Ar-raheeq Al-makhtoom ...... Arab Ka Mohal Le Waqoo Aor QaomeN

الرحیق المختوم، عرب کا محل وقوع اور قومیں

جزیزہ نمائے عرب طبعی اور جغرافیائی حیثیت سے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اندرونی طور پر یہ ہر چہار جانب سے صحرا اور ریگستان سے گھرا ہوا ہے جس کی بدولت یہ ایک محفوظ قلعہ بن گیا ہے

Ar-raheeq al-makhtoom ...... Arab ka mohal le waqoo aor qaomeN

سیرت نبوی درحقیقت اس پیغام ربانی کے عملی پرتَو سے عبارت ہے جسے رسُول اللہ ﷺ نے انسانی جمعیت کے سامنے پیش کیا تھا۔ اور جس کے ذریعے انسان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں اور بندوں کی بندگی سے نکال کر خدا کی بندگی میں داخل کر دیا تھا۔ چونکہ اس سیرتِ طیبہ کی مکمل صورت گری ممکن نہیں جب تک کہ اس پیغامِ ربانی کے نزول سے پہلے کے حالات اور بعد کے حالات کا تقابل نہ کیا جائے، اس لیے اصل بحث سے پہلے پیش نظر باب میں اسلام سے پہلے کی عرب اقوام اور ان کے نشوونما کی کیفیت بیان کرتے ہوئے ان حالات کا خاکہ پیش کیا جارہا ہے جن میں رسُول اللہ ﷺ کی بعثت ہُوئی تھی۔


عرب کا محل وقوع
لفظ عرب کے لغوی معنی ہیں صحرا اور بے آب و گیاہ زمین۔ عہدِ قدیم سے یہ لفظ جزیزہ نمائے عرب اور اس میں بسنے والی قوموں پر بولا گیا ہے۔

عرب کے مغرب میں بحر احمر اور جزیرہ نمائے سینا ہے۔ مشرق میں خلیج عرب اور جنوبی عراق کا ایک بڑا حصہ ہے۔ جنوب میں بحر عرب ہے جو درحقیقت بحر ہند کا پھیلاؤ ہے۔ شمال میں ملک شام اور کسی قدر شمالی عراق ہے۔

ان میں سے بعض سرحدوں کے متعلق اختلاف بھی ہے۔ کُل رقبے کا اندازہ دس لاکھ سے تیرہ لاکھ مربع میل تک کیا گیا ہے۔
جزیزہ نمائے عرب طبعی اور جغرافیائی حیثیت سے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اندرونی طور پر یہ ہر چہار جانب سے صحرا اور ریگستان سے گھرا ہوا ہے جس کی بدولت یہ ایسا محفوظ قلعہ بن گیا ہے کہ بیرونی قوموں کے لیے اس پر قبضہ کرنا اور اپنا اثرونفوذ پھیلانا سخت مشکل ہے، یہی وجہ ہے کہ قلب جزیرہ العرب کے باشندے عہد قدیم سے اپنے جملہ معاملات میں مکمل طور پر آزاد و خود مختار نظر آتے ہیں حالانکہ یہ ایسی دو عظیم طاقتوں کے ہمسایہ تھے کہ اگر یہ ٹھوس قدرتی رکاوٹ نہ ہوتی تو ان کے حملے روک لینا باشندگانِ عرب کے بس کی بات نہ تھی۔

