Al Raheeq Almakhtoom .... Qabael Aor Afrad Ko Islam Ki Dawat

الرحیق المختوم ۔۔۔۔۔ قبائل اور افراد کو اسلام کی دعوت

ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں قبیلہ غفار کا ایک آدمی تھا، مجھے معلوم ہوا مکے میں ایک آدمی اپنے آپ کو نبی کہتا ہے، میں نے اپنے بھائی سے کہا تم اس کے پاس جاؤ، اس سے بات کرو اور میرے پاس اس کی خبر لاﺅ

Al raheeq almakhtoom .... Qabael aor afrad ko Islam ki dawat

ذی قعدہ 10 نبوت (اواخر جون یا اوائل جولائی 619ء) میں رسول اللہﷺ طائف سے مکہ تشریف لائے اور یہاں افراد اور قبائل کو پھر سے اسلام کی دعوت دینی شروع کی۔ چونکہ موسم حج قریب تھا اس لیے فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے دور و نزدیک ہر جگہ سے پیدل اور سواروں کی آمد شروع ہو چکی تھی۔ رسول اللہﷺ نے اس موقعے کو غنیمت سمجھا اور ایک ایک قبیلے کے پاس جا کر اسے اسلام کی دعوت دی جیسا کہ نبوت کے چوتھے سال سے آپﷺ کا معمول تھا۔


وہ قبائل جنہیں اسلام کی دعوت دی گئی:
امام زہری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جن قبائل کے پاس رسول اللہﷺ تشریف لے گئے اور انہیں اسلام کی دعوت دیتے ہوئے اپنے آپ کو ان پر پیش کیا ان میں سے حسب ذیل قبیلوں کے نام ہمیں بتائے گئے ہیں۔
بنو عامر صعصعہ، محارب بن خصفہ، فزارہ، غسان، مرہ، حنیفہ، سلیم، عبس، بنو نصر، بنو البکاء، کلب، حارث بن کعب، عذرہ، حضارمہ، لیکن ان میں سے کسی نے بھی اسلام قبول نہ کیا۔


واضح رہے کہ امام زہری کے ذکر کردہ سارے قبائل پر ایک ہی سال یا ایک ہی موسم حج میں اسلام پیش نہیں کیا گیا تھا بلکہ نبوت کے چوتھے سال سے ہجرت سے پہلے کے آخری موسم حج تک دس سالہ مدت کے دوران پیش کیا گیا تھا۔
ابن اسحاق نے بعض قبائل پر اسلام کی پیشی اور ان کے جواب کی کیفیت کا بھی ذکر کیا ہے۔ ذیل میں مختصراً ان کا بیان نقل کیا جارہا ہے:
بنو کلب:
نبیﷺ اس قبیلے کی ایک شاخ بنو عبداللہ کے پاس تشریف لے گئے۔ انہیں اللہ کی طرف بلایا اور اپنے آپ کو اس پر پیش کیا۔ باتوں میں یہ بھی فرمایا کہ اے بنو عبداللہ! اللہ نے تمہارے جد اعلیٰ کا نام بہت اچھا رکھا تھا، لیکن اس قبیلے نے آپ کی دعوت قبول نہ کی۔
2۔ بنو حنفیہ: آپﷺ ان کے ڈیرے پر تشریف لے گئے، انہیں اللہ کی طرف بلایا اور اپنے آپ کو ان پر پیش کیا، لیکن ان جیسا برا جواب اہل عرب میں سے کسی نے بھی نہ دیا۔

