Ar-raheeq Al-makhtoom ...... Arab HakomteN Aor SardariaN

الرحیق المختوم، عرب حکومتیں اور سرداریاں

جس وقت جزیرہ العرب پر خورشیدِ اسلام کی تابناک شعاعیں ضَوفگن ہوئیں وہاں دو قسم کے حکمران تھے۔ ایک تاج پوش باشاہ جو درحقیقت مکمل طور پر آزاد و خود مختار نہ تھے اور دوسرے قبائلی سردار جنہیں اختیارات و امتیازات کے اعتبار سے وہی حیثیت حاصل تھی جو تاج پوش بادشاہوں کی تھی

Ar-raheeq al-makhtoom ...... Arab HakomteN aor sardariaN

اسلام سے پہلے عرب کے جو حالات تھے ان پر گفتگو کرتے ہوئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کی حکومت ‘سرداریاں اور مذاہب و اَدْیان کا بھی ایک مختصر سا خاکہ پیش کر دیا جائے تاکہ ظہورِ اسلام کے وقت جو پوزیشن تھی وہ بآسانی سمجھ میں آسکے۔
جس وقت جزیرہ العرب پر خورشیدِ اسلام کی تابناک شعاعیں ضَوفگن ہوئیں وہاں دو قسم کے حکمران تھے۔ ایک تاج پوش باشاہ جو درحقیقت مکمل طور پر آزاد و خود مختار نہ تھے اور دوسرے قبائلی سردار جنہیں اختیارات و امتیازات کے اعتبار سے وہی حیثیت حاصل تھی جو تاج پوش بادشاہوں کی تھی لیکن ان کی اکثریت کو ایک مزید امتیاز یہ بھی حاصل تھا کہ وہ پورے طور پر آزاد و خود مختار تھے۔

تاج پوش حکمران یہ تھے: شاہان آل غسّان (شام) اور شاہان حِیرہ (عراق) بقیہ عرب حکمران تاجپوش نہ تھے۔


یمن کی بادشاہی:
عرب عاربہ میں سے جو قدیم ترین یمانی قوم معلوم ہو سکی وہ قوم سَبَا ہے۔ اُوْر (عراق) سے جو کتبات برآمد ہوئے ہیں ان میں ڈھائی ہزار سال قبل مسیح اس قوم کا ذکر ملتا ہے لیکن اس کے عروج کا زمانہ گیارہ صدی قبل مسیح سے شروع ہوتا ہے۔

اس کی تاریخ کے اہم ادوار یہ ہیں:
۱۔ ۶۵۰ ق م سے پہلے کا دور ۔۔۔۔اس دَوْر میں شاہان سَباْ کا لقب مکرب سبا تھا ۔ ان کا پایہ تخت صرواح تھا جس کے کھنڈر آج مآرب کے مغرب میں ایک دن کی راہ پر پائے جاتے ہیں اور خریبہ کے نام سے مشہور ہیں۔ اسی دور میں مآرب کے مشہور بند کی بنیاد رکھی گئی جسے یمن کی تاریخ میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس دور میں سلطنت سبا کو اس قدر عروج حاصل ہوا کہ انہوں نے عرب کے اندر اور عرب سے باہر جگہ جگہ اپنی نو آبادیاں قائم کر لی تھیں۔

۲۔ ۶۵۰ق م سے ۱۱۵ ق م تک کا دَور ۔۔۔ اس دور میں سَبا کے بادشاہوں نے مکرب کا لفظ چھوڑ کر ملک (بادشاہ) کا لقب اختیار کر لیا اور صرواح کے بجائے مآرب کو اپنا دارالسلطنت بنایا۔
اس شہر کے کھنڈر آج بھی صنعاء کے ۶۰ میل مشرق میں پائے جاتے ہیں۔
۳۔ ۱۱۵ ق م سے ۳۰۰ء تک کا دور۔۔۔ اس دَور میں سبا کی مملکت پر قبیلہ حِمَیرْ کو غلبہ حاصل رہا اور اس نے مآرب کے بجائے رَیْدان کو اپنا پایہ تخت بنایا۔
پھر ریدان کا نام ظفار پڑگیا جس کے کھنڈرات آج بھی شہر ”یریم“ کے قریب ایک مُدَوَّر پہاڑی پر پائے جاتے ہیں۔
یہی دور ہے جس میں قوم سبا کا زوال شروع ہوا۔ پہلے نبطیوں نے شمالی حجاز پر قبضہ کرکے ان کی تجارت کے بحری راستے کو مخدوش کر دیا اور اس طرح ان کی تجارت رفتہ رفتہ تباہ ہوگئی۔ ادھر قحطانی قبائل خود بھی باہم دست و گریباں تھے۔
ان حالات کا نتیجہ یہ ہوا کہ قحطانی قبائل اپنا وطن چھوڑ چھوڑ کر اِدھر اُدھر پراگندہ ہوگئے۔
۴۔ ۳۰۰ء کے بعد سے آغاز اسلام تک کا دور ۔۔۔ اس دور میں یمن کے اندر مسلسل اضطراب و انتشار برپا رہا۔ انقلاب آئے، خانہ جنگیاں ہوئیں اور بیرونی قوموں کو مداخلت کے مواقع ہاتھ آئے حتیٰ کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ یمن کی آزادی سلب ہوگئی۔ چنانچہ یہی دور ہے جس میں رومیوں نے عدن پر فوجی تسلط قائم کیا اور ان کی مدد سے حبشیوں نے حمیر و ہمدان کی باہمی کشاکش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ۳۴۰ء میں پہلی بار یمن پر قبضہ کیا، جو ۳۷۸ء تک برقرار رہا۔
اس کے بعد یمن کی آزادی تو بحال ہوگئی مگر ”مآرب“ کے مشہور بند میں رخنے پڑنا شروع ہو گئے یہاں تک کہ بالآخر ۴۵۰ یا ۴۵۱ء میں بند ٹوٹ گیا اور وہ سیلاب آیا جس کا ذکر قران مجید (سورة سبا) میں سَیْلِ عَرِم کے نام سے کیا گیا ہے۔ یہ بڑا زبردست حادثہ تھا۔ اس کے نتیجے میں بستیوں کی بستیاں ویران ہو گئیں اور بہت سے قبائل اِدھر اُدھر بکھر گئے۔