بیرونی طور پر جزیرہ نمائے عرب پرانی دنیا کے تمام معلوم براعظموں کے بیچ واقع ہے اور خشکی اور سمندر دونوں راستوں سے ان کا ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اس کا شمال مغربی گوشہ، براعظم افریقہ میں داخلے کا دروازہ ہے۔ شمال مشرقی گوشہ یورپ کی کنجی ہے۔ مشرقی گوشہ ایران، وسط ایشیا اور مشرق بعید کے دروازے کھولتا ہے، اور ہندوستان اور چین تک پہنچاتا ہے، اس طرح ہر براعظم سمندر کے راستے بھی جزیرہ نمائے عرب سے جڑا ہوا ہے اور ان کے جہاز عرب بندرگاہوں پر براہ راست لنگر انداز ہوتے ہیں۔
اس جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے جزیرہ العرب کے شمالی اور جنوبی گوشے مختلف قوموں کی آماجگاہ اور تجارت و ثقافت اور فنون و مذاہب کے لین دین کا مرکز رہ چکے ہیں۔
عرب قومیں
موٴرخین نے نسلی اعتبار سے عرب اقوام کی تین قسمیں قرار دی ہیں:
(۱) عرب بائدہ۔۔۔ یعنی وہ قدیم عرب قبائل اور قومیں جو بالکل ناپید ہوگئیں اور ان کے متعلق ضروری تفصیلات بھی دستیاب نہیں۔
مثلاً عاد، ثمود، طَم، جدیس، عَمَالِقَہ وغیرہ۔
(۲) عرب عَارِبَہ ۔۔۔۔ یعنی وہ عرب قبائل جو یَعرُب بن یشجب بن قحطان کی نسل سے ہیں، انہیں قحطانی عرب کہا جاتا ہے۔
(۳) عرب مُستَعربہ۔۔۔۔ یعنی وہ عرب قبائل جو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے ہیں، انہیں عدنانی عرب کہا جاتا ہے۔
عرب عاربہ: یعنی قحطانی عرب کا اصل گہوارہ ملک یمن تھا۔
یہیں ان کے خاندان اور قبیلے مختلف شاخوں میں پھوٹے، پھیلے اور بڑھے۔ ان میں سے دو قبیلوں نے بڑی شہرت حاصل کی:
(الف) حِمیْرِ۔۔۔۔ جس کی مشہور شاخیں زید الجہمور، قُضَاعہ اور سَکَاسِک ہیں
(ب) کہلان ۔۔۔۔۔ جس کی مشہور شاخیں ہمدان، اَنْمَار، طَیْ، مَذْحِجْ، کِنْدہَ، لَخْمَ، جُذَّامْ، اَزْدْاَوسْ، خَزْرَج اور اولاد جفنہ ہیں، جنہوں نے آگے چل کر ملک شام کے اطراف میں بادشاہت قائم کی اور آلِ غسّان کے نام سے مشہور ہوئے۔

عام کہلانی قبائل نے بعد میں یمن چھوڑ دیا اور جزیرة العرب کے مختلف اطراف میں پھیل گئے۔ ان کے عمومی ترکِ وطن کا واقعہ سیل عَرِم سے کسی قدر پہلے اس وقت پیش آیا جب رومیوں نے مصر و شام پر قبضہ کرکے اہل یمن کی تجارت کے بحری راستے پر اپنا تسلط جما لیا، اور بَرّی شاہراہ کی سہولیات غارت کر کے اپنا دباؤ اس قدر بڑھا دیا کہ کہلانیوں کی تجارت تباہ ہو کر رہ گئی۔

کچھ عجیب نہیں کہ کہلانی اور حِمیرَی خاندانوں میں چشمک بھی رہی ہو اور یہ بھی کہلانیوں کے ترکِ وطن کا ایک موٴثر سبب بنی ہو۔ اس کا اشارہ اس سے بھی ملتا ہے کہ کہلانی قبائل نے تو ترکِ وطن کیا لیکن حمیری قبائل اپنی جگہ برقرار رہے۔
جن کہلانی قبائل نے ترکِ وطن کیا ان کی چار قسمیں کی جاسکتی ہیں:
اَزْد۔۔۔۔ انہوں نے اپنے سردار عمران بن عمرو مزیقیاء کے مشورے پر ترکِ وطن کیا۔
پہلے تو یمن ہی میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہے اور حالات کا پتہ لگانے کے لیے آگے آگے ہراول دستوں کو بھیجتے رہے لیکن آخرکار شمال کا رُخ کیا اور پھر مختلف شاخیں گھومتے گھماتے مختلف جگہ دائمی طور پر سکونت پذیر ہوگئیں۔ اس کی تفصیل درج ذیل ہے:
ثَعْلَبہ بن عَمرْو:
اس نے اوّلاً حجاز کا رخ کیا اور ثعلبیہ اور ذی قار کے درمیان اقامت اختیار کی۔
جب اس کی اولاد بڑی ہوگئی اور خاندان مضبوط ہوگیا تو مدینہ کی طرف کوچ کیا اور اسی کو اپنا وطن بنا لیا۔ اسی ثعلبہ کی نسل سے اَوْس اور خَزْرَج ہیں جو ثعلبہ کے صاحبزادے حارثہ کے بیٹے ہیں۔
حارثہ بن عَمْرو:
یعنی خُزاعہ اور اس کی اولاد یہ لوگ پہلے سرزمین حجاز میں گردش کرتے ہُوئے مَرّالظَّہْران میں خیمہ زن ہوئے، پھر حرم پر دھاوا بول دیا اور بَنُوجُرْہُمْ کو نکال کہ خود مکہ میں بودوباش اختیار کر لی۔

