Jabir Ibn Hayyan Qist 2 - Article No. 3538

Jabir ibn Hayyan Qist 2

جابر ابن حیان قسط 2 - تحریر نمبر 3538

جابر ابن حیان جو اپنے وقت کے عہد ساز کیمیا دان تھے وہ ہر کسی کو کیمسٹری نہیں پڑھاتے تھے

ہفتہ 10 اپریل 2021

محمد زکریا ورک
بہ حیثیت استاد:
نوائے وقت 8 اکتوبر 2008ء صفحہ 3 پر پروفیسر اسرار بخاری رقم طراز ہیں:
”جابر ابن حیان جو اپنے وقت کے عہد ساز کیمیا دان تھے وہ ہر کسی کو کیمسٹری نہیں پڑھاتے تھے۔اس کیلئے وہ سخت امتحان لیتے تھے۔ایک طالب علم صدر الدین بہت دور سے پیدل سفر کرتے ہوئے ان سے کیمسٹری کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے حاضر ہوا۔
جابر نے اس کو بغور دیکھا پھر اپنی لیبارٹری میں سے بوتل نکال لائے۔صدر الدین سے کہا میں تم کو اس شرط پر کیمسٹری پڑھاؤں گا کہ یہاں سے دور مقام پر میرے دوست کا قبیلہ رہتا ہے،ان کی کسی اور قبیلے سے عداوت ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ میں ان کے دشمن کیلئے کوئی زہر تیار کروں کہ جس کے ایک قطرے سے تمام افراد لقمہ اجل بن جائیں۔

صدر الدین نے جواب دیا بلاشبہ میں کیمسٹری پڑھنا چاہتا ہوں مگر ایسا کام ہر گز نہیں کروں گا۔