پھر ۵۲۳ء میں ایک اور سنگین حادثہ پیش آیا یعنی یمن کے یہودی بادشاہ ذونواس نے نجران کے عیسائیوں پر ایک ہیبت ناک حملہ کرکے انہیں عیسائی مذہب چھوڑنے پر مجبور کرنا چاہا اور جب وہ اس پر آمادہ نہ ہوئے تو ذونواس نے خندقیں کھدوا کر انہیں بھڑکتی ہوئی آگ کے الاؤ میں جھونک دیا۔ قران مجید نے سورة بروج میں اسی لرزہ خیز واقعے کی طرف اشارہ کیا ہے۔
اس واقعے کا نتیجہ یہ ہوا کہ عیسائیت جو رومی بادشاہوں کی قیادت میں بلادِ عرب کی فتوحات اور توسیع پسندی کے لیے پہلے ہی سے چست و چابک دست تھی، انتقام لینے پر تُل گئی اور حبشیوں کو یمن پر حملے کی ترغیب دیتے ہوئے انہیں بحری بیڑہ مہیا کیا۔ حبشیوں نے رومیوں کی شہ پا کر ۵۲۵ء میں اریاط کی زیر قیادت ستر ہزار فوج سے یمن پر دوبارہ قبضہ کرلیا۔
قبضہ کے بعد ابتداً تو شاہ حبش کے گورنر کی حیثیت سے اریاط نے یمن پر حکمرانی کی لیکن پھر اس کی فوج کے ایک ماتحت کمانڈر اَبْرہَہْ نے اسے قتل کرکے خود اقتدار پر قبضہ کر لیا اور شاہ حبش کو بھی اپنے اس تصرف پر راضی کر لیا۔
یہ وہی اَبْرہَہَ ہے جس نے بعد میں خانہ کعبہ کو ڈھانے کی کوشش کی اور ایک لشکر جرار کے علاوہ چند ہاتھیوں کو بھی فوج کشی کیلئے ساتھ لایا جس کی وجہ سے یہ لشکر اصحاب فیل کے نام مشہور ہوگیا۔

اِدھر واقعہ فیل میں حبشیوں کی جو تباہی ہوئی اس سے فائدہ اٹھاتے ہُوئے اہل یمن نے حکومت فارس سے مدد مانگی اور حبشیوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرکے سیف ذی یَزَنْ حمیری کے بیٹے معدیکرب کی قیادت میں حبشیوں کو ملک سے نکال باہر کیا اور ایک آزاد و خودمختار قوم کی حیثیت سے معدیکرب کو اپنا بادشاہ منتخب کر لیا۔ یہ ۵۷۵ء کا واقعہ ہے۔
آزادی کے بعد معدیکرب نے کچھ حبشیوں کو اپنی خدمت اور شاہی جلو کی زینت کے لیے روک لیا لیکن یہ شوق مہنگا ثابت ہوا۔
ان حبشیوں نے ایک روز معدیکرب کو دھوکے سے قتل کرکے ذِی یَزَن کے خاندان سے حکمرانی کا چراغ ہمیشہ کے لیے گل کر دیا۔ ادھر کسریٰ نے اس صورت حال کا فائدہ اُٹھاتے ہُوئے صَنعاء پر ایک فارسی النّسل گورنر مقرر کرکے یمن کو فارس کا ایک صوبہ بنا لیا، اس کے بعد یمن پر یکے بعد دیگرے فارسی گورنروں کا تقرر ہوتا رہا یہاں تک کہ آخری گورنر باَذَانْ نے ۶۲۸ء میں اسلام قبول کر لیا اور اس کے ساتھ ہی یمن فارسی اقتدار سے آزاد ہو کر اسلام کی علمداری میں آ گیا۔

حیرہ کی بادشاہی:
عراق اور اس کے نواحی علاقوں پر کوروش کبیر (خورس یا سائرس ذوالقرنین ۵۵۷ ق م … ۵۲۹ ق م) کے زمانے سے ہی اہل فارس کی حکمرانی چلی آ رہی تھی۔ کوئی نہ تھا جو اُن کے مدمقابل آنے کی جرأت کرتا، یہاں تک کہ ۳۲۶ ق م میں سکندر مقدونی نے دارا اوّل کو شکست دے کر فارسیوں کی طاقت توڑ دی جس کے نتیجے میں ان کا ملک ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اور طوائف الملوکی شروع ہوگئی۔
یہ انتشار ۲۳۰ء تک جاری رہا اور اسی دوران قحطانی قبائل نے ترکِ وطن کرکے عراق کے ایک بہت بڑے شاداب سرحدی علاقے پر بودوباش اختیار کی۔ پھر عدنانی تارکین وطن کا ریلا آیا اور انہوں نے لڑ بِھڑ کر جزیرہ فراتیہ کے ایک حصے کو اپنا مسکن بنا لیا۔
ادھر ۲۲۶ء میں اَرْد شیر نے جب ساسانی حکومت کی داغ بیل ڈالی تو رفتہ رفتہ فارسیوں کی طاقت ایک بار پھر پلٹ آئی۔
اردشیر نے فارسیوں کی شیرازہ بندی کی اور اپنے ملک کی سرحد پر آباد عربوں کو زیر کیا۔ اسی کے نتیجے میں قضاعہ نے ملک شام کی راہ لی، جبکہ حِیرہ اور انبار کے عرب باشندوں نے باج گذار بننا گوارا کیا۔
اَرد شیر کے عہد میں حیرہ بادیة العراق اور جزیرہ کے ربیعی اور مُضَری قبائل پر جذیمہ الوضاح کی حکمرانی تھی، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اَرد شیر نے محسوس کر لیا تھا کہ عرب باشندوں پر براہِ راست حکومت کرنا اور انہیں سرحد سے لوٹ مار سے باز رکھنا ممکن نہیں بلکہ اس کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ خود کسی ایسے عرب کو ان کا حکمران بنا دیا جائے جسے اپنے کنبے قبیلے کی حمایت و تائید حاصل ہو، اس کا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ بوقت ضرورت رومیوں کے خلاف ان سے مدد لی جا سکے گی اور شام کے روم نواز عرب حکمرانوں کے مقابل عراق کے ان عرب حکمرانوں کو کھڑا کیا جا سکے گا۔