عمران بن عَمْرو:
اس نے اور اس کی اولاد نے عمان میں سکونت اختیار کی اس لیے یہ لوگ ازدعمان کہلاتے ہیں۔
نصر بن ازد:
اس سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے تمامہ میں قیام کیا۔ یہ لوگ اَزْدَ شَنُوْءَ ة کہلاتے ہیں۔
حفة بن عَمرْو:
اس نے ملک شام کا رخ کیا اور اپنی اولاد سمیت وہیں متوطن ہوگیا، یہی شخص غَسّانی بادشاہوں کا جَدِ اعلیٰ ہے۔
انہیں آلِ غَسَّان اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان لوگوں نے شام منتقل ہونے سے پہلے حجاز میں غَسَّان نامی ایک چشمے پر کچھ عرصہ قیام کیا تھا۔
لخم و جذّام:
ان ہی لخمیوں میں نصر بن ربیعہ تھا جو حیرہ کے شاہانِ آل مُنْذِر کا جدِ اعلیٰ ہے۔
بنوطَی:
اس قبیلے نے بنو اَزد کے ترکِ وطن کے بعد شمال کا رخ کیا اور اجاء اور سلمیٰ نامی دو پہاڑوں کے اطراف میں مستقل طور پر سکونت پذیر ہو گیا، یہاں تک کہ یہ دونوں پہاڑیاں قبیلہ طی کی نسبت سے مشہور ہو گئیں۔

کِندْہ:
یہ لوگ پہلے بحرین … موجودہ اَلْاَحْسَاء … میں خیمہ زن ہوئے لیکن مجبوراً وہاں سے دست کش ہو کر حَضْر مُوْت گئے۔ مگر وہاں بھی امان نہ ملی اور آخر کار نجد میں ڈیرے ڈالنے پڑے۔
یہاں ان لوگوں نے ایک عظیم الشان حکومت کی داغ بیل ڈالی۔ مگر یہ حکومت پائیدار نہ ثابت ہوئی اور اس کے آثار جلد ہی ناپید ہو گئے۔