جابر نے اس کو گلے لگا لیا اور کہا میں تو یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم سائنس انسانیت کی بہتری کیلئے پڑھنا چاہتے ہو یا اس کو اذیت دینے کیلئے؟ جابر نے اس کو تعلیم دینا شروع کر دی اور اپنا سارا علم صدر الدین کے سینے میں منتقل کر دیا۔جب جابر کا آخری وقت آن پہنچا،تو خلیفہ مامون الرشید نے اس کے سرہانے کھڑے ہو کر کہا جابر تم تو اپنا علم اپنے ساتھ لیکر جا رہے ہو،ہمارے لئے کس کو چھوڑے جا رہے ہو؟جابر نے صدر الدین کا ہاتھ مامون کے ہاتھ میں دے کر زندگی سے ہاتھ چھڑا لیا۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے سائنسدان انسان دوست تھے،انسانیت کی بھلائی کیلئے کام کرتے تھے۔پھر یہ سنہری زنجیر ٹوٹ گئی،بغداد لٹ گیا،بیت الحکمتہ کی لائبریری دریائے دجلہ کی نذر ہو گئی اور ہم نے حکمرانی کو تعیش کا ذریعہ بنا لیا“۔
علم کیمیا میں ایجادات:
مسلمانوں سے پہلے علم کیمیا کو شعبدہ بازی سے زیادہ حیثیت حاصل نہیں تھی۔
لیکن انہوں نے کیمسٹری کو ایک کارآمد فن بنا دیا،اس علم میں تجربات کرکے دنیا کو حیران کر دیا۔اس فن میں خالد بن یزید،جابر بن حیان،رازی،ذوالنون مصری اور ابن وحشیہ ممتاز کیمیا دان تھے۔تاہم جابر نے اپنے استاد امام جعفر صادق رحمة اللہ علیہ کی رہنمائی میں اس فن کو زندہ جاوید بنا دیا۔تذکرہ نگاروں نے لکھا ہے کہ جابر ابن حیان کی کیمیائی لیبارٹری کوفہ شہر میں دریائے دجلہ کے کنارے پر واقع تھی جس کے آثار قدیمہ اس کی وفات کے 200 سال بعد کوفہ کے باب د مشق کے پاس مکانوں کو منہدم کرتے ہوئے دریافت ہوئے تھے۔
جابر نے درج ذیل کیمیاوی عملیات (پروسیس) سے طب یونانی کو نئی سمت عطا کی جس کی وجہ سے فن دوا سازی نے ترقی کے منازل طے کئے تھے۔
تحلیل(issolution):کسی منجمد مادہ کو جس میں حل ہونے کی صلاحیت موجود ہو اس کو کسی دوسری چیز سے ملا دینا تحلیل کہلاتا ہے۔جو منجمد چیز سیال صورت اختیار کر لیتی ہے اس کو محلول کہتے ہیں۔تبخیر (evaporation) ادویہ کو بخارات بنا کر اڑانا جیسے بھاپ بنانا مختلف مقاصد کیلئے کیا جاتا رہا ہے۔
اگر کسی دوا میں رقت زیادہ ہو اور اسے غلیظ بنانا ہو تو حرارت پہنچا کر اس کے رقیق اور مائی اجزاء کو اڑا دیا جاتا ہے۔اکثر ربوب اسی ترکیب سے بنائے جاتے ہیں۔تقلیم (crystallisation) اس کے معنی قلمیں تیار کرنا ہے۔خالص شورہ کو پانی میں حل کرکے اس کو سکھایا جائے تو یہ قلمی شکل میں تبدیل ہو جاتا ہے۔اسی طرح گندھک کو اگر پگھلا کر چھوڑ دیا جائے تو یہ قلم دار ہو جاتی ہے۔
اس طرح بعض چیزیں تصعید سے اور بعض ترسیب سے قلمی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔تکلیس (calcination) ادویہ کو جلا کر چونا جیسا بنا دینا تکلیس کہلاتا ہے۔اس میں احراق کی اصطلاح بہت عام ہے۔اگر دوا جل کر راکھ ہو جائے یا کوئلہ بن جائے تو اس کو عمل احراق (incineration) کہا جاتا ہے۔تکلیس میں گائے کے اوپلے اور بھٹیاں استعمال کی جاتی ہیں۔جو چیز تکلیس کے بعد چونا کی شکل میں حاصل ہوتی ہے اس کو مکلس (کشتہ) کہا جاتا ہے۔
جابر کا کہنا تھا کہ دھات کے کشتہ بنانے کے عمل میں اس کا وزن بڑھ جاتا ہے۔تصعے (Sublimation) کے معنی ہیں جوہر اڑانا۔اس پروسیس میں کسی جامد دوا کو پہلے حرارت پہنچا کر بخارات کی شکل میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔اس کے بعد ان بخارات کو برودت پہنچا کر دوسرے ظرف میں منجمد کر دیا جاتا ہے۔
جابر نے کیمیائی تجربات میں کمال پیدا کرکے اس کے اصول اور قواعد مرتب کئے جو ہزار سال گزرنے کے باوجود آج تک مستعمل ہیں:
(1) عمل تصعید سے دواؤں کا جوہر اڑانا(sublimation) اس طریقہ کو جابر نے سب سے پہلے اختیار کیا۔
(2) اس نے قلماؤ (crystallisation) کا طریقہ دریافت کیا۔( 3) فلٹر کرنے کا طریقہ اس نے ایجاد کیا۔(4) اس نے تین قسم کے نمکیات معلوم کئے۔(5) اس نے دھات کو بھسم کرکے کشتہ بنانے (oxidation) کا طریقہ دریافت کیا۔(6)اس نے کئی قسم کے تیزاب بنائے جیسے نیٹرک ایسڈ،ہائیڈروکلورک ایسڈ(نمک سے)،سلورنائیٹریٹ،امونیم کلورائیڈ،سلفیورک ایسڈ،ان کے بنانے کے طریقے اس کی کتاب صندوق الحکمة میں دیئے گئے ہیں۔
(7)چمڑے اور کپڑے کو رنگنے کا طریقہ دریافت کیا۔(8) محقق جابر نے بالوں کو سیاہ کرنے کیلئے خضاب تیار کیا۔(9)جابر کی سب سے اہم ایجاد قرع انبیق ہے جو عرق کھینچنے کا آلہ ہے اس کے ذریعہ عرق کشید کرنے سے جڑی بوٹیوں کے لطیف اجزاء حاصل ہو جاتے اور ان کے برے اثرات سے محفوظ رہتے ہیں۔(10)اس نے کپڑے اور لکڑی کو واٹر پروف کرنے کیلئے وارنش ایجاد کیا۔
(11) اس نے گلاس بنانے میں مینگانیز ڈائی آکسائیڈ تجویز کیا۔(12)اس نے بتایا کہ لوہے کو صاف کرکے فولاد بنایا جا سکتا ہے یعنی وہ میٹالرجی سے بھی واقف تھا۔اس نے لوہے کو زنگ سے بچانے کا طریقہ نکالا۔(13)دھاتوں کے بارے میں بتایا کہ سب دھاتیں گندھک اور پارے سے بنتی ہیں،دھات کا کشتہ بنانے پر اس کا وزن قدرے بڑھ جاتا ہے۔اس کا کہنا تھا کہ اگر کسی دھات میں سلفر،مرکری کے اجزاء کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر اس کے خواص کو دوبارہ ترتیب دے دیا جائے تو نئی دھات بن جائے گی۔