شاہانِ جیرہ کے پاس فارسی فوج کی ایک یونٹ ہمیشہ رہا کرتی تھی جس سے بادیہ نشین عرب باغیوں کی سرکوبی کا کام لیا جاتا تھا۔
۲۶۸ء کے عرصے میں جذیمہ فوت ہوگیا اور عمرو بن عدی بن نصر لخمی اس کا جانشین ہوا۔ یہ قبیلہٴ لخم کا پہلا حکمران تھا۔ اور شاپور اردشیر کا ہمعصر تھا۔ اس کے بعد قباذہن فیروز کے عہد تک حیرہ پر لخمیوں کی مسلسل حکمرانی رہی۔
قباذ کے عہد میں مزوک کا ظہور ہوا جو اباحیت کا علمبردار تھا۔ قباذ اور اس کی بہت سی رعایا نے مزوک کی ہم نوائی کی۔ پھر قباذ نے حیرہ کے بادشاہ منذر بن ماء السماء کو پیغام بھیجا کہ تم بھی یہی مذہب اختیار کر لو۔ منذر بڑا غیرت مند تھا، انکار کر بیٹھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ قباذ نے اسے معزول کر کے اس کی جگہ مزدکی کی دعوت کے ایک پیروکار حارث بن عمرو بن حجر کندی کو حیرہ کی حکمرانی سونپ دی۔

قیاذ کے بعد فارس کی باگ ڈور کسریٰ نوشیرواں کے ہاتھ آئی۔ اسے اس مذہب سے سخت نفرت تھی۔ اس نے مُزدک اور اس کے ہمنواوٴں کی ایک بڑی تعداد کو قتل کروا دیا۔ منذر کو دوبارہ حیرہ کا حکمران بنا دیا اور حارث بن عمرو کو اپنے ہاں بلا بھیجا لیکن وہ بنوکلب کے علاقے میں بھاگ گیا اور وہیں اپنی زندگی گزار دی۔
مُنْذر بن ماء السماء کے بعد نعمان بن منذر کے عہد تک حیرہ کی حکمرانی اسی کی نسل میں چلتی رہی، پھر زید بن عدی عبادی نے کسریٰ سے نعمان بن منذر کی جھوٹی شکایت کی۔
کسریٰ بھڑک اٹھا اور نعمان کو اپنے پاس طلب کیا۔ نعمان چپکے سے بنو شَیبان کے سردار ہانی بن مسعود کے پاس پہنچا اور اپنے اہل و عیال اور مال و دولت کو اس کی امانت میں دے کر کسریٰ کے پاس گیا۔ کسریٰ نے اسے قید کر دیا اور وہ قید ہی میں فوت ہو گیا۔
ادھر کسریٰ نے نعمان کو قید کرنے کے بعد اس کی جگہ اِیاس بن قبیصہ طائی کو حیرہ کا حکمران بنایا اور اسے حکم دیا کہ ہانی بن مسعود سے نعمان کی امانت طلب کرے۔
ہانی غیرت مند تھا، اس نے صرف انکار ہی نہیں کیا بلکہ اعلانِ جنگ بھی کر دیا۔ پھر کیا تھا اِیَاس اپنے جلو میں کسریٰ کے لاؤ لشکر اور مر زبانوں کی جماعت لے کر روانہ ہوا۔ اور ذِی قَار کے میدان میں فریقین کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی جس میں بَنو شَیْباَن کو فتح حاصل ہوئی اور فارسیوں نے شرمناک شکست کھائی۔ یہ پہلا موقع تھا جب عرب نے عجم پر فتح حاصل کی تھی۔
یہ واقعہ نبی ﷺ کی پیدائش کے تھوڑے ہی دنوں بعد کا ہے۔ آپ ﷺ کی پیدائش حیرہ پر ایاس کی حکمرانی کے آٹھویں مہینہ میں ہوئی تھی۔
اِیَاس کے بعد کسریٰ نے حیرہ پر ایک فارسی حاکم مقرر کیا لیکن ۶۳۲ء میں لخمیوں کا اقتدار پھر بحال ہو گیا اور منذر بن معرور نامی اس قبیلے کے ایک شخص نے باگ ڈور سنبھالی، مگر ابھی اس کو بر سر اقتدار آئے صرف آٹھ ماہ ہوئے تھے کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اسلام کا یہ سیلِ رواں لے کر حِیرہ میں داخل ہو گئے۔