کہلان کے علاوہ حمیر کا بھی ایک صرف قبیلہ قضاعہ ایسا ہے … اور اس کا حمیری ہونا بھی فیہ ہے … جس نے یمن سے ترکِ وطن کر کے حدود عراق میں بادیة السماوہ کے اندر بودوباش اختیار کی۔
(ان قبائل کی اور ان کے ترک وطن کی تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو، محاضرات تاریخ الامم الاسلامیہ للخضری ۱/۱۱-۱۳،قلب جزیرہ العرب ص۲۳۱- ۲۳۵، ترک وطن کے ان واقعات کے زمانہ اور اسباب کے تعین میں تاریخی مآخذ کے درمیان بڑا سخت اختلاف ہے۔
ہم نے مختلف پہلووٴں پر غور کر کے جو بات راجح محسوس کی اسے درج کر دیا ہے۔)
عرب مُسْتَعْربہ۔۔۔ ان کے جدِ اعلیٰ سیدنا ابراہیم علیہ السلام اصلاً عراق کے ایک شہر اُوْر کے باشندے تھے۔ یہ شہر دریائے فرات کے مغربی ساحل پر کوفے کے قریب واقع تھا۔ اس کی کھدائی کے دوران جو کتبات برآمد ہوئے ہیں ان سے اس شہر کے متعلق بہت سی تفصیلات منظر عام پر آئی ہیں۔
اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خاندان کی بعض تفصیلات اور باشندگان ملک کے دینی اور اجتماعی حالات سے بھی پردہ ہٹا ہے۔
یہ معلوم ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام یہاں سے ہجرت کر کے شہر خران تشریف لے گئے تھے اور پھر وہاں سے فلسطین جاکر اسی ملک کو اپنی پیغمبرانہ سرگرمیوں کا مرکز بنا لیا تھااور دعوت تبلیغ کے لیے یہیں سے اندرون و بیرون ملک مصروف تگ و تاز رہا کرتے تھے۔
ایک بار آپ مصر تشریف لے گئے۔ فرعون نے آپ کی بیوی حضرت سارہ علیہ السلام کی کیفیت سنی تو ان کے بارے میں بدنیت ہو گیا اور اپنے دربار میں بُرے ارادے سے بلایا لیکن اللہ نے حضرت سارہ علیہ السلام کی دعا کے نتیجے میں غیبی طور پر فرعون کی ایسی گرفت کی کہ وہ ہاتھ پاؤں مارنے اور پھینکنے لگا۔ اس کی نیت بد اس کے منہ پر مار دی گئی اور وہ حادثے کی نوعیت سے سمجھ گیا کہ حضرت سارہ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی نہایت خاص اور مقرب بندی ہیں اور وہ حضرت سارہ علیہ السلام کی اس خصوصیت سے اس قدر متاثر ہوا کہ اپنی بیٹی ہاجرہ علیہ السلام ( مشہور ہے کہ حضرت ہاجرہ علیہ السلام لونڈی تھیں لیکن علامہ منصور پوری نے مفصل تحقیق کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ لونڈی نہیں بلکہ آزاد تھیں اور فرعون کی بیٹی تھیں۔
دیکھیے رحمتہ للعالمین ۲/۳۶-۳۷) کو ان کی خدمت میں دے دیا۔ پھر حضرت سارہ علیہ السلام نے حضرت ہاجرہ علیہ السلام کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زوجیت میں دے دیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت سارہ علیہ السلام، حضرت ہاجرہ علیہ السلام کو ہمراہ لے کر فلسطین واپس تشریف لائے، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ہاجرہ علیہ السلام کے بطن سے ایک فرزندِ ارجمند … اسماعیل علیہ السلام… عطا فرمایا لیکن اس پر حضرت سارہ علیہ السلام کو، جو بے اولاد تھیں، بڑی غیرت آئی اور انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مجبور کیا کہ حضرت ہاجرہ علیہ السلام کو ان کے نوازئیدہ بچے سمیت جلا وطن کر دیں۔
حالات نے ایسا رُخ اختیار کیا کہ انہیں حضرت سارہ علیہ السلام کی بات ماننی پڑی۔ اور وہ حضرت ہاجرہ علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ہمراہ لے کر حجاز تشریف لے گئے اور وہاں ایک بے آب و گیاہ وادی میں بیت اللہ شریف کے قریب ٹھہرا دیا، اُس وقت بیت اللہ شریف نہ تھا، صرف ٹیلے کی طرح اُبھری ہوئی زمین تھی، سیلاب آتا تھا تو دائیں بائیں سے کترا کر نکل جاتا تھا۔
وہیں مسجد حرام کے بالائی حصے میں زَمْزَم کے پاس ایک بہت بڑا درخت تھا۔ آپ نے اُسی درخت کے پاس حضرت ہاجرہ علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو چھوڑا تھا۔ اس وقت مکہ میں نہ پانی تھا نہ آدم اور آدم زاد۔ اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک توشہ دان میں کھجور اور ایک مشکیزے میں پانی رکھ دیا۔ اس کے بعد فلسطین واپس چلے گئے لیکن چند ہی دن میں کھجور اور پانی ختم ہو گیا اور سخت مشکل پیش آئی، مگر اس مشکل وقت پر اللہ کے فضل سے زَمزَم کا چشمہ پھوٹ پڑا اور ایک عرصہ تک کے لیے سامانِ رزق اور متاعِ حیات بن گیا۔
تفصیلات معلوم و معروف ہیں۔ کچھ عرصے بعد یمن سے ایک قبیلہ آیا، جسے تاریخ میں جَرْہم ثانی کہا جاتا ہے۔ یہ قبیلہ اسماعیل علیہ السلام کی ماں سے اجازت لے کر مکہ میں ٹھہر گیا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ قبیلہ پہلے مکہ کے گرد و پیش کی وادیوں میں سکونت پذیر تھا۔ صحیح بخاری میں اتنی صراحت موجود ہے کہ (رہائش کی غرض سے) یہ لوگ مکہ میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی آمد کے بعد اور ان کے جوان ہونے سے پہلے وارد ہوئے تھے۔
لیکن اس وادی سے ان کا گذر اس سے پہلے بھی ہوا کرتا تھا، حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے متروکات کی نگہداشت کے لیے وقتاً فوقتاً مکہ تشریف لایا کرتے تھے۔ لیکن یہ معلوم نہ ہو سکا کہ اس طرح ان کی آمد کتنی بار ہوئی۔ البتہ تاریخی مآخذ میں چار بار ان کی آمد کی تفصیل محفوظ ہے، جو یہ ہے:
۱۔ قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں دکھلایا کہ وہ اپنے صاحبزادے (حضرت اسماعیل علیہ السلام) کو ذبح کر رہے ہیں۔
یہ خواب ایک طرح کا حکمِ الٰہی تھا اور باپ بیٹے دونوں اس حکمِ الٰہی کی تعمیل کے لیے تیار ہو گئے۔ اور جب دونوں نے سر تسلیم خم کر دیا اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بَل لٹا دیا تو اللہ نے پکارا ”اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچ کر دکھایا۔ ہم نیکو کاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ یقینا یہ ایک کھلی ہوئی آزمائش تھی اور اللہ نے انہیں فدیے میں ایک عظیم ذبیحہ عطا فرمایا۔