3۔ عامر بن صعصعہ: انہیں بھی آپﷺ نے اللہ کی طرف دعوت دی اور اپنے آپ کو ان پر پیش کیا، جواب میں ان کے ایک آدمی بحیرہ بن فراس نے کہا: خدا کی قسم اگر میں قریش کے اس جوان کو لے لوں تو اس کے ذریعے پورے عرب کو کھا جاﺅں گا۔ پھر اس نے دریافت کیا کہ اچھا یہ بتائیے: اگر ہم آپﷺ سے آپﷺ کے اس دین پر بیعت کرلیں پھر اللہ آپ کو مخالفین پر غلبہ عطا فرمائے تو کیا آپﷺ کے بعد زمام کار ہمارے ہاتھ میں ہوگی؟ آپﷺ نے فرمایا: زمام کار تو اللہ کے ہاتھ میں ہے‘ وہ جہاں چاہے گا رکھے گا۔
اس پر اس شخص نے کہا: خوب! آپﷺ کی حفاظت میں تو ہمارا سینہ اہل عرب کے نشانے پر رہے۔ لیکن جب اللہ آپﷺ کو غلبہ عطا فرمائے تو زمام کار کسی اور کے ہاتھ میں ہو؟ ہمیں آپﷺ کے دین کی ضرورت نہیں۔“ غرض انہوں نے انکار کردیا۔
اس کے بعد جب قبیلہ بنو عامر اپنے علاقے میں واپس گیا تو اپنے ایک بوڑھے آدمی کو، جو کبر سنی کے باعث حج میں شریک نہ ہوسکا تھا، سارا ماجرا سنایا اور بتایا کہ ہمارے پاس قبیلہ قریش کے خاندان بنو عبدالمطلب کا ایک جوان آیا تھا جس کا خیال تھا کہ وہ نبی ہے۔
اس نے ہمیں دعوت دی کہ ہم اس کی حفاظت کریں، اس کا ساتھ دیں، اور اپنے علاقے میں لے آئیں، یہ سن کر اس بڈھے نے دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا اور بولا اے بنو عامر کیا اب اس کی تلافی کی کوئی سبیل ہے؟ اور کیا اس ازدست رفتہ کو ڈھونڈا جاسکتا ہے؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں فلاں کی جان ہے، کسی اسماعیلی نے کبھی اس (نبوت) کا جھوٹا دعویٰ نہیں کیا، یقیناً حق ہے۔
آخر تمہاری عقل کہاں چلی گئی تھی؟
ایمان کی شعائیں مکے سے باہر:
جس طرح رسول اللہ ﷺ نے قبائل اور وفود پر اسلام پیش کیا اسی طرح افراد اور اشخاص کو بھی اسلام کی دعوت دی اور بعض نے اچھا جواب دیا، پھر اس موسم حج کے کچھ ہی عرصے بعد کئی افراد نے اسلام قبول کیا۔ ذیل میں ان کی ایک مختصر روداد پیش کی جا رہی ہے۔
سوید بن صامت:

یہ شاعر تھے، گہری سوجھ بوجھ کے حامل اور یثرب کے باشندے، ان کی پختگی، شعر گوئی اور شرف و نسب کی وجہ سے ان کی قوم نے انہیں کامل کا خطاب دے رکھا تھا۔ یہ حج یا عمرہ کے لیے مکہ تشریف لائے۔ رسول اللہﷺ نے انہیں اسلام کی دعوت دی، کہنے لگے غالباً آپﷺ کے پاس جو کچھ ہے وہ ویسا ہی ہے جیسا میرے پاس ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس کیا ہے؟ سوید نے کہا: حکمت لقمان۔
آپﷺ نے فرمایا: پیش کرو۔ انہوں نے پیش کیا۔ آپﷺ نے فرمایا: یہ کلام یقیناً اچھا ہے۔ لیکن میرے پاس جو کچھ ہے وہ اس سے بھی اچھا ہے، وہ قرآن ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر نازل کیا ہے۔ وہ ہدایت اور نور ہے۔ اس کے بعد رسول اللہﷺ نے انہیں قرآن پڑھ کر سنایا اور اسلام کی دعوت دی، انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور بولے: یہ تو بہت ہی اچھا کلام ہے۔“ اس کے بعد وہ مدینہ پلٹ کر آئے ہی تھے کہ جنگ بعاث چھڑگئی اور اسی میں قتل کر دیئے گئے۔
انہوں نے 11 نبوی کے آغاز میں اسلام قبول کیا تھا۔
2۔ ایاس بن معاذ:
یہ بھی یثرب کے باشندے تھے اور نوخیز جوان۔ 11 نبوت میں جنگ بعاث سے کچھ پہلے اوس کا ایک وفد خزرج کے خلاف قریش سے حلف و تعاون کی تلاش میں مکہ آیا تھا، آپ بھی اسی کے ہمراہ تشریف لائے تھے۔ اس وقت یثرب میں ان دونوں قبیلوں کے درمیان عداوت کی آگ بھڑک رہی تھی اور اوس کی تعداد خزرج سے کم تھی۔
رسول اللہﷺ کو وفد کی آمد کا علم ہوا تو آپﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے اور ان کے درمیان بیٹھ کر یوں خطاب فرمایا: آپ لوگ جس مقصد کے لیے تشریف لائے ہیں کیا اس سے بہتر چیز قبول کرسکتے ہیں؟ ان سب نے کہا وہ کیا چیز ہے؟ آپﷺنے فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں۔ اللہ نے مجھے اپنے بندوں کے پاس اس کی بات کی دعوت دینے کے لیے بھیجا ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔
اللہ نے مجھ پر کتاب بھی اتاری ہے۔“ پھر آپﷺ نے اسلام کا ذکر کیا اور قرآن کی تلاوت فرمائی۔
ایاس بن معاذ بولے: اے قوم یہ خدا کی قسم اس سے بہتر ہے جس کے لیے آپ لوگ یہاں تشریف لائے ہیں۔ لیکن وفد کے ایک رکن ابو الحیسرانس بن رافع نے ایک مٹھی مٹی اٹھا کر ایاس کے منہ پر دے ماری اور بولا: یہ بات چھوڑو! میری عمر کی قسم! یہاں ہم اس کے بجائے دوسرے ہی مقصد سے آئے ہیں۔
ایاس نے خاموشی اختیارکرلی اور رسول اللہﷺ بھی اٹھ گئے۔ وفد قریش کے ساتھ حلف و تعاون کا معاہدہ کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا اور یوں ہی ناکام مدینہ واپس ہوگیا۔
مدینہ پلٹنے کے تھوڑے ہی دن بعد ایاس انتقال کر گئے، وہ اپنی وفات کے وقت تہلیل و تکبیر اور حمد و تسبیح کررہے تھے، اس لیے لوگوں کو یقین ہے کہ ان کی وفات اسلام پر ہوئی۔
ابوذر غفاری:
یہ یثرب کے اطراف میں سکونت پذیر تھے، جب سوید بن صامت اور ایاس بن معاذ کے ذریعے یثرب میں رسول اللہﷺ کی بعثت کی خبر پہنچی تو یہ خبر ابوذر رضی اللہ عنہ کے کان سے بھی ٹکرائی اور یہی ان کے اسلام لانے کا سبب بنی۔
ان کے اسلام لانے کا واقعہ صحیح بخاری میں تفصیل سے مروی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں قبیلہ غفار کا ایک آدمی تھا، مجھے معلوم ہوا کہ مکے میں ایک آدمی نمودار ہوا ہے جو اپنے آپ کو نبی کہتا ہے، میں نے اپنے بھائی سے کہا تم اس آدمی کے پاس جاؤ، اس سے بات کرو اور میرے پاس اس کی خبر لاﺅ۔
وہ گیا، ملاقات کی اور واپس آیا۔ میں نے پوچھا کیا خبر لائے ہو؟ بولا: خدا کی قسم میں نے ایک ایسا آدمی دیکھا ہے جو بھلائی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے۔ میں نے کہا تم نے تشفی بخش خبر نہیں دی۔ آخر میں نے خود توشہ دان اور ڈنڈا اٹھایا اور مکہ کے لیے چل پڑا۔ (وہاں پہنچ تو گیا) لیکن آپﷺ کو ہیچانتا نہ تھا اور یہ بھی گوارا نہ تھا کہ آپﷺ کے متعلق کسی سے پوچھوں۔
چنانچہ میں زمزم کا پانی پیتا اور مسجد حرام میں پڑا رہتا۔ آخر میرے پاس علی رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا، کہنے لگے: آدمی اجنبی معلوم ہوتے ہو۔ میں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے کیا: اچھا تو گھر چلو۔ میں ان کے ساتھ چل پڑا۔ نہ وہ مجھ سے کچھ پوچھ رہے تھے نہ میں ان سے کچھ پوچھ رہا تھا اور نہ انہیں کچھ بتا ہی رہا تھا۔
صبح ہوئی تو میں اس ارادے سے پھر مسجد حرام گیا کہ آپﷺ کے متعلق دریافت کروں۔
لیکن کوئی نہ تھا جو مجھے آپﷺ کے متعلق کچھ بتاتا، آخر میرے پاس پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ گزرے (دیکھ کر) بولے:اس آدمی کو ابھی اپنا ٹھکانہ معلوم نہ ہوسکا۔ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا اچھا تو میرے ساتھ چلو۔ اس کے بعد انہوں نے کہا: اچھا تمہارا معاملہ کیا ہے؟ اور تم کیوں اس شہر میں آئے ہو؟ میں نے کہا آپ رازداری سے کام لیں تو بتاﺅں۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے میں ایسا ہی کروں گا۔
میں نے کہا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہاں ایک آدمی نمودار ہوا ہے جو اپنے آپ کو اللہ کا نبی بتاتا ہے، میں نے اپنے بھائی کو بھیجا کہ وہ بات کرکے آئے۔ مگر اس نے پلٹ کر کوئی تشفی بخش بات نہ بتلائی اس لیے میں نے سوچا کہ خود ملاقات کر لوں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: بھئی تم صحیح جگہ پہنچے۔ دیکھو، میرا رخ انہیں کی طرف ہے، جہاں میں گھسوں وہاں تم بھی گھس جانا اور ہاں اگر میں کسی ایسے شخص کو دیکھو جس سے تمہارے لئے خطرہ ہے تو دیوار کی طرف اس طرح جا رہوں گا گویا اپنا جوتا ٹھیک کررہا ہوں لیکن تم راستہ چلتے رہنا۔
اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے اور میں بھی ساتھ ساتھ چل پڑا۔ یہاں تک کہ وہ اندر داخل ہوئے اور میں بھی ان کے ساتھ نبیﷺ کے پاس جا داخل ہوا اور عرض پرداز ہوا کہ آپﷺ مجھ پر اسلام پیش کریں۔ آپﷺ نے اسلام پیش فرمایا۔ اور میں وہیں مسلمان ہوگیا۔ اس کے بعد آپﷺ نے مجھ سے فرمایا: اے ابوذر رضی اللہ عنہ اس معاملے کو پس پردہ رکھو اور اپنے علاقے میں واپس جاﺅ۔
جب ہمارے ظہور کی خبر ملے تو آجانا۔ میں نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے میں تو ان کے درمیان ببانگ دل اس کا اعلان کروں گا۔ اس کے بعد میں مسجد حرام آیا۔ قریش موجود تھے۔ میں نے کہا: قریش کے لوگو!
”میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمدﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔

لوگوں نے کہا: اٹھو، اس بے دین کی خبر لو‘ لوگ اٹھ پڑے اور مجھے اس قدر مارا گیا کہ مرجاﺅں لیکن حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے آبچایا۔ انہوں نے مجھے جھک کر دیکھا، پھر قریش کی طرف پلٹ کر بولے: تمہاری بربادی ہو۔ تم لوگ غفار کے ایک آدمی کو مارے دے رہے ہو؟ حالانکہ تمہاری تجارت گاہ اور گزر گاہ غفار ہی سے ہوکر جاتی ہے۔ اس پر لوگ مجھے چھوڑ کر ہٹ گئے۔
دوسرے دن صبح ہوئی تو میں پھر وہیں گیا اور جھ کچھ کل کہا تھا آج پھر کہا اور لوگوں نے پھر کہا کہ اٹھو اس بے دین کی خبر لو۔ اس کے بعد پھر میرے ساتھ وہی ہوا جو کل ہوچکا تھا اور آج بھی حضرت عباس رضی اللہ عنہ ہی نے مجھے آبچایا۔ وہ مجھ پر جھکے پھر ویسی ہی بات کہی جیسی کل کہی تھی۔
4۔ طفیل بن عمرو دوسی: یہ شریف انسان شاعر، سوجھ بوجھ کے مالک اور قبیلہ دوس کے سردار تھے۔
ان کے قبیلے کو بعض نواحی یمن میں امارت یا تقریباً امارت حاصل تھی۔ وہ نبوت کے گیارہویں سال مکہ تشریف لائے تو وہاں پہنچنے سے پہلے ہی اہل مکہ نے ان کا استقبال کیا اور نہایت عزت و احترام سے پیش آئے۔ پھر ان سے عرض پرداز ہوئے کہ اے طفیل! آپ ہمارے شہر تشریف لائے ہیں اور یہ شخص جو ہمارے درمیان ہے اس نے ہمیں سخت پیچیدگی میں پھنسا رکھا ہے، ہماری جمعیت بکھیر دی ہے اور ہمارا شیرازہ منتشر کردیا ہے، اس کی بات جادو کا سا اثر رکھتی ہے کہ آدمی اور اس کے باپ کے درمیان، آدمی اور اس کے بھائی کے درمیان اور آدمی اور اس کی بیوی کے درمیان تفرقہ ڈال دیتی ہے، ہمیں ڈر لگتا ہے کہ جس افتاد سے ہم دوچار ہیں کہیں وہ آپ پر اور آپ کی قوم پر بھی نہ آن پڑے لہٰذا آپ اس سے ہرگز گفتگو نہ کریں اور اس کی کوئی چیز نہ سنیں۔