شام کی بادشاہی:
جس زمانے میں عرب قبائل کی ہجرت زوروں پر تھی قبیلہ قضاعہ کی چند شاخیں حدودِ شام میں آ کر آباد ہو گئیں۔ ان کا تعلق بنی سُلَیْم بن حلوان سے تھا اور ان ہی میں ایک شاخ بنو ضحیم بن سلیم تھی، جسے ضَجَاعِمہَ کے نام سے شہرت حاصل ہوئی۔ قُضاعَہ کی اس شاخ کی رومیوں نے صحرائے عرب کے بدوؤں کی لوٹ مار روکنے اور فارسیوں کے خلاف استعمال کرنے کے لیے اپنا ہمنوا بنایا اور اسی کے ایک فرد کے سر پر حکمرانی کا تاج رکھ دیا۔
اس کے بعد مدتوں ان کی حکمرانی رہی۔ ان کا مشہور ترین بادشاہ زیاد بن ہیولہ گزرا ہے۔ اندازہ کیا گیا ہے کہ ضَجاَعِمہَ کا دورِ حکومت پوری دوسری صدی عیسوی پر محیط رہا ہے۔ اس کے بعد اس دیار میں آل غسان کی آمد آمد ہوئی اور ضجاعمہ کی حکمرانی جاتی رہی۔
آل غسان نے بنو ضجعم کو شکست دے کر ان کی ساری قلمرو پر قبضہ کر لیا۔ یہ صورت حال دیکھ کر رومیوں نے بھی آل غسان کو دیارِ شام کے عرب باشندوں کا بادشاہ تسلیم کر لیا۔
آلِ غسان کا پایہ تخت دُوْمَتہ الجُندْل تھا۔ اور رومیوں کے آلہٴ کار کی حیثیت سے دیارِ شام پر ان کی حکمرانی مسلسل قائم رہی تاآنکہ خلافت فاروقی میں ۱۳ھ میں یَرمُوْک کی جنگ پیش آئی اور آل غسان کا آخری حکمران جَبلہ بن اَیہَم حلقہ بگوش اسلام ہو گیا۔ (اگرچہ اس کا غرور اسلامی مساوات کو زیادہ برداشت نہ کرسکا اور وہ مرتد ہوگیا)
حجاز کی امارت:
یہ بات تو معروف ہے کہ مکہ میں آبادی کا آغاز حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ہوا۔
آپ نے ۱۳۷ سال کی عمر پائی اور تاحیات مکہ کے سربراہ اور بیت اللہ کے متولی رہے۔ آپ کے بعد آپ ﷺ کے دو صاحبزادگان … نَابِتْ پھر قَیدار، یا قیدار پھر نابت… یکے بعد دیگرے مکہ کے والی ہوئے۔ ان کے بعد ان کے نانا مضاض بن عَمْرو جُرہمی نے زمامِ کار اپنے ہاتھ میں لے لی اور اس طرح مکہ کی سربراہی بنو جرہم کی طرف منتقل ہو گئی اور ایک عرصے تک انہیں کے ہاتھ میں رہی۔
حضرت اسمٰعیل علیہ السلام چونکہ (اپنے والد کے ساتھ مل کر) اللہ کے بانی و معمار تھے اس لیے ان کی اولاد کو ایک باوقار مقام ضرور حاصل رہا، لیکن اقتدار و اختیار میں ان کا کوئی حصہ نہ تھا۔
پھر دن پر دن اور سال پر سال گزرتے گئے لیکن حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد گوشہٴ گمنامی سے نہ نکل سکی، یہاں تک کہ بخت نصر کے ظہور سے کچھ پہلے بنو جرہم کی طاقت کمزور پڑ گئی اور مکہ کے افق پر عدنان کا سیاسی ستارہ جگمگانا شروع ہوا۔
اس کا ثبوت یہ ہے کہ بُختِْ نَصَّر نے ذاتِ عرق میں عربوں سے جو معرکہ آرائی کی تھی اس میں عرب فوج کا کمانڈڑ جرہمی نہ تھا۔
پھر جب ۵۸۷ء ق م میں دوسرا حملہ کیا تو بنو عدنان بھاگ کر یمن چلے گئے۔ اس وقت بنو اسرائیل کے نبی حضرت یَرْمِیَاہْ تھے۔ وہ عدنان کے بیٹے مَعَدّ کو اپنے ساتھ ملک شام لے گئے اور جب بُخْتِ نَصَّر کا زور ختم ہوا اور معد مکہ آئے تو انہیں مکہ میں قبیلہ جرہم کا صرف ایک شخص جرثم بن جلہمہ ملا۔
معد نے اس کی لڑکی معانہ سے شادی کی اور اسی بطن سے نزار پیدا ہوا۔
اس کے بعد مکہ میں جرہم کی حالت خراب ہوتی گئی۔ انہیں تنگ دستی نے آ گھیرا، نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے زائرین بیت اللہ پر زیادتیاں شروع کر دیں اور خانہ کعبہ کا مال کھانے سے بھی دریغ نہ کیا۔ ادھر بنو عدنان اندر ہی اندر ان کی حرکتوں پر کڑھتے اور بھڑکتے رہے اسی لیے جب بنو خزاعہ نے مَرّالظہّران میں پڑاؤ کیا اور دیکھا کہ بنو عدنان بنو جرہم سے نفرت کرتے ہیں تو اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک عدنانی قبیلے (بنوبکر بن عبد مناف بن کنانہ) کو ساتھ لے کر بنو جرہم کے خلاف جنگ چھیڑ دی اور انہیں مکہ سے نکال کر اقتدار پر خود قبضہ کر لیا۔
یہ واقعہ دوسری صدی عیسوی کے وسط کا ہے۔
بنو جرہم نے مکہ چھوڑتے وقت زمزم کا کنواں پاٹ دیا اور اس میں کئی تاریخی چیزیں دفن کر کے اس کے نشانات بھی مٹا دئیے۔ محمد ابن اسحاق کا بیان ہے کہ عمرو بن حارث بن مضاض جرہمی (یہ وہ مضاض جرہمی نہیں ہے جس کا ذکر حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واقعے میں گزر چکا ہے) نے خانہ کعبہ کے دونوں ہرن (مسعودی نے لکھا ہے کہ اہل فارس پچھلے دور میں خانہ کعبہ کے لیے اموال و جواہرات بھیجتے رہتے تھے۔
سامان بن بابک نے سونے کے بنے ہوئے دو ہرن، جواہرات، تلواریں اور بہت سا سونا بھیجا تھا۔ عمرو نے یہ سب زمزم کے کنویں میں ڈال دیا تھا) اور اس کے کونے میں لگا ہوا پتھر… حجر اسود… نکال کرزمزم کے کنویں میں دفن کر دیا اور اپنے قبیلہ بنو جرہم کو ساتھ لے کر یمن چلا گیا۔ بنو جرہم کو مکہ سے جلاوطنی اور وہاں کی حکومت سے محروم ہونے کا بڑا قلق تھا چنانچہ عمرو مذکور نے اسی سلسلے میں یہ اشعار کہے۔