مجموعہ بائبل کی کتاب پیدائش میں مذکور ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام حضرت اسحاق علیہ السلام سے تیرہ سال بڑے تھے اور قران کا سیاق بتلاتا ہے کہ یہ واقعہ حضرت اسحاق علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے پیش آیا تھا۔ کیونکہ پورا واقعہ بیان کر چکنے کے بعد حضرت اسحاق علیہ السلام کی پیدائش کی بشارت کا ذکر ہے۔
اس واقعے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے جوان ہونے سے پہلے کم از کم ایک بار حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کا سفر ضرور کیا تھا۔
بقیہ تین سفروں کی تفصیل صحیح بخاری کی ایک طویل روایت میں ہے جو ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے:
۲۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام جب جوان ہو گئے، جُرہْم سے عربی سیکھ لی اور ان کی نگاہوں میں جچنے لگے تو ان لوگوں نے اپنے خاندان کی ایک خاتون سے آپ علیہ السلام کی شادی کر دی۔ اسی دوران حضرت ہاجرہ علیہ السلام کا انتقال ہو گیا۔
ادھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خیال ہوا کہ اپنا ترکہ دیکھنا چاہیے۔ چنانچہ وہ مکہ تشریف لے گئے، لیکن حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ملاقات نہ ہوئی۔ بہو سے حالات دریافت کئے۔ اس نے تنگ دستی کی شکایت کی۔ آپ علیہ السلام نے وصیت کی کہ اسماعیل علیہ السلام آئیں تو کہنا اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل دیں۔ اس وصیت کا مطلب حضرت اسماعیل علیہ السلام سمجھ گئے، بیوی کو طلاق دے دی اور ایک دوسری عورت سے شادی کر لی جو جُرہُم کے سردار مضاض بن عَمرو کی صاحبزادی تھی۔

