی معنی جاننا قدرے مشکل ہے۔کتاب الاربعین میں فلسفیانہ اساس کی روشنی میں جملہ علوم نظری و باطنی کا احاطہ کیا گیا تھا۔رسائل جابر بن حیان،ایک ہزار صفحات پر مشتمل متعدد رسائل 1530 ء اور 1925ء کے درمیان سٹراس بورگ سے شائع ہوئے تھے۔

جابر کی اسرار الکیمیا کا لاطینی ترجمہ تیرھویں صدی میں کیا گیا تھا یعنی Summa perfectionis magisterii۔جارج سارٹن کے بقول یہ کتاب عہد وسطیٰ کے یورپ میں اس قدر مقبول ہوئی کہ جلد ہی علم کیمیا کی نصابی کتاب بن گئی۔کتاب اس قدر آسان الفاظ میں لکھی گئی تھی کہ اس جیسی کتاب کئی صدیوں تک نہ لکھی جا سکی۔یہ کتاب اسی معیار کی تھی جیسی الرازی کی کتابیں علم کیمیا پر تھیں۔
روم سے پہلی بار 1481ء میں جدید پریس پر طبع ہوئی تھی۔ویٹکن(اٹلی)میں اس کتاب کا جو مسودہ تھا اس کو سامنے رکھ کر پہلا اطالوی ترجمہ 1510ء میں ہوا تھا۔اس کے بعد وینس،نیورمبرگ،برن،لیڈن سے اس کتاب کے کئی ایڈیشن طبع ہوئے تھے۔یہ کتاب 1685ء میں لیڈن (ہالینڈ) سے شائع ہوئی اور ڈینزگ سے 1682ء میں۔جابر کی چار اور کتابوں کے لاطینی تراجم بھی ایک جلد میں شائع کئے جاتے تھے۔
یعنی:
جابر نے بہت ساری کیمیائی اصطلاحات ایجاد کی تھیں جو بعد میں متعدد یورپین زبانوں میں سائنسی اصطلاحات کا حصہ بن گئیں۔جابر پہلا کیمیا دان تھا جس نے کہا کہ دھاتیں ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں کیونکہ ان میں سلفر اور مرکری کا تناسب مختلف ہوتا ہے۔کیمیا میں بہت ساری فنی اصطلاحات فارسی ناموں کی ہیں جیسے زیبق (مرکری) اور نوشادر (سال امونیک۔
اس سے پتہ چلتا ہے کہ عہد وسطیٰ کے علم کیمیا کے فروغ میں ایرانی کیمیا دانوں کا بھی ہاتھ تھا۔جرمن سکالر رسکا Ruska کا کہنا ہے کہ جس شخص نے سب سے پہلے الاکسیر تلاش کرنے کیلئے تجربہ کیا وہ ایران کا باشندہ ایریس Arius تھا۔ایریس کا کہنا تھا کہ انسان میں اتنی استطاعت ہے کہ وہ فطرت کے کاموں کی نقالی کر سکے۔
مغربی مصنف ہوم یارڈ Holmyard کا کہنا ہے کہ کیمیا کی تاریخ میں جابر کو وہی اہمیت اور مقام حاصل ہے جو برطانوی کیمیا دان رابرٹ بوئیل اور فرنچ سائنسدان انٹوئین لیوائزیر Lavoisier کو حاصل ہے۔
میکس مائرہاف Max Meyerhof کا کہنا ہے:
فرانس کے محقق و مصنف برتھے لاٹ Berthelot نے اعتراض کیا تھا کہ جابر کی کتابوں میں مادی اشیاء تیار کرنے کے نسخے نہیں پائے جاتے ہیں۔ پروفیسر احمد حسن نے جابر کی کتابوں کے 59 مخطوطوں کے دقیق مطالعہ کے بعد کہا کہ یہ بالکل غلط بیانی ہے۔جابر کی کتابوں میں متعدد نسخے پائے جاتے ہیں مثلاً اس نے کتاب الدرة المکنونة میں نسخوں پر ایک پورا باب لکھا۔
اس میں گلاس کو رنگین کرنے کا نسخہ،مصنوعی موتی بنانے کا اور ان کا رنگ بہتر کرنے کا نسخہ نیز کئی ایک انڈسٹریل مصنوعات کے نسخے دیئے تھے۔کتاب الخواص الکبیر میں متعدد کیمیائی اور مصنوعات بنانے کے نسخے دیئے گئے تھے جیسے سمندر کے پانی سے نمک نکالنا،فولاد کی تپائی کے عمل سے ڈھلائی کرنا،زنجفر cinnabar کا بنانا،کاسمیٹک کے نسخے جیسے جسم سے بال دور کرنا،سر کے بالوں کا رنگ سنہری کرنا،دلہن کے ہاتھ مختلف رنگوں سے رنگین کرنا،وارنش اور پینٹ بنانا اور واٹر پروفنگ،مختلف رنگ کی روشنائی بنانا۔

جابر کی درج ذیل کتابیں امریکہ کی نیشنل لائبریری آف میڈیسن،میری لینڈ میں موجود ہیں:کتاب الملاغم الاول،الثانی ،الثالث،تفسیر کتاب الملاغم،کتاب التدابیر،کتاب الموازن،کتاب الاصول،کتاب سر السارو سرالا سرار،منتخب من کتاب الاتحاد،کتاب سر المکنون،کتاب الواحد،کتاب تفسیر الخمائیر،کتاب الباھر،کتاب الشعر،کتاب الخمائیر الثالت ،کتاب الخالص المبارک NLM,NIH<GOV/hmd/ arabic
کیمیا کے موضوع پر مسلمان عالموں نے جو کتابیں قلم بند کیں ان کی قدری تفصیل پروفیسر نصر نے اپنی کتاب اسلامک سائنس میں دی ہے۔
ابن وحشیہ کتاب اصول الکبیر،ابن مسکاوے کی کتابیں،ابو مسلمہ مجریطی رتبات الحکیم وغایت الحکیم(یہ ابو القاسم مجریطی سے مختلف سائنسدان ہے)،ابو القاسم کوشیری،ابو الحسن جیانی شذور الذھب،شمس الدین برنی شمس المعارف ،ابن الحجاج طلمیسانی شموس الانوار،ابو القاسم عراقی کتاب العلم المکتسب فی زیادة الذھب،عزالدین ایدا مور جلد کی نہایة الطلب شرح علم المکتسب ،علی بیک ازنیکی پندرھویں صدی کتاب الاسرار فی حتک الاستار،عبدالکریم مراکشی رسالہ روحادیت،شہریار بہمن یار پارسی تجارب شہریاری۔

Your Thoughts and Comments