حضرت طفیل رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ یہ لوگ مجھے برابر اسی طرح کی باتیں سمجھاتے رہے یہاں تک کہ میں نے تہیہ کر لیا کہ نہ آپﷺ کی کوئی چیز سنوں گا نہ آپﷺ سے بات چیت کروں گا حتیٰ کہ جب میں صبح کو مسجد حرام گیا تو کان میں روئی ٹھونس رکھی تھی کہ مبادا آپﷺ کی کوئی بات میرے کان میں پڑ جائے لیکن اللہ کو منظور تھا کہ آپﷺ کی بعض باتیں مجھے سنا ہی دے۔
چنانچہ میں نے بڑا عمدہ کلام سنا۔ پھر میں نے اپنے جی میں کہا: ہائے مجھ پر میری ماں کی آہ و فغاں! میں تو بخدا ایک سوجھ بوجھ رکھنے والا شاعر ہوں، مجھ پر بھلا برا چھپا نہیں رہ سکتا۔ پھر کیوں نہ میں اس شخص کی بات سنوں؟ اگر اچھی ہوئی تو قبول کرلوں گا۔ بُری ہوئی تو چھوڑدوں گا۔ یہ سوچ کر میں رک گیا اور جب آپﷺ گھر پلٹے تو میں بھی پیچھے ہولیا۔
آپﷺ اندر داخل ہوئے تو میں بھی داخل ہوگیا اور آپﷺ کو اپنی آمد کا واقعہ اور لوگوں کے خوف دلانے کی کیفیت، پھر کان میں روئی ٹھونسنے اور اس کے باوجود آپﷺ کی بعض باتیں سن لینے کی تفصیلات بتائیں، پھر عرض کیا کہ آپﷺ اپنی بات پیش کیجیے۔ آپﷺ نے مجھ پر اسلام پیش کیا اور قرآن کی تلاوت فرمائی، خدا گواہ ہے میں نے اس سے عمدہ قول اور اس سے زیادہ انصاف کی بات کبھی نہ سنی تھی، چنانچہ میں نے وہیں اسلام قبول کرلیا اور حق کی شہادت دی۔
اس کے بعد آپﷺ سے عرض کیا کہ میری قوم میں میری بات مانی جاتی ہے، میں ان کے پاس پلٹ کر جاﺅں گا اور انہیں اسلام کی دعوت دوں گا لہٰذا آپﷺ اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے کوئی نشانی دے دے۔ آپﷺ نے دعا فرمائی۔
حضرت طفیل کو جو نشانی عطا ہوئی وہ یہ تھی کہ جب وہ اپنی قوم کے قریب پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے چہرے پر چراغ جیسی روشنی پیدا کر دی۔
انہوں نے کہا یااللہ چہرے کے بجائے کسی اور جگہ۔ مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ اسے مثلہ کہیں گے۔ چنانچہ یہ روشنی ان کے ڈنڈے میں پلٹ گئی۔ پھر انہوں نے اپنے والد اور اپنی بیوی کو اسلام کی دعوت دی اور وہ دونوں مسلمان ہوگئے لیکن قوم نے اسلام قبول کرنے میں تاخیر کی۔ مگر حضرت طفیل بھی مسلسل کوشاں رہے حتیٰ کہ غزوہ خندق کے بعد جب انہوں نے ہجرت فرمائی تو ان کے ساتھ ان کی قوم کے ستر یا اسی خاندان تھے۔
حضرت طفیل رضی اللہ عنہ نے اسلام میں بڑے اہم کارنامے انجام دے کر یمامہ کی جنگ میں جام شہادت نوش فرمایا۔
5۔ ضماد ازدی:
یہ یمن کے باشندے اور قبیلہ ازوشنوءہ کے ایک فرد تھے، جھاڑ پھونک کرنا اور آسیب اتارنا ان کا کام تھا، مکہ آئے تو وہاں کے احمقوں سے سنا کہ محمدﷺ پاگل ہیں۔ سوچا کیوں نہ اس شخص کے پاس چلوں، ہوسکتا ہے اللہ میرے ہی ہاتھوں سے اسے شفا دے دے، چنانچہ آپﷺ سے ملاقات کی اور کہا اے محمدﷺ میں آسیب اتارنے کے لیے جھاڑ پھونک کیا کرتا ہوں، کیا آپ ﷺ کو بھی اس کی ضرورت ہے؟ آپ نے جواب میں فرمایا:
ترجمہ: یقیناً ساری تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔
ہم اس کی تعریف کرتے ہیں اور اس سے مدد چاہتے ہیں، جسے اللہ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا اور جسے اللہ بھٹکا دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا اور میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اما بعد:
ضماد نے کہا: ذرا اپنے یہ کلمات مجھے پھر سنا دیجیے، آپﷺ نے تین بار دہرایا اس کے بعد ضماد نے کہا میں کاہنوں، جادوگروں کی بات سن چکا ہوں لیکن میں نے آپﷺ کے ان جیسے کلمات کہیں نہیں سنے۔
یہ تو سمندر کی اتھاہ گہرائی کو پہنچے ہوئے ہیں، لائیے اپنا ہاتھ بڑھائیے! آپﷺ سے اسلام پر بیعت کروں اور اس کے بعد انہوں نے بیعت کر لی۔
یثرب کی چھ سعادت مند روحیں:
گیارہویں سن نبوت کے موسم حج (جولائی 620ء) میں اسلامی دعوت کو چند کارآمد بیج دستیاب ہوئے جو دیکھتے دیکھتے سرو قامت درختوں میں تبدیل ہوگئے اور ان کی لطیف اور گھنی چھاﺅں میں بیٹھ کر مسلمانون نے برسوں ظلم و ستم کی تپش سے راحت و نجات پائی۔