ترجمہ:
”لگتا ہے حَجون سے صَفا تک کوئی آشنا تھا ہی نہیں اور نہ کسی قصہ گو نے مکہ کی شبانہ محفلوں میں قصہ گوئی کی۔ کیوں نہیں! یقینا ہم ہی اس کے باشندے تھے لیکن زمانے کی گردشوں اور ٹوٹی ہُوئی قسمتوں نے ہمیں اُجاڑ پھینکا۔“
حضرت اسماعیل علیہ السلام کا زمانہ تقریباً دو ہزار برس قبل مسیح ہے۔ اس حساب سے مکہ میں قبیلہ جرہم کا وجود کوئی دو ہزار ایک سو برس تک رہا اور ان کی حکمرانی لگ بھگ دو ہزار برس تک رہی۔
بنو خزاعہ نے مکہ پر قبضہ کرنے کے بعد بنُو بَکر کو شامل کئے بغیر تنہا اپنی حکمرانی قائم کی، البتہ تین اہم اور امتیازی مناصب ایسے تھے جو مُضَری قبائل کے حصے میں آئے۔
۱۔ حاجیوں کو عرفات سے مزدلفہ لے جانا اور یوم النَّفر… ۱۳ذی الحجہ کو جو کہ حج کے سلسلے کا آخری دن ہے… مِنٰی سے روانگی کا پروانہ دینا۔ یہ اعزاز الیاس بن مضر کے خاندان بنو غَوْث بن مرہ کو حاصل تھا جو صوفہ کہلاتے تھے۔
اس اعزاز کی توضیح یہ ہے کہ ۱۳ ذِی الحجہ کو حاجی کنکری نہ مار سکتے تھے جب تک کہ پہلے صوفہ کا ایک ایک آدمی کنکری نہ مار لیتا۔ پھر حاجی کنکری مار کر فارغ ہو جاتے اور منٰی سے روانگی کا ارادہ کرتے تو صوفہ کے لوگ منٰی کی واحد گزرگاہ عقبہ کے دونوں جانب گھیرا ڈال کر کھڑے ہو جاتے اور جب تک خود گزر نہ لیتے کسی کو گزرنے نہ دیتے۔ ان کے گزر لینے کے بعد بقیہ لوگوں کے لیے راستہ خالی ہوتا۔
جب صوفہ ختم ہوگئے تو یہ اعزاز بنو تمیم کے ایک خاندان بنو زید مناة کی طرف منتقل ہو گیا۔
۲۔ ۱۰ ذی الحجہ کی صبح کو مزدلفہ سے منٰی کی جانب افاضہ (روانگی) یہ اعزاز بنو عدوان کو حاصل تھا۔
۳۔ حرام مہینوں کو آگے پیچھے کرنا۔ یہ اعزاز بنو کنانہ کی ایک شاخ بنو تمیم بن عدی کو حاصل تھا۔
مکہ پر بنوخزاعہ کا اقتدار کوئی تین سو برس تک قائم رہا اور یہی زمانہ تھا جب عدنانی قبائل مکہ اور حجاز سے نکل کر نجد، اطراف عراق اور بحرین وغیرہ میں پھیلے اور مکہ کے اطراف میں صرف قریش کی چند شاخیں باقی رہیں، جو خانہ بدوش تھیں۔
ان کی الگ الگ ٹولیاں تھیں اور بنو کنانہ میں ان کے چند متفرق گھرانے تھے مگر مکہ کی حکومت اور بیت اللہ کی تولیت میں ان کا کوئی حصہ نہ تھا یہاں تک کہ قُصَّی بن کلاب کا ظہور ہوا۔
قُصَّی کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ وہ ابھی گود ہی میں تھا کہ اس کے والد کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد اس کی والدہ نے بنو عُذْرَہ کے ایک شخص ربیعہ بن حرام سے شادی کر لی۔
یہ قبیلہ چونکہ ملک شام کے اطراف میں رہتا تھا اس لیے قُصّی کی والدہ وہیں چلی گئی اور وہ قُصَّی کو بھی اپنے ساتھ لیتی گئی۔ جب قُصَّی جوان ہوا تو مکہ واپس آیا۔ اس وقت مکہ کا والی حُلَیْل بن حبشیہ خزاعی تھا۔ قُصَّی نے اس کے پاس اس کی بیٹی حبی سے نکاح کے لیے پیغام بھیجا۔ حُلَیْل نے منظور کر لیا اور شادی کر دی اس کے بعد جب حُلَیْل کا انتقال ہوا تو مکہ اور بیت اللہ کی تولیت کے لیے خزاعہ اور قریش کے درمیان جنگ ہوگئی اور اس کے نتیجے میں مکہ اور بیت اللہ پر قُصَّی کا اقتدار قائم ہو گیا۔