۳۔ اس دوسری شادی کے بعد ایک بار پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام مکہ تشریف لے گئے مگر اس دفعہ بھی حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ملاقات نہ ہوئی۔ بہو سے احوال دریافت کیے تو اس نے اللہ کی حمد و ثناء کی۔ آپ نے وصیت کی کہ اسماعیل علیہ السلام اپنے دروازے کی چوکھٹ برقرار رکھیں اور فلسطین واپس ہو گئے۔
۴۔ اس کے بعد پھر تشریف لائے تو اسماعیل علیہ السلام زَمزم کے قریب درخت کے نیچے تیر گھڑ رہے تھے، دیکھتے ہی لپک پڑے اور وہی کیا جو ایسے موقع پر ایک باپ اپنے بیٹے کے ساتھ اور بیٹا باپ کے ساتھ کرتا ہے۔
یہ ملاقات اتنے طویل عرصے کے بعد ہوئی تھی کہ ایک نرم دل اور شفیق باپ اپنے بیٹے سے اور ایک اطاعت شعار بیٹا اپنے باپ سے مشکل ہی اتنی لمبی جدائی برداشت کر سکتا ہے۔ اسی دفعہ دونوں نے مل کر خانہ کعبہ تعمیر کیا۔ بنیاد کھود کر دیواریں اٹھائیں اور ابراہیم علیہ السلام نے ساری دنیا کے لوگوں کو حج کے لیے آواز دی۔
اللہ تعالیٰ نے مضاض کی صاحبزادی سے اسماعیل علیہ السلام کو بارہ بیٹے عطا فرمائے۔
جن کے نام یہ ہیں: نابت یا نبایوط، قیدار، ادبائیل، مبشام، مشماع، دوما، میشا، حدد، تیما، یطور، نفیس، قیدمان۔
ان بارہ بیٹوں سے بارہ قبیلے وجود میں آئے اور سب نے مکہ ہی میں بودوباش اختیار کی۔ ان کی معیشت کا دارومدار زیادہ تر یمن اور مصر و شام کی تجارت پر تھا۔ بعد میں یہ قبائل جزیرة العرب کے مختلف اطراف میں … بلکہ بیرون عرب بھی … پھیل گئے اور ان کے حالات زمانے کی دبیز تاریکیوں میں دب کر رہ گئے۔
صرف نَابِتْ اور قَیْدار کی اولاد اس گمنامی سے مستثنیٰ ہیں۔
نبطیوں کے تمدن کو شمالی حجاز میں فروغ اور عروج حاصل ہوا۔ انہوں نے ایک طاقتور حکومت قائم کر کے گرد و پیش کے لوگوں کو اپنا باج گذار بنا لیا۔ بَطْراء ان کا دارالحکومت تھا، کسی کو ان کے مقابلے کی تاب نہ تھی۔ پھر رومیوں کا دور آیا اور انہوں نے نبیطوں کو قصہ پارینہ بنا دیا۔
مولانا سیّد سلیمان ندوی رحمتہ اللہ نے ایک دلچسپ بحث اور گہری تحقیق کے بعد ثابت کیا ہے کہ آلِ غسان اور انصار یعنی اَوس و خَزْرج قحطانی عرب نہ تھے۔ بلکہ اس علاقے میں نابت بن اسماعیل علیہ السلام کی جو نسل بچی کچھی رہ گئی تھی وہی تھے۔
قیدار بن اسماعیل علیہ السلام کی نسل مکہ ہی میں پھیلتی رہی یہاں تک کہ عدنان اور پھر ان کے بیٹے معد کا زمانہ آ گیا۔
عدنانی عرب کا سلسلہ نسب صحیح طور پر یہیں تک محفوظ ہے۔
عدنان، نبی ﷺ کے سلسلہ نسب میں اکیسویں پشت پر پڑتے ہیں، بعض روایتوں میں بیان کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ جب اپنا سلسلہ نسب ذکر فرماتے تو عدنان پر پہنچ کر رک جاتے اور آگے نہ بڑھتے۔ فرماتے کہ ماہرینِ انساب غلط کہتے ہیں۔ مگر علماء کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ عدنان سے آگے بھی نسب بیان کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔ ان کی تحقیق کے مطابق عدنان اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے درمیان چالیس پشتیں ہیں۔
بہرحال مَعَدّ کے بیٹے نَزَار سے … جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان کے علاوہ مَعَد کی کوئی اولاد نہ تھی … کئی خاندان وجود میں آئے۔ درحقیقت نزار کے چار بیٹے تھے اور ہر بیٹا ایک بڑے قبیلے کی بنیاد ثابت ہوا۔
چاروں کے نام یہ ہیں: اِیَاد، انْماَر، ربْیعَہ اور مُضَر، ان میں سے موٴخر الذکر دو قبیلوں کی شاخیں اور شاخوں کی شاخیں بہت زیادہ ہوئیں۔ چنانچہ رَبِیْعَہ سے اسد بن ربیعہ، غزہ، عبدالقیس، وائل، بکر، تَغْلب اور بنو حنیفہ وغیرہ وجود میں آئے۔
مُضَر کی اولاد دو بڑے قبیلوں میں تقسیم ہوئی۔
۱۔ قیس عیلان بن مضر…… ۲۔ الیاس بن مضر
قیس عیلان سے بنو سلیم، بنو ہوازِنْ، بنو غطفان، غطفان سے عَبْس، ذُبْیَان …اَشجَع اور غنی بن اَعْصُرْ کے قبائل وجود میں آئے۔