اہل مکہ نے رسول اللہﷺ کو جھٹلانے اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکنے کا جو بیڑا اٹھا رکھا تھا اس کے تئیں نبیﷺ کی حکمت عملی یہ تھی کہ آپﷺ رات کی تاریکی میں قبائل کے پاس تشریف لے جاتے تاکہ مکے کا کوئی مشرک رکاوٹ نہ ڈال سکے۔
اسی حکمت عملی کے مطابق ایک رات آپﷺ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ہمراہ لے کر باہر نکلے۔
بنو ذہل اور بنو شیبان بن ثعلبہ کے ڈیروں سے گزرے تو ان سے اسلام کے بارے میں بات چیت کی۔ انہوں نے جواب تو بڑا امید افزا دیا لیکن اسلام قبول کرنے کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہ کیا۔ اس موقع پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور بنو ذہل کے ایک آدمی کے درمیان سلسلہ نسب کے متعلق بڑا دلچسپ سوال و جواب ہوا، دونوں ہی ماہر انساب تھے۔
اس کے بعد رسول اللہﷺ منٰی گھاٹی سے گزرے تو کچھ لوگوں باہم گفتگو کرتے سنا۔
آپﷺ نے سیدھے ان کا رخ کیا اور ان کے پاس جا پہنچے، یہ یثرب کے چھ جوان تھے اور سب کے سب قبیلہ خزرج سے تعلق رکھتے تھے۔ نام یہ ہیں:
1۔ اسعد رضی اللہ عنہ بن زرارہ (قبیلہ بنی النجار)
2۔ عوف رضی اللہ عنہ بن حارث بن رفاعہ (ابن عفراء) (قبیلہ بنی النجار)
3۔ رافع رضی اللہ عنہ بن مالک بن عجلان (قبیلہ بنی زریق)
4۔ قطبہ رضی اللہ عنہ بن عامر بن حدیدہ (قبیلہ بن سلمہ)
عقبہ بن عامر بن نابی (قبیلہ بنی حرام بن کعب
6۔ حارث رضی اللہ عنہ بن عبداللہ بن رِئاب (قبیلہ بنی عبید بن غنم)
یہ اہل یثرب کی خوش قسمتی تھی کہ وہ اپنے حلیف یہود مدینہ سے سنا کرتے تھے کہ اس زمانے میں ایک نبی بھیجا جانے والا ہے اور اب جلد ہی نمودار ہوگا۔ ہم اس کی پیروی کرکے اس کی معیت میں تمہیں عاد ارم کی طرح قتل کر ڈالیں گے۔