جنگ کا سبب کیا تھا؟ اس بارے میں تین بیانات ملتے ہیں۔ ایک یہ کہ جب قُصَّی کی اولاد خوب پھل پھُول گئی، اس کے پاس دولت کی بھی فراوانی ہوگئی اور اس کا وقار بھی بڑھ گیا اور ادھر حُلَیْل کا انتقال ہو گیا تو قُصَّی نے محسوس کیا کہ اب بنو خزاعہ اور بنو بکر کے بجائے میں کعبہ کی تولیت اور مکہ کی حکومت کا کہیں زیادہ حقدار ہوں۔ اسے یہ احساس بھی تھا کہ قریش خالص اسماعیلی عرب ہیں اور بقیہ آلِ اسماعیل کے سردار بھی ہیں (لہٰذا سربراہی کے مستحق وہی ہیں) چنانچہ اس نے قریش اور بنو خزاعہ کے کچھ لوگوں سے گفتگو کی کہ کیوں نہ بنو خزاعہ اور بنو بکر کو مکہ سے نکال باہر کیا جائے۔
ان لوگوں نے اس کی رائے سے اتفاق کیا۔
دوسرا بیان یہ ہے کہ … خزاعہ کے بقول … خود حُلَیْل نے قُصَّی کو وصیت کی تھی کہ وہ کعبہ کی نگہداشت کرے گا اور مکہ کی باگ ڈور سنبھالے گا۔
تیسرا بیان یہ ہے کہ حُلَیْل نے اپنی بیٹی حبی کو بیت اللہ کی تولیت سونپی تھی اور ابو غبشان خزاعی کو اس کا وکیل بنایا تھا۔ چنانچہ حبی کے نائب کی حیثیت سے وہی خانہ کعبہ کا کلید بردار تھا۔
جب حُلَیْل کا انتقال ہو گیا تو قُصَّی نے ابو غبشان سے ایک مشک شراب کے بدلے کعبہ کی تولیت خرید لی لیکن خزاعہ نے یہ خرید و فروخت منظور نہ کی اور قُصَّی کو بیت اللہ سے روکنا چاہا۔ اس پر قُصَّی نے بنو خزاعہ کو مکہ سے نکالنے کے لیے قریش اور بنو کنانہ کو جمع کیا اور وہ قُصَّی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے جمع ہو گئے۔
بہرحال وجہ جو بھی ہو، واقعات کا سلسلہ اس طرح ہے کہ جب حُلَیْل کا انتقال ہو گیا‘ اور صوفہ نے وہی کرنا چاہا جو وہ ہمیشہ کرتے آئے تھے تو قُصَّی نے قریش اور کنانہ کے لوگوں کو ہمراہ لیا اور عقبہ کے نزدیک‘ جہاں وہ جمع تھے‘ ان سے آ کر کہا کہ تم سے زیادہ ہم اس اعزاز کے حقدار ہیں۔
اس پر صوفہ نے لڑائی چھیڑ دی مگر قُصَّی نے انہیں مغلوب کر کے ان کا اعزاز چھین لیا۔ یہی موقع تھا جب خزاعہ اور بنو بکر نے قُصَّی سے دامن کشی اختیار کر لی۔ اس پر قُصَّی نے انہیں بھی للکارا، پھر کیا تھا‘ فریقین میں سخت جنگ چھڑ گئی اور طرفین کے بہت سے آدمی مارے گئے۔ اس کے بعد صلح کی آوازیں بلند ہوئیں اور بنو بکر کے ایک شخص یَعْمر بن عوف کو حَکَم بنایا گیا، یَعْمر نے فیصلہ کیا کہ خزاعہ کے بجائے قُصَّی خانہ کعبہ کی تولیت اور مکہ کے اقتدار کا زیادہ حقدار ہے، نیز قُصَّی نے جتنا خون بہایا ہے سب رائیگاں قرار دے کر پاؤں تلے روند رہا ہوں۔
البتہ خزاعہ اور بنو بکر نے جن لوگوں کو قتل کیا ہے ان کی دِیَتْ ادا کریں اور خانہ کعبہ کو بلا روک ٹوک قُصَّی کے حوالہ کر دیں۔
اسی فیصلے کی وجہ سے یَعْمر کا لقب شّداخ پڑ گیا۔ شَدّاخ کے معنی ہیں پاؤں تلے روندنے والا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں قُصَّی اور قریش کو مکہ پر مکمل نفوذ اور سیادت حاصل ہوگئی، اور قصی بیت اللہ کا دینی سربراہ بن گیا جس کی زیارت کے لیے عرب کے گوشے گوشے سے آنے والوں کا تانبا بندھا رہتا تھا۔
مکہ پر قصی کے تسلط کا یہ واقعہ پانچویں صدی عیسوی کے وسط یعنی ۴۴۰ء کا ہے۔
قصی نے مکہ کا بندوبست اس طرح کیا کہ قریش کو اطراف مکہ سے بلا کر پورا شہر ان پر تقسیم کر دیا اور ہر خاندان کی بود و باش کا ٹھکانا مقرر کر دیا۔ البتہ مہینے آگے پیچھے کرنے والوں کو‘ نیز آلِ صفوان‘ بنو عدوان اور بنو مرہ بن عوف کو ان کے مناصب پر برقرار رکھا۔
کیونکہ قصی سمجھتا تھا کہ یہ بھی دین ہے جس میں ردّوبدل کرنا درست نہیں۔
قصی کا ایک کارنامہ یہ بھی ہے کہ اس نے حرم کعبہ کے شمال میں دارالندوہ تعمیر کیا۔ (اس کا دروازہ مسجد کی طرف تھا) دارالنّدوہ درحقیقت قریش کی پارلیمنٹ تھی جہاں تمام بڑے بڑے اور اہم معاملات کے فیصلے ہوتے تھے۔ قریش پر دارلندوہ کے بڑے احسانات ہیں کیونکہ یہ ان کی وحدت کا ضامن تھا اور یہیں ان کے الجھے ہوئے مسائل بحسن و خوبی طے ہوتے تھے۔

قصی کو سربراہی اور عظمت کے حسب ذیل مظاہر حاصل تھے:
۱۔ دارالنّدوہ کی صدارت‘ جہاں بڑے بڑے معاملات کے متعلق مشورے ہوتے تھے اور جہاں لوگ اپنی لڑکیوں کی شادیاں بھی کرتے تھے۔
۲۔ لِوَاء … یعنی جنگ کا پرچم قصی ہی کے ہاتھوں باندھا جاتا تھا۔
۳۔ حجابت … یعنی خانہ کعبہ کی پاسبانی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خانہ کعبہ کا دروازہ قصی ہی کھولتا تھا اور وہی خانہ کعبہ کی خدمت اور کلید برداری کا کام انجام دیتا تھا۔

۴۔ سقایہ (پانی پلانا) … اس کی صورت یہ تھی کہ کچھ حوض میں حاجیوں کے لیے پانی بھر دیا جاتا تھا اور اس میں کچھ کھجور اور کشمش ڈال کر اسے شیریں بنا دیا جاتا تھا۔ جب حجاج مکہ آتے تھے تو اسے پیتے تھے۔
رِفَادہ (حاجیوں کی میزبانی) … اس کے معنی یہ ہیں کہ حاجیوں کے لیے بطور ضیافت کھانا تیار کیا جاتا تھا۔ اس مقصد کے لیے قصی نے قریش پر ایک خاص رقم مقرر کر رکھی تھی، جو موسم حج میں قصی کے پاس جمع کی جاتی تھی، قصی اس رقم سے حاجیوں کے لیے کھانا تیار کراتا تھا‘ جو لوگ تنگ دست ہوتے یا جن کے پاس توشہ نہ ہوتا وہ یہی کھانا کھاتے تھے۔

