Ar-raheeq Al-makhtoom ...... Daawat Kay Adwaar O Marahil

الرحیق المختوم، دعوت کے ادوار و مراحل

یہ بالکل فطری بات تھی کہ رسول اللہﷺ سب سے پہلے ان لوگوں پر اسلام پیش کرتے جن سے آپﷺ کا سب سے گہرا ربط و تعلق تھا

Ar-raheeq al-makhtoom ...... Daawat kay adwaar o marahil

ہم نبیﷺ کی پیغمبرانہ زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں، جو ایک دوسرے سے مکمل طور پر نمایاں اور ممتاز تھے۔ وہ دونوں حصے یہ ہیں:
۱۔ مکی زندگی ۔۔۔۔ تقریباً تیرہ سال
۲۔ مدنی زندگی ۔۔۔۔ دس سال
پھر ان میں سے ہر حصہ کئی مرحلوں پر مشتمل ہے اور یہ مرحلے بھی اپنی خصوصیات کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف اور ممتاز ہیں، اس کا اندازہ آپﷺ کی پیغمبرانہ زندگی کے دونوں حصوں میں پیش آنے والے مختلف حالات کی گہرائی سے جائزہ لینے کے بعد ہوسکتا ہے۔


مکی زندگی تین مرحلوں پرمشتمل تھی:
۱۔ پس پردہ دعوت کا مرحلہ ۔۔۔۔۔ تین برس
۲۔ اہل مکہ میں کھلم کھلا دعوت تبلیغ کا مرحلہ ۔۔۔ چوتھے سال نبوت کے آغاز سے دسویں سال کے اواخر تک۔
۳۔ مکہ کے باہر اسلام کی دعوت کی مقبولیت اور پھیلاﺅ کا مرحلہ ۔

۔۔ دسویں سال نبوت کے اواخر سے ہجرت مدینہ تک۔
مدنی زندگی کے مراحل کی تفصیل اپنی جگہ آرہی ہے۔


کاوش تبلیغ
خفیہ دعوت کے تین سال:

یہ معلوم ہے کہ مکہ دین عرب کا مرکز تھا۔ یہاں کعبہ کے پاسبان بھی تھے اور ان بتوں کے نگہبان بھی جنہیں پورا عرب تقدیس کی نظر سے دیکھتا تھا۔ اس لیے کسی دور افتادہ مقام کی بہ نسبت مکہ میں مقصد اصطلاح تک رسائی ذرا زیادہ دشوار تھی۔ یہاں ایسی عزیمت درکار تھی جسے مصائب و مشکلات کے جھٹکے اپنی جگہ سے نہ ہلا سکیں۔
اس کیفیت کے پیش نظر حکمت کا تقاضا تھا کہ پہلے پہل دعوت تبلیغ کا کام پس پردہ انجام دیا جائے تاکہ اہل مکہ کے سامنے اچانک ایک ہیجان خیز صورت حال نہ آ جائے۔
اولین راہروان اسلام:
یہ بالکل فطری بات تھی کہ رسول اللہﷺ سب سے پہلے ان لوگوں پر اسلام پیش کرتے جن سے آپﷺ کا سب سے گہرا ربط و تعلق تھا، یعنی اپنے گھر کے لوگوں اور دوستوں پر چنانچہ آپﷺ نے سب سے پہلے انہیں کو دعوت دی۔
اس طرح آپﷺ نے ابتدا میں اپنی جان پہچان کے ان لوگوں کو حق کی طرف بلایا جن کے چہروں پر آپﷺ بھلائی کے آثار دیکھ چکے تھے اور یہ جان چکے تھے کہ وہ حق اور خیر کو پسند کرتے ہیں، آپ کے صدق و صلاح سے واقف ہیں۔ پھر آپﷺ نے جنہیں اسلام کی دعوت دی ان میں سے ایک ایسی جماعت نے جسے کبھی بھی رسول اللہﷺ کی عظمت جلالت نفس اور سچائی پر شبہ نہ گزرا تھا۔
آپﷺ کی دعوت قبول کر لی۔ یہ اسلامی تاریخ میں سابقین اولین کے وصف سے مشہور ہیں۔ ان میں سرفہرست آپﷺ کی بیوی ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا بنت خویلد، آپﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بن شرجیل کلبی (یہ جنگ میں قید ہو کر غلام بنا لیے گئے تھے۔ بعد میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ان کی مالک ہوئیں اور انہیں رسول اللہﷺ کو ہبہ کر دیا۔
اس کے بعد ان کے والد اور چچا انہیں گھر لے جانے کے لیے آئے لیکن انہوں نے باپ اور چچا کو چھوڑ کر رسول اللہﷺ کے ساتھ رہنا پسند کیا۔ اس کے بعد آپﷺ نے عرب کے دستور کے مطابق انہیں اپنا متصبی یعنی لے پالک بنا لیا اور انہیں زید بن محمد کہا جانے لگا یہاں تک کہ اسلام نے اس رسم کا خاتمہ کر دیا) آپﷺ کے چچیرے بھائی حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ، جو ابھی آپﷺ کے زیر کفالت بچے تھے اور آپﷺ کے یار غار حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں۔
یہ سب کے سب پہلے ہی دن مسلمان ہو گئے تھے۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اسلام کی تبلیغ میں سرگرم ہو گئے۔ وہ بڑے ہر دلعزیز، نرم خو، پسندیدہ خصال کے حامل، بااخلاق اور دریا دل تھے، ان کے پاس ان کی مروت، دور اندیشی، تجارت اور حسن صحبت کی وجہ سے لوگوں کی آمدورفت لگی رہتی تھی چنانچہ انہوں نے اپنے پاس آنے جانے والوں اور اٹھنے بیٹھنے والوں میں سے جس کو قابل اعتماد پایا اسے اب اسلام کی دعوت دینی شروع کر دی۔
ان کی کوشش سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ، حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے۔ یہ بزرگ اسلام کا ہراول دستہ تھے۔
شروع شروع میں جو لوگ اسلام لائے انہی میں حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔ ان کے بعد امین امت حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ، عامر بن جراح رضی اللہ عنہ، ابو سلمہ رضی اللہ عنہ بن عبدالاسد، ارقم رضی اللہ عنہ بن ابی الارقم، عثمان رضی اللہ عنہ بن مظعون اور ان کے دونوں بھائی قدامہ رضی اللہ عنہ اور عبداللہ رضی اللہ عنہ، اور عبیدہ رضی اللہ عنہ بن حارث بن مطلوب بن عبد مناف، سعید رضی اللہ عنہ بن زید، اور ان کی بیوی یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بہن فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت خطاب اور خباب رضی اللہ عنہ بن ارت، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دوسرے کئی افراد مسلمان ہوئے۔
یہ لوگ مجموعی طور پر قریش کی تمام شاخوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ابن ہشام نے ان کی تعداد چالیس سے زیادہ بتائی ہے۔ لیکن ان میں سے بعض کو سابقین اولین میں شمار کرنا محل نظر ہے۔
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ اس کے بعد مرد اور عورتیں اسلام میں جماعت در جماعت داخل ہوئے۔ یہاں تک کہ مکہ میں اسلام کا ذکر پھیل گیا اور لوگوں میں اس کا چرچا ہو گیا۔
یہ لوگ چھپ چھپا کر مسلمان ہوئے تھے اور رسول الہہﷺ بھی چھپ چھپا کر ہی ان کی رہنمائی اور دینی تعلیم کے لیے ان کے ساتھ جمع ہوتے تھے کیونکہ تبلیغ کا کام ابھی تک انفرادی طور پر پس پردہ چل رہا تھا۔
ادھر سورة مدثر کی ابتدائی آیات کے بعد وحی کی آمد پورے تسلسل اور گرم رفتاری کے ساتھ جاری تھی۔ اس دور میں چھوٹی چھوٹی آیتیں نازل ہو رہی تھیں۔ ان آیتوں کا خاتمہ یکساں قسم کے بڑے پرکشش الفاظ پر ہوتا تھا اور ان میں بڑی سکون بخش اور جاذب قلب نغمگی ہوتی تھی جو اس پرسکون او ررقت آمیز فضا کے عین مطابق ہوتی تھی۔ پھر ان آیتوں میں تزکیہ نفس کی خوبیاں اور آلائش دنیا میں لت پت ہونے کی برائیاں بیان کی جاتی تھیں اور جنت و جہنم کا نقشہ اس طرح کھینچا جاتا تھا کہ گویا وہ آنکھوں کے سامنے ہیں۔
یہ آیتیں اہل ایمان کو اس وقت کے انسانی معاشرے سے بالکل الگ ایک دوسری ہی فضا کی سیر کراتی تھیں۔
نماز:
ابتداً جو کچھ نازل ہوا اسی میں نماز کا حکم بھی تھا۔ مُقاتل بن سلیمان کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے ابتدائے اسلام میں دو رکعت صبح اور دو رکعت شام کی نماز فرض کی کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے، ترجمہ: صبح اور شام اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو۔