رسول اللہ ﷺ نے ان کے پاس پہنچ کر دریافت کیا کہ آپ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا ہم قبیلہ خزرج سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: یعنی یہود کے حلیف۔ بولے: ہاں۔ فرمایا: پھر کیوں نہ آپ حضرات بیٹھیں، کچھ بات چیت کی جائے۔ وہ لوگ بیٹھ گئے۔ آپﷺ نے ان کے سامنے اسلام کی حقیقت بیان فرمائی۔ انہیں اللہ عزوجل کی طرف دعوت دی اور قرآن کی تلاوت فرمائی۔
انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا: بھئی دیکھو! یہ تو وہی نبی معلوم ہوتے ہیں جن کا حوالہ دے کر یہود تمہیں دھمکیاں دیا کرتے ہیں۔ لہٰذا یہود تم پر سبقت نہ لے جانے پائیں۔ اس کے بعد انہوں نے فوراً آپﷺ کی دعوت قبول کرلی اور مسلمان ہوگئے۔
یہ یثرب کے عقلاء الرجال تھے۔ حال ہی میں جو جنگ گزرچکی تھی اور جس کے دھویں اب تک فضا کو تاریک کئے ہوئے تھے، اس جنگ نے انہیں چور چور کر دیا تھا اس لیے انہوں نے بجا طور پر یہ توقع قائم کی کہ آپﷺ کی دعوت جنگ کے خاتمے کا ذریعہ ثابت ہوگی، چنانچہ انہوں نے کہا ہم اپنی قوم کو اس حالت میں چھوڑ کر آئے ہیں کہ کسی اور قوم میں ان کے جیسی عداوت و دشمنی نہیں پائی جاتی۔
امید ہے کہ اللہ آپﷺ کے ذریعے انہیں یکجا کر دے گا، ہم وہاں جا کر لوگوں کو آپﷺ کے مقصد کی طرف بلائیں گے اور یہ دین جو ہم نے خود قبول کرلیا ہے ان پر بھی پیش کریں گے۔ اگر اللہ نے آپﷺ پر ان کو یکجا کر دیا تو پھر آپﷺ سے بڑھ کر کوئی اور معزز نہ ہوگا۔
اس کے بعد جب یہ لوگ مدینہ واپس ہوئے تو اپنے ساتھ اسلام کا پیغام بھی لے گئے چنانچہ وہاں گھر گھر رسول اللہﷺ کا چرچا پھیل گیا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح:
اسی سال شوال 11 نبوت میں رسول اللہﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔ اس وقت ان کی عمر چھ برس تھی۔ پھر ہجرت کے پہلے سال شوال ہی کے مہینہ میں مدینہ کے اندر ان کی رخصتی ہوئی، اس وقت ان کی عمر نو برس تھی۔

Your Thoughts and Comments