یہ سارے مناصب قصی کو حاصل تھے۔ قصی کا پہلا بیٹا عبدالدار تھا، مگر اس کے بجائے دوسرا بیٹا عبد مناف، قصی کی زندگی میں شرف و سیادت کے مقام پر پہنچ گیا تھا۔ اس لیے قصی نے عبدالدار سے کہا کہ یہ لوگ اگرچہ شرف و سیادت میں تم پر بازی لے جا چکے ہیں مگر میں تمہیں ان کے ہم پلہ کرکے رہوں گا۔ چنانچہ قصی نے اپنے سارے مناصب اور اعزازات کی وصیت عبدالدار کے لیے کر دی، یعنی دارالندّوہ کی ریاست خانہ کعبہ کی حجابت، لواء، سِقایَت اور رفادہ سب کچھ عبدالدار کو دے دیا۔
چونکہ کسی کام میں قصی کی مخالفت نہیں کی جاتی تھی اور نہ اس کی کوئی بات مسترد کی جاتی تھی بلکہ اس کا ہر اقدام، اس کی زندگی میں بھی اور اس کی موت کے بعد بھی واجب الاتباع دین سمجھا جاتا تھا، اس لیے اس کی وفات کے بعد اس کے بیٹوں نے کسی نزاع کے بغیر اس کی وصیت قائم رکھی۔ لیکن جب عبد مناف کی وفات ہوگئی تو اس کے بیٹوں کا ان مناصب کے سلسلے میں اپنے چچیرے بھائیوں یعنی عبدالدار کی اولاد سے جھگڑا ہوا، اس کے نتیجے میں قریش دو گروہ میں بٹ گئے اور قریب تھا کہ دونوں میں جنگ ہو جاتی مگر پھر انہوں نے صلح کی آواز بلند کی اور ان مناصب کو باہم تقسیم کر لیا۔
چنانچہ سقایت اور رفادہ کے مناصب بنو عبد مناف کو دئیے گئے۔ اور دارالندوہ کی سربراہی لواء اور حجابت بنو عبدالدار کے ہاتھ میں رہی۔ پھر بنو عبد مناف نے اپنے حاصل شدہ مناصب کے لیے رقعہ ڈالا تو قرعہ ہاشم بن عبد مناف کے نام نکلا۔ لہٰذا ہاشم ہی نے اپنی زندگی بھر سقایہ و رفادہ کا انتظام کیا۔ البتہ جب ہاشم کا انتقال ہو گیا تو اُن کے بھائی ”مُطَّلِب“ نے ان کی جانشینی کی، مگر ”مُطَّلِب“ کے بعد ان کے بھتیجے عبدالمطلب بن ہاشم نے …جو رسول اللہ ﷺ کے دادا تھے …یہ منصب سنبھال لیا اور ان کے بعد ان کی اولاد ان کی جانشین ہوئی۔
یہاں تک کہ جب اسلام کا دور آیا تو حضرت عباس بن عبدالمطلب اس منصب پر فائز تھے۔
ان کے علاوہ کچھ اور مناصب بھی تھے جنہیں قریش نے باہم تقسیم کر رکھا تھا۔ ان مناصب اور انتظامات کے ذریعے قریش نے ایک چھوٹی سی حکومت بلکہ حکومت نما انتظامیہ قائم کر رکھی تھی جس کے سرکاری ادارے اور تشکیلات کچھ اسی ڈھنگ کی تھیں جیسی آج کل پارلیمانی مجلسیں اور ادارے ہوا کرتے ہیں۔
ان مناصب کا خاکہ حسب ذیل ہے:
ا۔ ایسار… یعنی فال گیری اور قسمت دریافت کرنے کے لیے بتوں کے پاس جو تیر رکھے رہتے تھے ان کی تولیت۔ یہ منصب بنو جمح کو حاصل تھا۔
۲۔ مالیات کا نظم … یعنی بتوں کے تقرب کے لیے جو نذرانے اور قربانیاں پیش کی جاتی تھیں ان کا انتظام کرنا، نیز جھگڑے اور مقدمات کا فیصلہ کرنا، یہ کام بنو سہم کو سونپا گیا تھا۔

۳۔ شوری … یہ اعزاز بنو اسد کو حاصل تھا۔
۴۔ اشناق … یعنی دیت اور جرمانوں کا نظم۔ اس منصب پر بنو تَیم فائز تھے۔
۵۔ عقاب … یعنی قومی پرچم کی علمبرداری۔ یہ بنو اُمیہ کا کام تھا۔
۶۔ قبہ … یعنی فوجی کیمپ کا انتظام اور شہسواروں کی قیادت۔ یہ بنو مخزوم کے حصے میں آیا تھا۔
۷۔ سفارت … بنو عدی کا منصب تھا۔
بقیہ عرب سرداریاں:
ہم پچھلے صفحات میں قحطانی اور عدنانی قبائل کے ترک وطن کا ذکر کر چکے ہیں اور بتلا چکے ہیں کہ پورا ملک عرب ان قبائل کے درمیان تقسیم ہو گیا تھا۔
اس کے بعد ان کی امارتوں اور سرداریوں کا نقشہ کچھ یوں تھا کہ جو قبائل حیرہ کے ارد گرد آباد تھے انہیں حکومت حیرہ کے تابع مانا گیا۔ اور جن قبائل نے بادیة الشّام میں سکونت اختیار کی تھی انہیں غسّانی حکمرانوں کے تابع قرار دیا گیا‘ مگر یہ ماتحتی صرف نام کی تھی، عملاً نہ تھی۔ ان دو مقامات کو چھوڑ کر اندرون عرب آباد قبائل بہر طور آزاد تھے۔