الیاس بن مضر سے تمیم بن مرہ، ہُذَیْل بن مدرکہ، بنو اسد بن خُزَیْمہ اور کِنَانہ بن خُزَیْمہ کے قبائل وجود میں آئے۔ پھر کِنَانَہ سے قریش کا قبیلہ وجود میں آیا۔ یہ قبیلہ فِہر بن مالک بن نضر بن کِنَانَہ کی اولاد ہے۔ پھر قریش بھی مختلف شاخوں میں تقسیم ہوئے۔ مشہور قریشی شاخوں کے نام یہ ہیں: جمح، سَہْم، عَدِی، مخزوم، تَیم، زُہرہ اور قُصَیّ بن کلاب کے خاندان۔
یعنی عبدالدار، اسد بن عبدالعزی اور عبدِمناف یہ تینوں قُصِی کے بیٹے تھے۔ ان میں عبدِ مناف کے چار بیٹے ہوئے، جن سے چار ذیلی قبیلے وجود میں آئے، یعنی عبدِشمس، نَوفل، مُطَّلِب اور ہاشم، انہیں ہاشم کی نسل سے اللہ تعالیٰ نے ہمارے حضور محمد کا انتخاب فرمایا۔
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے اسماعیل علیہ السلام کا انتخاب فرمایا، پھر اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو منتخب کیا اور کنانہ کی نسل سے قریش کو چنا، پھر قریش میں سے بنو ہاشم کا انتخاب کیا اور ہاشم میں سے میرا انتخاب کیا۔

ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے خلق کی تخلیق فرمائی تو مجھے سب سے اچھے گروہ میں بنایا‘ پھر ان کے بھی دو گروہوں میں سے زیادہ اچھے گروہ کے اندر رکھا، پھر قبائل کو چنا تو مجھے سب سے اچھے قبیلے کے اندر بنایا‘ پھر گھرانوں کو چنا مجھے سب سے اچھے گھرانے میں بنایا‘ لہٰذا میں اپنی ذات کے اعتبار سے بھی سب سے اچھا ہوں‘ اور اپنے گھرانے کے اعتبار سے بھی سب سے بہتر ہوں۔

بہرحال عدنان کی نسل جب زیادہ بڑھ گئی تو وہ چارے پانی کی تلاش میں عرب کے مختلف اطراف میں بکھر گئی چنانچہ قبیلہ عبدالقیس نے، بکر بن وائل کی کئی شاخوں نے اور بنو تمیم کے خاندانوں نے بحرین کا رُخ کیا اور اسی علاقے میں جا بسے۔ بنو حنفیہ بن صعب بن علی بن بکر نے یَمامَہ کا رُخ کیا اور اس کے مرکز حجر میں سکونت پذیر ہو گئے۔ بکر بن وائل کی بقیہ شاخوں نے یمامہ سے لے کر بحرین، ساحل کاظمہ، خلیج، سوادِ عراق، اُبُلَّہ اور ہِیت تک کے علاقوں میں بودوباش اختیار کی۔

بنو تَغْلب جزیرہ فراتیہ میں اقامت گزیں ہوئے۔ البتہ ان کی بعض شاخوں نے بنو بکر کے ساتھ سکونت اختیار کی۔
بنو تمیم نے بادیہ بصرہ کو اپنا وطن بنایا۔
بنو سُلَیْم نے مدینہ کے قریب ڈیرے ڈالے۔ ان کا مسکن وادی القری سے شروع ہو کر خیبر اور مدینہ کے مشرق سے گذرتا ہوا حرہ بنو سُلَیْم سے متصل دو پہاڑیوں تک منتہی ہوتا تھا۔
بنو ثقیف نے طائف کو وطن بنا لیا اور بنو ہَوَازِن نے مکہ کے مشرق میں وادی اَوْطاس کے گردوپیش ڈیرے ڈالے، ان کا مسکن مکہ … بصرہ شاہراہ پر واقع تھا۔

بنو اسد تَیمْاء کے مشرق اور کوفہ کے مغرب میں خیمہ زن ہوئے۔ ان کے اور تَیْماَء کے درمیان بنوطی کا ایک خاندان بحتر آباد تھا۔ بنو اسد کی آبادی اور کوفے کے درمیان پانچ دن کی مسافت تھی۔
بنو ذِبْیان تیماء کے قریب حَوْرَان کے اطراف میں آباد ہوئے۔
تِہامہ میں بُنو کَنانَہ کے خاندان رہ گئے تھے۔ ان میں سے قریشی خاندان کی بودوباش مکہ اور اس کے اطراف میں تھی۔ یہ لوگ پراگندہ تھے، ان کی کوئی شیرازہ بندی نہ تھی تا آنکہ قُصَیّ بن کلاب ابھر کر منظر عام پر آیا، اور قریشیوں کو متحد کر کے شرف و عزت اور بلندی و وقار سے بہرہ ور کیا۔

(آگے پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

Your Thoughts and Comments