(14)اس نے موم جامہ بنایا تاکہ اشیاء کو رطوبت سے خراب ہونے سے بچایا جا سکے۔(15)اس نے گریس(Grease) بنانے کا فارمولا ایجاد کیا۔(16)اس نے بہت سارے پریکٹیکل کیمیائی ترکیبیں (chemical process) دریافت کئے،یوں اس نے اطلاقی سائنس کی بنیاد رکھی۔(17)اس نے ماء الملوک Aqua regiaنام کا تیزاب تیار کیا جس میں سونا تحلیل ہو جاتا تھا۔ماء الملوک اس نے پھٹکری alum،ہیرا کسیس ferrous sulphate،شورہ قلمی potassium nitrate،نوشادر ammonium chloride سے بنایا تھا۔
(18)زریں حروف میں کتابت کا طریقہ بھی اسی نے شروع کیا۔اس نے قیمتی دستاویزوں کیلئے روشنائی ایجاد کی۔(19)اس نے سلفیورک ایسڈ بنایا،نائیٹرو ہائیڈروکلورک ایسڈ بنایا،کاسٹک سوڈا بنایا،اس نے CH3COOH بنایا جس کو اس نے سرکے کا تیزاب acetic acid کا نام دیا تھا۔اس نے سڑک ایسڈ(لیموں میں پایا جاتا)اور ٹارٹیڑک ایسڈ دریافت کیا جو وائن بنانے کے دوران حاصل ہوتا ہے۔
(20)اس نے کہا کہ وائن کو ابالنے سے بخارات پیدا ہوتے جس کی وجہ سے ایتھانال (الکحل)الکندی اور الرازی نے دریافت کی تھی۔(21)جابر نے سلفائیڈ سے سفیدہ یعنی lead carbonate،اور سنکھیا اور کحل antimony بنانے کے طریقے ایجاد کئے۔(22)جابر نے خالص توتیا Copper sulphate،پھٹکری alum،شورہ قلمی ammonia salt بنانے کے طریقے بیان کئے۔(23)جابر نے مرکری آکسائیڈ اور دیگر دھاتوں کے acetate تیار کئے جو بعض اوقات قلموں کی شکل میں ہوتے ہیں۔
(24)جابر نے تمام دھاتوں کو کیفیت کے اعتبار سے تقسیم کیا اور بتایا کہ پارہ اور گندھک تمام دھاتوں میں نمایاں ہوتے ہیں۔(25)جابر نے بتایا کہ مقدار مادہ اور کیمیاوی عمل کی رفتار کے مابین خاص تعلق ہوتا ہے اسی بناء پر اس نے میزان (balance) ایجاد کی۔(26)اس نے پینٹ بنائے جن کو کپڑوں اور کھالوں پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

Your Thoughts and Comments