ان قبائل میں سرداری نظام رائج تھا۔ قبیلے خود اپنا سردار مقرر کرتے تھے۔ اور ان سرداروں کے لیے ان کا قبیلہ ایک مختصر سی حکومت ہوا کرتا تھا۔ سیاسی وجود و تحفظ کی بنیاد قبائلی وحدت پر مبنی عصبیت اور اپنی سرزمین کی حفاظت و دفاع کے مشترکہ مفادات تھے۔
قبائلی سرداروں کا درجہ اپنی قوم میں بادشاہوں جیسا تھا، قبیلہ صلح و جنگ میں بہرحال اپنے سردار کے فیصلے کے تابع ہوتا تھا اور کسی حال میں اس سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتا تھا۔
سردار کو وہی مطلق العنانی اور استبداد حاصل تھا جو کسی ڈکٹیٹر کو حاصل ہوا کرتا ہے حتیٰ کہ بعض سرداروں کا یہ حال تھا کہ اگر وہ بگڑ جاتے تو ہزاروں تلواریں یہ پوچھے بغیر بے نیام ہو جاتیں کہ سردار کے غصّے کا سبب کیا ہے۔
تاہم چونکہ ایک ہی کنبے کے چچیرے بھائیوں میں سرداری کے لیے کشاکش بھی ہوا کرتی تھی اس لیے اس کا تقاضا تھا کہ سردار اپنے قبائلی عوام کے ساتھ رواداری برتے، خوب مال خرچ کرے، مہمان نوازی میں پیش پیش رہے، کرم و بردباری سے کام لے، شجاعت کا عملی مظاہرہ کرے اور غیرت مندانہ اُمور کی طرف سے دفاع کرے تاکہ لوگوں کی نظر میں عموماً، اور شعراء کی نظر میں خصوصاً خوبی و کمالات کا جامع بن جائے (کیونکہ شعراء اس دور میں قبیلے کی زبان ہوا کرتے تھے) اور اس طرح سردار اپنے مدمقابل حضرات سے بلند و بالا درجہ حاصل کر لے۔

سرداروں کے کچھ مخصوص اور امتیازی حقوق بھی ہوا کرتے تھے جنہیں ایک شاعر نے یوں بیان کیا ہے:
ترجمہ:
”ہمارے درمیان تمہارے لیے مال غنیمت کا چوتھائی ہے اور منتخب مال ہے اور وہ مال ہے جس کا تم فیصلہ کر دو اور جو سرِ راہ ہاتھ آ جائے۔ اور جو تقسیم سے بچ رہے۔“
سیاسی حالات:
جزیرة العرب کی حکومتوں اور حکمرانوں کا ذکر ہو چکا، بے جا نہ ہوگا کہ اب ان کے کسی قدر سیاسی حالات بھی ذکر کر دئیے جائیں۔

جزیرة العرب کے وہ تینوں سرحدی علاقے جو غیر ممالک کے پڑوس میں پڑتے تھے ان کی سیاسی حالت سخت اضطراب و انتشار اور انتہائی زوال و انحطاط کا شکار تھی۔ انسان، مالک اور غلام یا حاکم اور محکوم کے دو طبقوں میں بٹا ہوا تھا۔ سارے فوائد سربراہوں… اور خصوصاً غیر ملکی سربراہوں کو حاصل تھے اور سارا بوجھ غلاموں کے سر تھا۔ اسے زیادہ واضح الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ رعایا درحقیقت ایک کھیتی تھی جو حکومت کے لیے محاصل اور آمدنی فراہم کرتی تھی اور حکومتیں اسے لذتوں، شہوتوں، عیش رانی اور ظلم و جور کے لیے استعمال کرتی تھیں۔
اور ان پر ہر طرف سے ظلم کی بارش ہو رہی تھی، مگر وہ حرف شکایت زبان پر نہ لا سکتے تھے۔ بلکہ ضروری تھا کہ طرح طرح کی ذلت و رسوائی اور ظلم و چیرہ دستی برداشت کریں اور زبان بند رکھیں، کیونکہ جبر و استبداد کی حکمرانی تھی اور انسانی حقوق نام کی کسی چیز کا کہیں کوئی وجود نہ تھا، ان علاقوں کے پڑوس میں رہنے والے قبائل تذبذب کا شکار تھے، انہیں اغراض و خواہشات اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اَدھر پھینکتی رہتی تھیں۔
کبھی وہ عراقیوں کے ہمنوا ہو جاتے تھے اور کبھی شامیوں کی ہاں میں ہاں ملاتے تھے۔ جو قبائل اندرون عرب آباد تھے ان کے بھی جوڑ ڈھیلے اور شیرازہ منتشر تھا۔ ہر طرف قبائلی جھگڑوں، نسلی فسادات اور مذہبی اختلافات کی گرم بازاری تھی، جس میں ہر قبیلے کے افراد ہر صورت اپنے اپنے قبیلے کا ساتھ دیتے تھے خواہ وہ حق پر ہو یا باطل پر۔ چنانچہ ان کا ترجمان کہتا ہے:
ترجمہ:
”میں بھی تو قبیلہ غزیہ ہی کا ایک فرد ہوں۔
اگر وہ غلط راہ پر چلے گا تو میں بھی غلط راہ پر چلوں گا اور اگر وہ صحیح راہ پر چلے گا تو میں بھی صحیح راہ پر چلوں گا۔“
اندرون عرب کوئی بادشاہ نہ تھا جو ان کی آواز کو قوت پہنچاتا اور نہ کوئی مرجع ہی تھا جس کی طرف مشکلات و شدائد میں رجوع کیا جاتا اور جس پر وقت پڑنے پر اعتماد کیا جاتا۔
ہاں حجاز کی حکومت کو قدر و احترام کی نگاہ سے یقینا دیکھا جاتا تھا اور اسے مرکز دین کا قائد و پاسبان بھی تصور کیا جاتا تھا۔
یہ حکومت درحقیقت ایک طرح کی دنیوی قیادت اور دینی پیشوائی کا معجون مرکب تھی۔ اسے اہل عرب پر دینی پیشوائی کے نام سے بالادستی حاصل تھی اور حرم اور اطراف حرم پر اس کی باقاعدہ حکمرانی تھی، وہی زائرین بیت اللہ کی ضروریات کا انتظام اور شریعت ابراہیمی کے احکام کا نفاذ کرتی تھی اور اس کے پاس پارلیمانی اداروں جیسے ادارے اور تشکیلات بھی تھیں۔ لیکن یہ حکومت اتنی کمزور تھی کہ اندرون عرب کی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کی طاقت نہ رکھتی تھی جیسا کہ حبشیوں کے حملے کے موقع پر ظاہر ہوا۔

(مزید آگے پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

(پچھلا مضمون پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

Your Thoughts and Comments