ابن حجر کہتے ہیں کہ نبیﷺ اور اسی طرح آپﷺ کے صحابہ کرام واقعہ معراج سے پہلے قطعی طور پر نماز پڑھتے تھے۔ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ نماز پنجگانہ سے پہلے کوئی نماز فرض تھی یا نہیں؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سورج کے طلوع اور غروب ہونے سے پہلے ایک ایک نماز فرض تھی۔
حارث رضی اللہ عنہ بن اسامہ نے ابن لہیعہ کے طریق سے موصولاً حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کی ہے کہ رسول اللہﷺ پر ابتداً جب وحی آئی تو آپﷺ کے پاس حضرت جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور آپ کو وضو کا طریقہ سکھایا۔
جب وضو سے فارغ ہوئے تو ایک چلو پانی لیکر شرمگاہ پر چھینٹا مارا۔ ابن ماجہ نے بھی اس مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ براء رضی اللہ عنہ بن عازب اور ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ یہ نماز اولین فرائض میں سے تھی۔
ابن ہشام کا بیان ہے کہ نبیﷺ اور صحابہ کرام نماز کے وقت گھاٹیوں میں چلے جاتے تھے اور اپنی قوم سے چھپ کر نماز پڑھتے تھے۔
ایک بار ابو طالب نے نبیﷺ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھتے دیکھ لیا۔ پوچھا اور حقیقت معلوم ہوئی تو کہا کہ اس پر برقرار رہیں۔
قریش کو ا جمالی خبر:
مختلف واقعات سے ظاہر ہے کہ اس مرحلے میں تبلیغ کا کام اگرچہ انفرادی طور پر چھپ چھپا کر کیا جارہا تھا لیکن قریش کو اس کی سن گن لگ چکی تھی۔ البتہ انہوں نے اسے قابل توجہ نہ سمجھا۔

محمد غزالی رحمتہ اللہ لکھتے ہیں کہ یہ خبریں قریش کو پہنچ چکی تھیں لیکن قریش نے انہیں کوئی اہمیت نہ دی، غالباً انہوں نے محمدﷺ کو بھی اسی طرح کا کوئی دینی آدمی سمجھا جو الوہیت اور حقوق الوہیت کے موضوع پر گفتگو کرتے ہیں۔ جیسا کہ اُمیہ بن ابی الصلت، قُس بن ساعدہ اور زید بن عمرو بن نفیل وغیرہ نے کیا تھا۔ البتہ قریش نے آپ کی خبر کے پھیلاﺅ اور اثر کے بڑھاﺅ سے کچھ اندیشے ضرور محسوس کئے تھے اور ان کی نگاہیں رفتار زمانہ کے ساتھ آپ کے انجام اور آپ کی تبلیغ پر رہنے لگی تھیں۔

تین سال تک تبلیغ کا کام خفیہ اور انفردای رہا اور اس دوران اہل ایمان کی ایک جماعت تیار ہوگئی جو اخوت اور تعاون پر قائم تھی۔ اللہ کا پیغام پہنچا رہی تھی اور اس پیغام کو اس کا مقام دلانے کے لیے کوشاں تھی۔ اس کے بعد وحی الہٰی نازل ہوئی اور رسول اللہﷺ کو مکلف کیا گیا کہ اپنی قوم کو کھلم کھلا دین کی دعوت دیں، ان کے باطل سے ٹکرائیں اور ان کے بتوں کی حقیقت واشگاف کریں۔

Your Thoughts and Comments